ادویات کے ڈسٹری بیوشن دفاتر کمیشن سنٹر میں تبدیل

ادویات کے ڈسٹری بیوشن دفاتر کمیشن سنٹر میں تبدیل

مقامی سطح پر تیار ہونیوالی سستی ادویات بھی 300فیصداضافہ کر دیاغیر معیاری ادویات کی بھرمار بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں، ذرائع

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کے ساتھ ساتھ ضلع میں جعلی اورسب سٹینڈرڈ ا دویات کے کاروبارکا بڑھتا ہوا حجم باعث تشویش بننے لگا،اور کمپنیوں کے ڈسٹری بیوشن دفاتر‘‘ کمیشن سنٹر’’ میں تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں، ذرائع کے مطابق رجسٹرڈ ادویات کی آڑ میں خصوصی مراعات دے کر مقامی سطح پر تیار ہونیوالی سستی ادویات بھی 300فیصد زائد قیمتوں پر فروخت کر کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے ،ا س ضمن میں حساس ادارہ پہلے ہی نشاندہی کر چکا ہے کہ ایک نمبر پیکنگ میں کم نتائج دینے والی ادویا ت کے علاوہ غیر معیاری ادویات کی بھرمار سے اموات کی شرح میں اضافہ کے علاوہ نت نئی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں، بیس روپے میں تیار ہونیوالی دوائی تین سے چار سو روپے تک فروخت کی جاتی ہے جس میں زیادہ تر انجکشنز ہیں، ضلع میں 54ڈسٹری بیوٹرز اور 97ہول سیلر ز ہیں جن کی ماہانہ آمدن 50لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک ہے ذرائع کے مطابق مہنگی ادویات کی فروخت کا لالچ دے کر ڈاکٹرز کو مراعات کے علاوہ غیر ملکی دورے کروانے کیلئے کمپنیوں میں مقابلہ بازی کے رجحان میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔،سب سے زیادہ کمائی جعلی انجکشنز میں ہو رہی ہے جواصل کی نسبت 5فیصد نتائج بھی نہیں دیتے۔ جبکہ عوام ڈاکٹرز کے لکھے ہر نسخے پر عمل کرنے اور لٹنے پر مجبور ہیں،شکایات کے باوجود حکام نے چمک کے عوض آنکھیں موندھ رکھی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں