موبائل وہیکل کلینک پروگرام ابتدا میں ہی ناکام

موبائل وہیکل کلینک پروگرام ابتدا میں ہی ناکام

جن علاقوں میں ٹیمیں جاتی ہیں ان میں اکثر میڈیکل آفیسر تو کبھی ویکسی نیٹر یا دیگر سٹاف غیر حاضر ہوتے ہیں ، چیک ہونیوالے مریضوں کا اندراج موقع پر نہیں کیا جاتا فیلڈ میں ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں، افسران دفاتر میں بیٹھ کر ہی وزٹ کی کاروائیاں کر کے اخراجات پورے کرنے میں مصروف ہیں

سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) وزیر اعلی مریم نواز شریف کاموبائل وہیکل کلینک پروگرام ہیلتھ اتھارٹی سرگودھا کی ڈنک ٹپاؤ پالیسی کے باعث ابتداء میں ہی افادیت کھونے لگا ہے ، ذرائع کے مطابق انکشاف ہوا ہے کہ موبائل وہیکل کلینک پروگرام کے تحت جن علاقوں میں ٹیمیں جاتی ہیں ان میں اکثر میڈیکل آفیسر تو کبھی ویکسی نیٹر یا دیگر سٹاف غیر حاضر ہوتے ہیں ، بعض علاقوں/ جگہوں کی چیکنگ کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ چیک ہونیوالے مریضوں کا اندراج موقع پر نہیں کیا جاتا اور دفاتر میں بیٹھ کر کاغذی کاروائیاں کی جاتی ہیں، رپورٹ میں بوگس انٹریوں کے اندراج کی بھی واضح نشاندہی کی گئی جو کہ باعث تشویش امر ہے ،جبکہ حکومت اس پروگرام کو فعال کرنے کیلئے خطیر فنڈز اور وسائل خرچ کر رہی ہے ،فیلڈ میں ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں، افسران دفاتر میں بیٹھ کر ہی وزٹ کی کاروائیاں کر کے اخراجات پورے کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ موبائل وہیکل کلینک کا یہ پروگرام روایتی ہٹ دھرمی اور عدم توجہی کی نذر ہوتا جا رہا ہے ، شہریوں کی جانب سے اعلی حکام کو فوری نوٹس لے کر مناسب اقدامات اٹھانے اور چیک اینڈ بیلنس بڑھا کر مذکورپروگرام کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ قبل از یں ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کو سرویلنس رپورٹ میں بعض متذکرہ معاملات کی نشاندہی کی جا چکی ہے جس پر سابق سی او ہیلتھ سے اس سلسلہ میں جواب بھی طلب کیا گیا تاہم ہیلتھ اتھارٹی سب اچھا کا راگ الاپنے اور مذکورہ حقائق چھپاکر ذمہ داروں کو بچانے میں مصروف ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں