لالچی باپ نے کمسن بیٹی کوجنسی درندوں کے حوالے کر دیا
والد سمیت دس گیارہ افراد کیخلاف مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش شروع کردی
خوشاب(نمائندہ دنیا) تھل کے گاوں رنگپور بگھور میں حوا کی ایک اور بیٹی درندگی کا نشانہ بن گئی، سفاک لالچی باپ نے اپنی کمسن بیٹی کو خود ہی جنسی درندوں کے حوالے کر دیا ، بچی کی والدہ فریاد لے کر تھانے پہنچ گئی،نور پور پولیس نے متاثرہ بچی کا طبی معائنہ کرانے کے بعد اس کی والدہ شازیہ کی مدعیت میں بچی کے والدعمران بلوچ، و دیگر ملزمان اصغر علی، مہربان بگھور اور اﷲ دتہ بگھور سمیت دس گیارہ افراد کیخلاف مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش شروع کر دی ہے تاہم ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم عمران بلوچ اپنی12 سالہ بیٹی کو شام کے وقت اپنے ہمراہ لے گیا جب کافی دیر تک واپس نہ آئی ا تو اس کی تلاش شروع ہوئی ۔ دوران تلاش بچی کی والدہ شازیہ ایک ڈیرے سے ملحقہ سفیدے کے درختوں کے پاس پہنچی تو درختوں کے جھنڈ میں ملزم شیر علی اس کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا اور وہاں دیگر ملزمان بھی موجود تھے ، بچی کی والدہ کو دیکھتے ہی شیرعلی اپنے دیگرساتھیوں کے ہمراہ فرا رہو گیامتاثرہ بچی نے بتایا کہ اس کے والد عمران نے خود پیسے لے کر اسے شیر علی کے حوالے کیا ہے اور وہ پہلے بھی اسے کئی افراد کے حوالے کر کے رقوم وصول کر چکا ہے اور آج بھی صرف شیر علی نے نہیں متعدد افراد نے اس کے ساتھ زیادتی کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments