کینو کی کاشت مشکلات سے دو چار، کم از کم 8 ہزار روپے ریٹ مقرر کرنے کا مطالبہ

کینو کی کاشت مشکلات سے دو چار، کم از کم 8 ہزار روپے ریٹ مقرر کرنے کا مطالبہ

تین سال کے دوران ڈیزل، کھاد، زرعی ادویات، آبپاشی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے باعث اخراجات تقریباً تین گنا تک بڑھ چکے ہیں،

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) حکومتی ناقص منصوبہ بندی، بڑھتی پیداواری لاگت اور کینو کی قیمتوں میں مناسب اضافہ نہ ہونے کے باعث سرگودھا میں کینو کی کاشت کا شعبہ شدید مشکلات سے دوچار ہو گیا، دلبرداشتہ باغبانوں نے کینو کا فی من ریٹ کم از کم 6 سے 8 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ باغبانوں کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران ڈیزل، کھاد، زرعی ادویات، آبپاشی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے باعث کینو کی کاشت پر اخراجات تقریباً تین گنا تک بڑھ چکے ہیں۔

تاہم اس کے برعکس کینو کی فی من قیمت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا اور نرخ طویل عرصے سے ایک ہی سطح پر برقرار رہنے کے باعث کاشتکاروں کیلئے پیداواری اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ باغبانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی میں ڈیزل، کھاد اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتوں کے مقابلے میں کینو کا ملنے والا ریٹ انتہائی کم ہے، جس سے انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کینو فیکٹری مالکان کی جانب سے مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث ہر سال بڑی تعداد میں باغات تلف کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جبکہ بعض باغبان اس شعبے سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...