وادی سون کو ٹورازم پوائنٹ بنانے کیلئے سرمایہ ضائع ہونیکا خدشہ
وادی سون کو ٹورازم پوائنٹ بنانے کیلئے سرمایہ ضائع ہونیکا خدشہ وادی کی خوبصورت جھیل موسمی تغیرات کی لپیٹ میں آ کر خشک ہو گئی
خوشاب(نمائندہ دُنیا)ضلع خوشاب کے جنت نظیر علاقہ وادی سون کو بین الاقوامی معیار کا ٹورازم پوائنٹ بنانے کیلئے خرچ ہونیوالا خطیر قومی سرمایہ ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا،سائیبیریا سے نقل مکانی کرکے آنیوالے نایاب پرندوں کا مسکن وادی کی خوبصورت ترین کھبیکی جھیل موسمی طغیرات کی لپیٹ میں آ کر خشک ہو گئی جس کی وجہ سے پورے علاقہ کا قدرتی حسن ماند پڑ چکا ہے ،بین الاقوامی شہرت کی حامل یہ خوبصورت ترین جھیل 1421ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جس میں اب پانی کی بجائے دور دور تک اُڑنے والی دھول ارباب اختیار کا منہ چڑ رہی ہے ، جھیل کی ویرانی کے باعث کشتی رانی کے شوقین اور نایاب پرندوں و خوبصورت مچھلیوں کے نظارہ کیلئے آنیوالے والے افراد علاقہ سے منہ موڑ رہے ہیں اور جھیل کے اطراف میں کوئی سیاح تو کجا مقامی افراد بھی نظر نہیں آتے ۔وادی ستم کا علاقہ معتدل آب و ہوا اور دلفریب قدرتی مناظر کے لحاظ سے کسی بھی طرح پاکستان کے بارونق سیاسی مقامات مری اور کاغان سے کم نہیں اس لئے حکومت کی جانب سے اسے بین الاقوامی معیار کا سیاحتی مرکز بنانے کیلئے وادی کی تین خوبصورت جھیلوں کھبیکی اوچھالی اور جاہلر کی تزئیں و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ کیے تھے لیکن کھبیکی جھیل کی وہیارنی کے باعث مطلوبہ مقاصد پورے ہوتے نظر نہیں آتے ، علاقہ کے مکینوں نے محکمہ سیاحت اور منتخب اراکین اسمبلی سے استدعا کی کہ کھیلی جھیل کی بحالی پر فوری توجہ ترکوز کریں ۔اگر اس خوبصورت علاقہ کے قدرتی حسن کی بحالی پر توجہ نہ دی گئی تق وادی کی دیگر دو جھیلیں بھی خشک ہو سکتی ہیں،
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments