دامن مہاڑ کے گاں ناڑی کے تہذیبی آثار موہنجوداڑو اور ہڑپہ کی تہذیب سے بھی پرانے ،کوئی توجہ نہیں دی جا رہی

دامن مہاڑ کے گاں ناڑی کے تہذیبی  آثار موہنجوداڑو اور ہڑپہ کی تہذیب سے  بھی پرانے ،کوئی توجہ نہیں دی جا رہی

خوشاب(نمائندہ دُنیا)قدیم تہذیب و ثقافت کی حامل سرزمین خوشاب ارباب اختیار کی عدم توجہی کے سبب اپنے تہذیبی و ثقافتی ورثے سے محروم ہو رہی ہے اگر آثارِ قدیمہ کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو علاقہ کی تہذیبی و ثقافتی روایات اور آثارِ قدیمہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے معدوم ہو جائیں گے ۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آثار قدیمہ کو محفوظ رکھنے اور نسل نو کو قدیم تہذیبی و ثقافتی روایات سے روشناس کرنے کیلئے عجائب گھر کا قیام ناگزیر ہے ۔ عوامی حلقوں کے مطابق دامن مہاڑ کے گاں ناڑی کے تہذیبی آثار موہنجوداڑو اور ہڑپہ کی تہذیب سے بھی پرانے ہیں جن کی باقاعدہ ماہرین آثارِ قدیمہ نے تصدیق کی ہے لیکن بد قسمتی سے ان آثار کو محفوظ بنانے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا گیا۔ وادی سون میں امب شریف کے مقام پر تین ہزار سال قبل مسیح کے دور کا تاریخی مندر ارباب اختیار کی عدم توجہی کے سبب اپنی اہمیت کھو رہا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ وادی سون کی پہاڑی چٹانیں اور وہاں سے ملنے والے سمندری جانوروں کے فاسلز آج بھی نیچرل ہسٹری میوزیم آف اسلام آباد میں محفوظ ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...