سرکلر گارڈن کی بحالی 14 سکولوں، مدارس کو منتقل کرنے کا منصوبہ

سرکلر گارڈن کی بحالی 14 سکولوں، مدارس کو منتقل کرنے کا منصوبہ

سی آئی اے کوتوالی، پنجاب پولیس کے زیر استعمال 15 کنال 8 مرلے سے زائد اراضی پر نئے سکول تعمیر کرنیکی تجویزپولیس کوارٹرز کے قریب موجود 15 کنال 10 مرلے سے زائد رقبہ بھی تعلیمی اداروں کے لیے مختص کرنے کا پلان تیار

لاہور ( شیخ زین العابدین )سرکلر گارڈن کی بحالی کے لیے بڑا پلان سامنے آ گیا، منصوبے کی راہ میں آنے والے 14سکولوں اور مدارس کو موجودہ مقامات سے منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔سرکلر گارڈن کی بحالی کے لیے تقریباً 40 کنال سرکاری اراضی کو قابلِ استعمال بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جبکہ نئی تعلیمی عمارتوں کے لیے مختلف مقامات کی نشاندہی بھی مکمل کر لی گئی۔سی آئی اے کوتوالی، پنجاب پولیس کے زیر استعمال 15 کنال 8 مرلے سے زائد اراضی پر نئے سکول تعمیر کرنے کی تجویز ہے ، جبکہ پولیس کوارٹرز کے قریب موجود 15 کنال 10 مرلے سے زائد رقبہ بھی تعلیمی اداروں کے لیے مختص کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے ۔

منصوبے کے تحت 11کنال 12 مرلے سے زائد نجی اراضی بھی ایکوائر کی جائے گی، نجی زمین کی خریداری کے لیے 21 لاکھ 60 ہزار روپے فی مرلہ ڈی سی ریٹ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔نئے سکولوں کی تعمیر کے ساتھ کلاس رومز اور فرنیچر کی فراہمی پر مجموعی طور پر 6کروڑ 67 لاکھ 24 ہزار روپے خرچ ہونے کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے ۔سرکلر گارڈن کے راستے میں آنے والی تجاوزات کے خاتمے کے لیے بھی کارروائی پلان کا حصہ ہے ، 8 کنال 19 مرلے سے زائد اراضی خالی کرانے کی تجویز دی گئی ہے ۔مستی گیٹ کے دو اہم تعلیمی ادارے بھی منتقلی کی فہرست میں شامل ہیں۔ گورنمنٹ گرلز مڈل سکول مستی گیٹ اور سپیشل ایجوکیشن سکول فورٹ روڈ کو موجودہ مقامات سے نئی جگہ منتقل کیا جائے گا۔ٹیکسالی گیٹ سے بھاٹی گیٹ تک موجود دو ادارے بھی منصوبے کی زد میں آ گئے ۔

ایم سی ایل گرلز مڈل سکول بھاٹی گیٹ اور گورنمنٹ جامعہ حنفیہ مدرسہ کو نئے مقامات پر منتقل کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے ۔لوہاری گیٹ، شاہ عالم گیٹ اور موچی گیٹ کے اطراف موجود متعدد سکولوں اور مدارس کی بھی منتقلی تجویز کی گئی ہے ۔یکی گیٹ سے مستی گیٹ تک مدرسہ دعوت اسلامی ا ور مدرسہ تحفیظ القرآن کو منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ، جبکہ اکبری گیٹ سے یکی گیٹ تک گورنمنٹ جونیئر ماڈل سکول بھی نئی جگہ منتقل ہوگا۔ سرکلر گارڈن کی بحالی کے لیے سرکاری زمین کے ساتھ نجی اراضی بھی استعمال میں لائی جائے گی، جبکہ مختلف مقامات پر نئے تعلیمی ادارے تعمیر کرکے منتقل کیے جانے والے سکولوں اور مدارس کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کی تجویز ہے ۔پلان کے مطابق پرانے مقامات خالی ہونے کے بعد سرکلر گارڈن کی بحالی کا راستہ ہموار ہوگا، جبکہ نئے مقامات پر تعلیمی اداروں کی تعمیر سے موجودہ اداروں کو متبادل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...