5860 سکول نجکاری کیلئے شارٹ لسٹ، تحفظات بڑھ گئے

5860 سکول نجکاری کیلئے شارٹ لسٹ، تحفظات بڑھ گئے

5860 سکول نجکاری کیلئے شارٹ لسٹ، تحفظات بڑھ گئے فیصلہ فوری طور پر واپس اور خالی آسامیوں کو پر کیا جائے ، اساتذہ تنظیموں کا مطالبہ

ملتان (خصوصی رپورٹر) محکمہ سکولز پنجاب نے فیز فور کے تحت صوبے کے 5860 پرائمری اور ایلیمنٹری سکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)ماڈل کے تحت آؤٹ سورس کرنے کے لیے شارٹ لسٹ کر لیا ہے ۔ محکمہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسے سکولوں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے جہاں اساتذہ کی شدید کمی یا طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے ۔محکمہ سکولز کے سروے کے مطابق شارٹ لسٹ کیے گئے 567 سکول ایسے ہیں جہاں کوئی استاد موجود نہیں جبکہ 2555 سکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے ۔ اسی طرح 2741 سکولوں میں 50 طلبہ کے لیے صرف دو اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ نجی شعبے کے تعاون سے ان سکولوں کا تعلیمی معیار بہتر ہوگا، سکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں لایا جا سکے گا اور سرکاری وسائل پر بوجھ بھی کم ہوگا۔دوسری جانب اساتذہ تنظیموں اور ماہرین تعلیم نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سکولوں کی نجکاری سے فیسوں میں اضافے کا خدشہ ہے ، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے تعلیم کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 25اے کے تحت مفت تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے ۔اساتذہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ماضی میں آؤٹ سورس کیے گئے بعض سکولوں کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے ، جبکہ سپیشلائزڈ اساتذہ کے ضیاع کا خدشہ بھی موجود ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نجکاری کا عمل روک کر خالی آسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں اور سرکاری تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں