واٹر سپلائی اسکیم کی جگہ پر قبضہ کی کوشش پائپ پھٹنے سے علاقےمیں پانی بھر گیا

واٹر سپلائی اسکیم کی جگہ پر قبضہ کی کوشش پائپ پھٹنے سے علاقےمیں پانی بھر گیا

واٹر سپلائی سکیم کے اطراف پانی کھڑا رہنے سے شاہراؤں سے گزرنا تک محال ہو گیا، شہری پریشان ،واٹر سپلائی محکمہ پبلک ہیلتھ نے بنائی تھی ،میونسپل کارپوریشن سرگودھا حکام

 سرگودھا(سٹاف رپورٹر) میونسپل کارپوریشن سرگودھا کے افسران کی مبینہ ملی بھگت کے باعث گلشن جمال کالونی /گل والا واٹر سپلائی اسکیم کی جگہ پر قبضہ کی کوشش کے دوران مین پائپ لائن پھٹنے سے پینے کا پانی ملحقہ سڑک اور احاطہ جات میں بھر گیا۔ بیلف کے ذریعے علاقہ مکینوں نے مداخلت کرکے قبضہ کی کوشش ناکام بنا دی تاہم پائپ لائن مرمت نہ ہونے کے باعث ہزاروں مکینوں کو پانی کی سپلائی معطل جبکہ واٹر سپلائی سکیم کے اطراف پانی کھڑا رہنے سے شاہراؤں سے گزرنا تک محال ہو گیا،جبکہ واٹر سپلائی سکیم کے اطراف پانی کھڑا رہنے سے شاہراؤں سے گزرنا تک محال ہو گیا اس واٹر سپلائی کا کچھ رقبہ ریلوے کا اور کچھ ٹی ایم اے کا تھا

جو کہ بعد ازاں محکمہ ریلوے سے بلدیہ سرگودھا نے اپنے نام کرلیا تھا مبینہ طور پر محکمہ ریونیو کے ایک سابق اہلکار نے عدالت میں رقبہ اپنے نام کرانے کے لئے کیس دائر کیا مذکورہ واٹر سپلائی واسا کے ہینڈ اوور ہوئے آٹھ ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا ہے لیکن بلدیہ کے کرپٹ افسران نے عدالت سے کیس ہارنے کے باوجود کیس بارے واسا کو نہ بتایا اورگزشتہ روز بااثر افراد نے جگہ پر قبضہ کے لئے بھاری مشینری کے ساتھ دیواریں توڑدیں اور پینے کے پانی کے ٹینک کو مٹی سے بھرنے لگے تو علاقہ مکین پہنچ گئے اور مشینری کے آگے کھڑے ہوگئے صورتحال خراب ہونے پر لوگ چلے گئے تاہم اس دوران واٹر سپلائی اسکیم کی مین پائپ لائن ٹوٹنے سے پانی ابل کر سڑک پر کھڑا ہو گیا، واسا کا کہنا کہ بلدیہ کی مبینہ ملی بھگت سے یہ سب ہوا ہے کیس بارے واسا کو نہیں بتایا گیا فیصلے کے خلاف اپیل کرینگے میونسپل کارپوریشن سرگودھا حکام کا کہنا کہ واٹر سپلائی محکمہ پبلک ہیلتھ نے بنائی تھی جبکہ رجسٹری پرائیویٹ شخص کے نام کی ہے جس کیخلاف بلدیہ نے ہائی کورٹ تک کیس لڑا ہے رجسٹری ہونیکی وجہ سے فیصلہ مذکورہ شخص کے حق میں ہوا ہے، انہوں نے ارباب اختیا رسے یہ مسئلہ ترجیح بنیادو پر حل کر کے ذمہ دار و ں کے خلاف ایکشن لیتے ہو ئے واٹر سپلائی اسکیم بحال کروائی جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں