آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدے کیلئے ایم ای ایف پی ڈرافٹ شیئر
اسلام آباد (مدثرعلی رانا)ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ قرض پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے ۔
آئی ایم ایف نے حکومت کو میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (ایم ای ایف پی) کا مسودہ شیئر کر دیا ۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اس مسودے پر اتفاقِ رائے کے بعد سٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے گا۔ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے ایم ای ایف پی کا ڈرافٹ متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کو بھجوا دیا جہاں اس پر ورکنگ جاری ہے ۔ وزارتوں کی جانب سے تجاویز اور اتفاق کے بعد حتمی مسودہ آئی ایم ایف کو واپس ارسال کیا جائے گا جس کے بعد لیٹر آف انٹینٹ جاری ہوگاجس پر وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک عملدرآمد کی یقین دہانی کرائیں گے ۔ایم ای ایف پی میں وزارت خزانہ، وزارت توانائی، وزارت پٹرولیم، ایف بی آر، نیب، اوگرا، نیپرا، ایس ای سی پی، سٹیٹ بینک، آڈیٹر جنرل، سرکاری ملکیتی اداروں اور صوبائی انتظامیہ سمیت مختلف اداروں کے لیے نئے اہداف مقرر کیے گئے ہیں جبکہ زرعی آمدن پر انکم ٹیکس سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کی ایڈجسٹمنٹ کا حکومتی پلان تاحال ایم ای ایف پی کا حصہ نہیں بنایا گیا کیونکہ اس معاملے پر آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان مکمل اتفاق نہیں ہو سکا تاہم حکومت نے گردشی قرضہ کم کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر پٹرولیم لیوی میں مزید 3 سے 5 روپے اضافے کی تجویز دی ہے ۔ گیس سیکٹر کے تقریباً 3180 ارب روپے گردشی قرضے میں سے 1700 ارب روپے چھ سال میں مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے ، جس کے لیے گیس کمپنیوں کے ڈیویڈنڈز بھی استعمال کیے جائیں گے ۔آئی ایم ایف کا تکنیکی وفد آئندہ ماہ کے آخری ایام میں بجٹ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچے گا اور مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، وزارت توانائی، وزارت پٹرولیم، سٹیٹ بینک اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر معاونت فراہم کرے گا۔ وفد کے مئی تک پاکستان میں قیام کا امکان ہے ۔