ایل ڈبلیوایم سی:آڈٹ اعتراضات پر ریکارڈ اور ڈیٹا طلب
پی اے سی اجلاس میں محکموں اور خودمختار اداروں بارے آڈٹ پیراز کاجائزہ
لاہور (سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے دیے گئے 7 کروڑ 30 لاکھ کے سیکنڈری ویسٹ ٹرانسپورٹیشن کنٹریکٹ کا جائزہ لیتے ہوئے آڈٹ اعتراضات پر متعلقہ محکموں سے ریکارڈ اور مطلوبہ ڈیٹا طلب کر لیا۔ کمیٹی نے آڈٹ پیراز پر عملدرآمد میں تاخیر اور ایل ڈبلیو ایم سی و آڈٹ کے درمیان رابطہ کاری کے فقدان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔پی اے سی تھری کا اجلاس تنویر اسلم ملک، ایم پی اے کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی میں ہوا، جس میں پنجاب اسمبلی کے ارکان، اسمبلی افسران اور مختلف سرکاری محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، اس کے منسلک محکموں اور خودمختار اداروں سے متعلق آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے 73 ملین روپے کے سیکنڈری ویسٹ ٹرانسپورٹیشن کنٹریکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا کہ کنٹریکٹر کے پاس متعلقہ ویسٹ مینجمنٹ کا مطلوبہ تجربہ موجود نہیں تھا، جبکہ ایمرجنسی کی بنیاد پر دیا گیا کنٹریکٹ پی پی آر اے رولز کے تحت مقررہ 90 روز کی مدت سے تجاوز کر گیا تھا۔محکمے کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس وقت ہنگامی صورتحال اور متعلقہ شعبے میں محدود خصوصی مہارت کے باعث یہ خریداری عمل میں لائی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments