کبیروالا میں کتا مار مہم ناقص حکمت عملی کا شکار ہونے لگی
چوپڑہٹہ (نمائندہ دنیا)کبیروالا میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے آوارہ اور باؤلے کتوں کی روک تھام اور خاتمے کیلئے شروع کی گئی ‘‘کتا مار مہم’’ کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔۔۔۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ ناقص ادویات کے استعمال کے باعث کئی آوارہ کتے مرنے کے بجائے بے ہوشی یا نیم بے ہوشی کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں اور اس دوران انسانوں اور جانوروں پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض کتوں کے گھروں میں داخل ہونے کے واقعات بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔اہل علاقہ کے مطابق پنجاب لوکل گورنمنٹ کے ذریعے جاری مہم کیلئے تعینات عملے کے پاس مطلوبہ تجربہ نہیں، جبکہ یونین کونسلوں میں پہلے ہی افرادی قوت کی کمی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث کروڑوں روپے کے فنڈز سے جاری منصوبے کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے ۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کتوں کو دی جانے والی ادویات کے نمونے حاصل کرکے ان کا لیبارٹری ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ معیار اور اثرات کا تعین ہوسکے ۔ ان کا الزام ہے کہ بعض ذمہ داران زمینی حقائق کے برعکس اعلیٰ حکام کو مہم کی کامیابی سے متعلق مبینہ طور پر بوگس رپورٹس بھیج رہے ہیں، جس کے باعث اصل صورتحال حکام تک نہیں پہنچ رہی۔اہل کبیروالا کے مطابق آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد شہریوں، خصوصاً بچوں اور بزرگوں کیلئے خطرہ ہے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کبیروالا سمیت ضلع خانیوال میں مہم کی غیرجانبدارانہ تحقیقات، ادویات کے معیار اور طریقہ کار کی جانچ اور مبینہ بوگس رپورٹس کا نوٹس لیا جائے ۔ تربیت یافتہ عملہ تعینات کرکے سرکاری فنڈز کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments