جدید زرعی مشینری سے دھان کی باقیات جلانے میں 70 فیصد کمی

جدید زرعی مشینری سے دھان کی باقیات جلانے میں 70 فیصد کمی

پنجاب میں 1260 جدید ہارویسٹرز، 450 بیلرز اور 10 ہزار سپر سیڈرز کی فراہمی

ملتان (وقائع نگار خصوصی)پنجاب میں جدید زرعی مشینری کے فروغ سے دھان کی کٹائی، فصلوں کی باقیات کے مؤثر انتظام اور گندم کی کاشت کے طریقوں میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے ۔ ماضی میں دھان کی کٹائی کے لئے افرادی قوت اور پرانی ہارویسٹرز استعمال کی جاتی تھیں، جس سے وقت اور وسائل ضائع ہونے کے ساتھ گندم کی کاشت میں تاخیر اور پیداوار میں کمی جیسے مسائل پیدا ہوتے تھے ۔ فصلوں کی باقیات جلانے سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا تھا، جبکہ روایتی طریقوں سے گندم کی کاشت پر اخراجات بھی زیادہ آتے تھے ۔ محکمہ زراعت پنجاب نے سموگ کنٹرول، فصلوں کی باقیات کے مؤثر انتظام اور جدید زرعی مشینری کے فروغ کو ترجیح دی ہے ۔ اس مہم کی نگرانی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کر رہی ہیں۔ محکمہ زراعت کاشتکاروں کو فصلوں کی باقیات جلانے کے نقصانات اور جدید زرعی طریقوں کے فوائد سے آگاہ کر رہا ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب ہائی ٹیک فارم میکانائزیشن فنانسنگ پروگرام کے تحت کاشتکاروں اور سروس پرووائیڈرز کو جدید زرعی مشینری بلا سود اور آسان اقساط پر فراہم کی جا رہی ہے ۔ پروگرام کے تحت اب تک 1260 جدید کبوٹا ہارویسٹرز فراہم کئے جا چکے ہیں، جبکہ فصلوں کی باقیات کی گانٹھیں بنانے اور انہیں صنعتی استعمال کے لئے فروخت کرنے کی غرض سے 450 بیلرز متعارف کرائے گئے ہیں۔گندم کی کاشت کے لئے 10 ہزار سپر سیڈرز 60 فیصد سبسڈی پر فراہم کئے گئے ہیں۔ یہ مشینیں فصلوں کی باقیات زمین میں ملانے ، بیج اور کھاد کو قطاروں میں ڈالنے اور سہاگے کا کام بیک وقت کرتی ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...