سولر پارک اور شمسی توانائی کے منصوبوں کا خواب فائلوں میں دب کر رہ گیا
سیاسی کشمکش اور مختلف ادوار میں ترجیحات تبدیل ہونے کے باعث منصوبہ عملی مرحلے میں داخل نہ ہو سکا۔ مختلف محکموں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مراسلوں کا سلسلہ ایک عرصے تک جاری رہا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا ڈویژن میں توانائی کے بحران، صنعتی ترقی اور متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کیلئے تجویز کیا گیا سولر پارک اور شمسی توانائی کے مختلف منصوبوں کا خواب سیاسی کشمکش، حکومتی عدم توجہی اور ادارہ جاتی سست روی کی نذر ہو کر فائلوں میں دب کر رہ گیا ہے ،ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سابق صوبائی حکومتی دور میں سرگودھا ڈویژن کے مختلف علاقوں میں شمسی توانائی کے منصوبے لگانے کی تجویز تیار کی گئی تھی۔
منصوبے کے تحت بھیرہ، بھلوال روڈ پر 13 شمالی، ضلع خوشاب میں 62 ایم بی کے مقام پر دو، دو میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے سولر سسٹمز قائم کیے جانے تھے ، جبکہ منڈی ٹاؤن قائدآباد اور ضلع بھکر میں بھی پانچ، پانچ میگاواٹ صلاحیت کے سولر سسٹمز لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی اس منصوبے کا بنیادی مقصد مقامی سطح پر متبادل اور نسبتاً سستی توانائی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں صنعتی سرگرمیوں کیلئے بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں معاونت فراہم کرنا تھا تاہم حکومت کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی کشمکش اور مختلف ادوار میں ترجیحات تبدیل ہونے کے باعث منصوبہ عملی مرحلے میں داخل نہ ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے حوالے سے مختلف محکموں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مراسلت کا سلسلہ ایک عرصے تک جاری رہا۔ متعلقہ مقامی حکومتوں سے ابتدائی امور، مجوزہ مقامات اور دیگر ضروری معاملات کے حوالے سے سفارشات بھی طلب کی گئیں، تاہم ابتدائی مرحلے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد فزیبلٹی رپورٹس کی تیاری کا کام آگے نہ بڑھ سکا۔شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ منصوبہ بہت اہم ہے لہٰذا حکومت پر زور دیا جائے کہ وہ اس منصوبے کو جاری رکھے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments