466کلو میٹر سیوریج لائنوں کی صفائی کا ہدف،صرف100کلو میٹر کام مکمل

466کلو  میٹر سیوریج  لائنوں  کی صفائی  کا ہدف،صرف100کلو  میٹر  کام  مکمل

366 کلومیٹر لائنوں کی صفائی اور معیار پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی آوارہ کتوں، کچرے کے ڈھیروں، گندے پانی کے جوہڑوں اور کھلے پلاٹس کے مسائل بھی بدستور موجود

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) صفائی، سیوریج اور شہری سہولیات کے حوالے سے اجلاسوں میں ہدایات اور دعووں کے باوجود گلی محلوں میں مسائل برقرار، 466 کلومیٹر سیوریج لائنوں کی ڈیسلٹنگ کے ہدف میں سے سو کلومیٹر سے زائد کام مکمل ہونے کا دعویٰ، مگر باقی 366 کلومیٹر لائنوں کی صفائی اور معیار پر شہریوں کی نظریں جم گئیں، آوارہ کتوں، کچرے کے ڈھیروں، گندے پانی کے جوہڑوں اور کھلے پلاٹس کے مسائل بھی بدستور موجود ہیں ۔واسا کی جانب سے شہر کی 466 کلومیٹر سیوریج لائنوں کی ڈیسلٹنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور سو کلومیٹر سے زائد لائنوں کی صفائی مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی ہے ۔ دوسری جانب آوارہ کتوں کی تلفی کیلئے یونین کونسل سیکرٹریز کو روزانہ مانیٹرنگ اور کتے کے کاٹنے کا واقعہ سامنے آنے پر متعلقہ ذمہ دار کیخلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی لیکن شہریوں کے مطابق محض رپورٹ طلب کرنے کے بجائے ہر یونین کونسل میں عملی نگرانی اور کارروائی کا قابلِ تصدیق نظام ضروری ہے ۔ دیہی علاقوں میں چوٹی نالیوں، گندے پانی کے جوہڑوں، کھلے پلاٹس اور کچرے کے ڈھیروں کی صورتحال بھی مستقل توجہ طلب ہے جبکہ ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن کے نظام کے باوجود کئی علاقوں میں شہریوں کو کچرا اٹھانے کے شیڈول اور باقاعدگی سے متعلق شکایات کا سامنا رہتا ہے ۔ گھروں پر ویسٹ کلیکشن کے اسٹیکرز لگانے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ متعلقہ گھر سے کوڑا روزانہ یا مقررہ شیڈول کے مطابق حقیقت میں اٹھایا بھی جائے اور دوبارہ کچرے کا ڈھیر قائم نہ ہونے دیا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...