دیہی علاقوںمیں بنیادی مراکز صحت میں سہولتوں کا فقدان

دیہی علاقوںمیں بنیادی مراکز صحت میں سہولتوں کا فقدان

دیہی علاقوںمیں بنیادی مراکز صحت میں سہولتوں کا فقدانسٹاف کی کمی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث اہداف پورے نہیں کئے جارہے

سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) سرگودھا میں جہاں ای پی آئی پروگرام پر ناقص عملدرآمد کے باعث صحت کے مقررہ اہداف تک رسائی ایک چیلنج ہے وہاں ہیلتھ اتھارٹی کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے پسماندہ علاقوں میں قائم بنیادی مراکز صحت میں علاج معالجہ کی صورتحال انتہائی دگر گوں ہو کر رہ گئی ہیں، بالخصوص آؤٹ سورس کئے گئے 24/7قرار دیئے گئے ہسپتالوں میں پیرا میڈیکل سٹاف کی کمی اور ناقص منصوبہ بندی سے پنجاب حکومت کے مختلف پروگراموں پر عملدرآمد سرکاری ریکارڈ مکمل کرنے تک محدود ہوکر رہ گیاہے ، ای پی آئی پروگرام سمیت پولیو اور ڈینگی مہم کے لئے دفتری عملہ بھی لگانا پڑ رہاہے ،اس کے باوجود اہداف پورے نہیں ہو رہے اور ڈویژنل و ضلعی حکام نالاں ہیں،اور چند روز قبل ای پی آئی پروگرام پر عملدرآمدکی بوگس رپورٹنگ کے انکشاف پر ڈپٹی کمشنر سرگودھا نے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن کے احکامات جاری کئے مگر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا،اسی طرح 24 گھنٹے ایمر جنسی والے بیشتر بنیادی مراکز میں سے اکثر مراکز میں ناتجربہ کار عملے کے باعث مریضوں بالخصوص حاملہ خواتین اوران کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا ہے ،معلوم ہوا ہے کہ متذکرہ بیشتر ہسپتال انتہائی پسماندہ دوردراز علاقوں میں قائم ہیں۔،متعلقہ علاقوں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے کے وسائل ہونے کے باوجود وہ دوردراز کے شہری علاقوں کے نجی ہسپتالوں یا عطائیوں کے رحم و کرم پر ہیں،جس پر ارباب اختیار کو ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں