ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجویز امریکا کو موصول

تہران: (دنیا نیوز) امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجویز پیش کر دی ہیں جن میں جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔

امریکی حکام اور باخبر ذرائع کے مطابق یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعطل برقرار ہے اور ایرانی قیادت کے اندر اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق کس حد تک رعایت دی جائے۔

ایرانی تجویز کا مقصد اس حساس معاملے کو فی الحال پس پشت ڈال کر فوری طور پر کسی معاہدے تک پہنچنا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ناکہ بندی ختم ہو جاتی ہے اور جنگ کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی وہ اہم سفارتی برتری کھو سکتے ہیں جس کے ذریعے وہ ایران کو افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے اور یورینیم کی افزودگی روکنے پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ آج ایران کی صورتحال پر وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ اہم اجلاس کریں گے جس میں مذاکراتی تعطل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا، نئی ایرانی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی ہے، اس میں پہلے آبنائے ہرمز کے بحران اور امریکی ناکہ بندی کے خاتمے پر توجہ دینے کی بات کی گئی ہے۔

اس کے تحت یا تو جنگ بندی کو طویل مدت کیلئے بڑھایا جائے گا یا جنگ کے مستقل خاتمے پر اتفاق کیا جائے گا، جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں شروع کیے جائیں گے، وائٹ ہاؤس نے اس تجویز کی وصولی کی تصدیق کی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکا اس پر غور کرنے کیلئے تیار ہے یا نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں