نہری پانی کی عدم فراہمی ، بیشتر کاشتکار دوہری اذیت کا شکار

نہری پانی کی عدم فراہمی ، بیشتر کاشتکار دوہری اذیت کا شکار

محکموں کے افسران ، ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے بااثر زمیندار ٹیل تک رکاوٹ

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) بدانتظامی کے باعث نہری پانی کی مساوی طریقے سے عدم فراہمی کی وجہ سے ضلع میں بیشتر کاشتکار دہری اذیت کا شکار ہو کر سراپا احتجاج بن کر رہ گئے جبکہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔حکومتی احکامات پر خصوصی خصوصی گائیڈ پر عملدرآمد صرف سرکاری ریکارڈ کا پیٹ بھرنے تک محدود ہیں اور اسی بنیادی وجہ سے صورتحال بہتر نہیں ہو رہی متعلقہ محکموں کے افسران ، ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے بااثر زمیندارجو کہ ٹیل تک پانی کے مساویانہ طریقہ پر عملدرآمد میں رکاوٹ ہیں پہلے ہی زیادہ مقدار میں پانی حاصل کرلیتے ہیں، بیشتر دیہاتوں کو جانے والی نہروں پر پانی کھینچنے والے غیر قانونی موٹر پمپ نصب ہیں محکمہ انہار کی حالیہ دنوں کے دوران کاروائیوں میں ایسے بیسیوں مقامات سے پمپ اور زمین دوز پائپ برآمدبھی ہو چکے ہیں۔

اس دوران ایسے بااثر افراد کی بڑی تعداد بھی سامنے آئی جو کہ بے دریغ موگہ جات مسمار کر کے سرکاری املاک کو الگ سے نقصان پہنچاتے ہیں اور حالیہ آپریشن کے بعد بھی صورتحال بہتر ہونے کی بجائے بدستور جوں کی توں ہے شمالی اور جنوبی نہری شاخوں کی صورتحال ایک جیسی ہے چھوٹے کاشتکاروں کے مطابق ان غیر قانونی موٹر پمپوں کی وجہ سے ٹیل تک کی زمینوں کو بعض اوقات ایک قطرہ بھی پانی کا نہیں مل رہا اسکے ساتھ ساتھ موسمی شدت کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اور کاشتکار مزید نقصان سے بچنے کیلئے اپنی زمینوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں،اربا ب اختیار کو چیک اینڈ بیلنس بڑھانے اور مربوط حکمت عملی اپنا کر صورتحال کا تدارک یقینی بنائیں ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں