نیٹ میٹرنگ پر غیر اعلانیہ پابندی عائد
نیپرا کی اجازت کے باوجود 5ماہ سے نیٹ میٹرنگ کی نئی درخواستوں پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا،ہزاروں صارفین محروم عوام کا غم وغصہ، نیپرا قواعد وضوابط کی صریح خلاف ورزی کررہا، مہنگی بجلی پیدا کرنے والے آئی پی پیز کو فائدہ پہنچانے کا الزام
ملتان (خصوصی رپورٹر)5 ماہ سے نیٹ میٹرنگ پر غیراعلانیہ پابندی، نیپرا احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی عوام سراپااحتجاج ،ملک میں توانائی کے شعبے میں ایک نیا بحران سر اٹھانے لگا۔ ذرائع کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)کی واضح اجازت کے باوجود نیٹ میٹرنگ کیسز کو مبینہ طور پر گزشتہ پانچ ماہ سے روکا جا رہا ہے ، جس پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے ۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژنز کو غیر اعلانیہ ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ نیٹ میٹرنگ کی نئی درخواستوں پر عملدرآمد نہ کریں، جس کے باعث ہزاروں صارفین سستی اور ماحول دوست بجلی کے حق سے محروم ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف نیپرا کے قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے مہنگی بجلی پیدا کرنے والے آئی پی پیز کو فائدہ پہنچانے کا تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے۔
عوامی حلقے اسے توانائی کے شعبے میں بدانتظامی اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے تعبیر کر رہے ہیں۔شہریوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے ، نیپرا احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ادھر مختلف شہروں میں سول سوسائٹی ، تاجروں و شہری تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی تیاری کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جہاں شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر نیٹ میٹرنگ پر رکاوٹیں ختم نہ کی گئیں تو احتجاج کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے ۔توانائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس دوغلی و کرپشن زدہ خفیہ پالیسی کو جاری رکھا گیا تو نہ صرف قابل تجدید توانائی کے فروغ کو شدید دھچکا پہنچے گا بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول بھی متاثر ہو سکتا ہے ۔