مون سون شروع،آٹو میٹک رین گیج منصوبہ تاحال نامکمل
منصوبے کا مقصدصوبہ بھر میں اربن فلڈنگ کی صورتحال میں بارشوں کی مقدار، شدت،دورانیے سے متعلق بروقت اور درست ڈیٹا حاصل کرنا تھا لاہور میں صرف15مقامات پر پائلٹ پراجیکٹ کے طور پرگیجز نصب ہوسکے ، ڈی جی واسا نے تاخیر پر تمام منیجنگ ڈائریکٹرز سے رپورٹ طلب کر لی
لاہور (سٹاف رپورٹر سے) مون سون سیزن کے آغاز کے باوجود پنجاب میں بارشوں کی جدید مانیٹرنگ کا منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ صوبے کے مختلف واسا اداروں میں آٹومیٹک رین گیج سسٹم کی تنصیب کا منصوبہ گزشتہ برس شروع کیا گیا تھا، تاہم مقررہ اہداف حاصل نہ کیے جا سکے۔ منصوبے کا مقصد بارشوں کی مقدار، شدت اور دورانیے سے متعلق بروقت اور درست ڈیٹا حاصل کرنا تھا تاکہ اربن فلڈنگ کی صورتحال میں فوری فیصلے کیے جا سکیں، مگر بیشتر شہروں میں آٹومیٹک رین گیجز نصب ہی نہیں کیے جا سکے۔ لاہور میں صرف 15 مقامات پر پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر آٹومیٹک رین گیجز نصب کیے گئے، تاہم اس کے بعد منصوبے پر پیش رفت رک گئی اور اسے دیگر شہروں تک توسیع نہ دی جا سکی۔ ذرائع کے مطابق سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے تمام واسا اداروں کو 7 روز کے اندر آٹومیٹک رین گیجز نصب کرنے کی ہدایت جاری کی تھی، لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اس دوران متعدد مراسلے جاری کیے گئے، تاہم عملی پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔
حکام نے مینوئل رین مانیٹرنگ ختم کرکے مکمل ڈیجیٹل نظام اختیار کرنیکا اعلان کیا تھا، لیکن عملی طور پر بیشتر واسا ادارے اب بھی روایتی طریقہ کار کے تحت بارشوں کا ریکارڈ مرتب کر رہے ہیں۔ بارشوں کے درست اور فوری ڈیٹا کی فراہمی کے وعدے بھی ادھورے رہ گئے، جبکہ مون سون سے قبل منصوبہ مکمل نہ ہونے کے باعث جدید مانیٹرنگ سسٹم سے متوقع فوائد حاصل نہیں کیے جا سکے۔ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی واسا پنجاب نے آٹومیٹک رین گیجز کی تنصیب میں تاخیر پر تمام منیجنگ ڈائریکٹرز سے رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ منصوبے پر عملدرآمد اور پیش رفت کی تفصیلات بھی مانگ لی گئی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments