مہنگائی بے قابو حکومتی ریٹ پر سوالیہ نشان

مہنگائی بے قابو حکومتی ریٹ پر سوالیہ نشان

پٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر دکانداروں کی من مانیوں سے حکومتی رٹ کا قیام ایک چیلنج ،اشیاء کی مصنوعی قلت ، حکام سے نو ٹس کا مطالبہ

سرگودھا (سٹاف رپورٹر )ضلعی حکومت کی جانب سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں کے تعین اور انہیں متوازن رکھنے کے حوالے سے کاغذی کارروائیوں میں اضافہ زمینی حقائق کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے ۔ بالخصوص پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر من مانیوں کے باعث حکومتی رٹ کا قیام ایک چیلنج بن گیا ہے ۔مقامی سطح پر دستیاب متعدد اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتوں میں اضافہ معمول بن چکا ہے ۔ انتظامیہ کے دعوؤں کے باوجود بیشتر ڈیلرز سرکاری نرخوں پر اشیاء فروخت کرنے سے انکاری ہیں، جس کے باعث سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے ۔مارکیٹ میں چاول کی قیمت 320 سے 400 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے ، دال چنا 320 روپے ، ثابت مسور دال 420 روپے ، ماش دال 600 روپے ، مونگ دال 440 روپے ، سفید چنا 380 روپے ، کالے چنے 340 روپے اور بیسن 320 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے ۔

اسی طرح لہسن، ادرک اور سبزیوں بشمول ٹینڈے ، اروی، گوبھی، پھلیاں اور بھنڈی بھی اضافی نرخوں پر دستیاب ہیں۔ذرائع کے مطابق پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پہلے ہی غیر تسلی بخش قرار دی جا چکی ہے ، تاہم انتظامیہ کی جانب سے مؤثر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے ۔ ڈیلرز اور سٹاکسٹوں کا ریکارڈ مرتب ہونے کے باوجود عملی نگرانی نہ ہونے کے برابر ہے ۔شہریوں نے صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے اور مہنگائی پر قابو پانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں