چونکہ رمضان مبارک میں ہمارا خلاصۂ تفسیر روزانہ کی بنیاد پر چھپتا ہے‘ اس لیے جمعرات اور ہفتے کے کالم کی گنجائش نہیں رہتی۔ لیکن غزوۂ بدر بہت اہم واقعہ ہے‘ اسے ''بَدَرُالْکُبْریٰ‘‘ کہا گیا ہے۔ یہ 17 رمضان المبارک 2 ہجری کو برپا ہوا۔ غزوۂ بدر کا ذکر قرآنِ کریم میں دو مقامات پر ان کلماتِ مبارکہ میں آیا ہے: (1) ''اور اللہ نے (غزوۂ) بدر میں تمہاری نصرت فرمائی‘ حالانکہ تم (اس وقت) بہت کمزور تھے‘ سو اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم شکر گزار ہو جائو‘‘ (آل عمران: 123) (2) ''اور وہ ( تائید ونصرت) جو ہم نے فیصلے (یعنی غزوۂ بدر) کے دن اپنے (محبوب) بندے پر نازل فرمائی کہ جس دن دو لشکر ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوئے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ (الانفال:41)۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں چار مقامات پر قرآن کا ذکر ''الفرقان‘‘ کے کلمے سے کیا ہے اور اس آیۂ مبارکہ میں غزوۂ بدر کو ''یوم الفرقان‘‘ قرار دیا ہے۔ ''فرقان‘‘ کے معنی وہ چیز جو حق کو باطل سے ممتاز کرے‘ باطل کے مقابل حق کی معرفت کیلئے میزان‘ کسوٹی اور معیار قرار پائے۔ پس یوم البدر‘ ایمان اور کفر اور حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ کسوٹی اور میزان ہے۔ پس جو اپنے ایمان کو جانچنا چاہے اور اس کا گراف معلوم کرنا چاہے تو وہ اپنے دعویٔ ایمان کو قرآن اور غزوۂ بدر کی میزان اور کسوٹی پر پرکھے‘ کیونکہ مجرد ''دعوائے ایمان‘‘ کافی نہیں ہے‘ جب تک کہ اسے میزان اور کسوٹی پر پرکھ نہ لیا جائے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمائی ہے: ''کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ انہیں محض یہ کہنے پرکہ ''ہم ایمان لائے‘‘ چھوڑ دیا جائے گا اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا‘‘ (العنکبوت: 2)۔ پس یہ جانچ پرکھ کیسے ہوگی‘ آگے چل کر بتائیں گے۔
افرادی قوت اور سامانِ حرب کو دیکھیں تو غزوۂ بدر میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے لشکر کے درمیان کوئی نسبت ہی نہ تھی۔ مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ‘ ایک گھوڑا اور اسّی اونٹ تھے۔ اس کے مقابل کفار کی تعداد ایک ہزار‘ اسّی گھوڑے اور چھ سو اونٹ تھے۔ ابتدائی طور پر مسلمان ابوسفیان کے تجارتی قافلے کے تعاقب میں گئے تھے‘ کیونکہ مشرکین مکہ نے مسلمانوں کے خلاف جنگ کیلئے مالی وسائل اکٹھا کرنے کی خاطر جو قافلہ ترتیب دیا تھا‘ ابوسفیان اس کے قافلہ سالار تھے۔ اس میں اہلِ مکہ کے تمام رُؤساء کا سرمایہ تھااور طے پایا تھا کہ اس سے جو منافع حاصل ہوگا‘ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ پر صَرف کیا جائے گا۔ ایک مکتوب کے جواب میں ڈاکٹر حمید اللہ نے لکھا: جب میں پی ایچ ڈی کے مقالے کے امتحان میں مستشرقین سکالرز کے بورڈ کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا: بتائیے! کیا ایک پُرامن تجارتی قافلے کو لوٹنے کیلئے جانا کوئی اعلیٰ اخلاقی قدر ہے‘ جبکہ آپ کے پیغمبر نے ایسا کیا۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: ''آج کے متمدن دور میں بھی جنگ میں دشمن کے دفاعی اور معاشی مراکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا‘ تو پیغمبر اسلام کیلئے یہ بات کیسے معیوب قرار پائے گی‘‘۔ انہوں نے بتایا: ''اس پر وہ لاجواب ہو گئے‘ میرا مقالہ منظور ہوگیا اور مجھے ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا ہو گئی‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اور (اس وقت کو یاد کرو!) جب اللہ نے تم سے وعدہ فرمایا کہ دو گروہوں (مسلح لشکر اور تجارتی قافلے) میں سے ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ اس گروہ سے سامنا ہو جو کیل کانٹے سے لیس نہیں ہے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلمات سے حق کی حقانیت کو ثابت کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے تاکہ حق کی حقانیت اور باطل کے بُطلان کو ثابت کر دکھائے‘ اگرچہ مجرموں کو یہ ناپسند ہو‘‘ (الانفال: 7 تا 8)۔ قادرِ مطلق نے یہ فیصلہ اس لیے فرمایا کہ اگر مسلمانوں کا سامنا تجارتی قافلے سے ہوتا اور وہ اس پر غلبہ پا لیتے تو مشرکینِ مکہ طعن کرتے کہ ایک نہتے تجارتی قافلے پرغلبہ پا بھی لیا تو کون سا کمال کر دیا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید ونصرت سے مسلمانوں کو افرادی قوت اور حربی وسائل کے اعتبار سے اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کے مقابل فیصلہ کن فتح سے ہمکنار فرمایا تو حق کی حقانیت اور باطل کا بطلان پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''جب تم (بدر) کے قریبی کنارے پر تھے اور مشرکینِ مکہ دور والے کنارے پر تھے اور تجارتی قافلہ تم سے نچلی جانب تھا‘ پس اگر تم مقابلے کا وقت مقرر کرتے تو ضرور مقررہ وقت پر پہنچنے میں اختلاف کا شکار ہو جاتے‘ لیکن یہ اس لیے ہوا کہ اللہ (نے چاہا کہ) اُس کام کو پورا کر دے جو (اُس کے نزدیک پہلے سے) مقدر تھا تاکہ جو ہلاک ہو‘ وہ دلیل کے ظاہر ہونے کے بعد ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے اور بیشک اللہ بہت سننے والا‘ بے حد جاننے والا ہے‘‘ (الانفال: 42)۔ مشرکین مکہ چونکہ بدر میں پہلے پہنچ گئے تھے‘ اس لیے انہوں نے اپنے پڑائو کیلئے میدانِ بدر کا وہ حصہ منتخب کیا جہاں زمین سخت تھی اور اس پر چلنا پھرنا اور گھوڑوں اور اُونٹوں کو دوڑانا آسان تھا‘ اس کے برعکس مسلمانوں کے حصے میں بدر کا جو کنارا آیا‘ وہاں کی زمین ریتلی تھی جس پر چلتے اور دوڑتے ہوئے پائوں دھنس جاتے اور حرکت میں وقت لگتا‘ یعنی بظاہر محلِ وقوع کفار کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف تھا۔ دوسری صورتِ حال یہ ہوئی کہ مسلمانوں کے پاس پانی کی قلت تھی‘ کچھ لوگوں پر غسل واجب ہوگیا اور غسلِ طہارت کیلئے پانی دستیاب نہ تھا۔ اس حال میں شیطان نے مسلمانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے کہ تمہارا اپنے بارے میں حسنِ ظن یہ ہے کہ تم حق پر ہو اور تمہارا دشمن باطل پر ہے اور حال یہ ہے کہ تمہیں ناپاکی دور کرنے کیلئے پانی تک دستیاب نہیں ہے‘ کیا یہ اللہ کی محبوبیت کی دلیل ہے؟ مسلمانوں کو اس وسوسے سے نکالنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے ان پر اُونگھ طاری کر دی اور خوف کی کیفیت زائل ہو گئی اور اس دوران اللہ تعالیٰ نے خوب بارش برسائی‘ مسلمانوں نے وافر مقدار میں پانی جمع کر لیا‘ غسلِ طہارت کیا اور اللہ کی قدرت نے حالات کو یوں پلٹا کہ بارش کے سبب مسلمانوں کی ریتلی زمین سخت ہو گئی‘ اس پر چلنا پھرنا اور اونٹوں کو دوڑانا آسان ہو گیا‘ جبکہ مشرکین مکہ کی سخت زمین بارش کے سبب نرم‘ کیچڑ اور پھسلن والی (Slippry) ہو گئی اور اس پر چلنا پھرنا‘ اونٹوں اور گھوڑوں کو دوڑانا مشکل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اور (یاد کرو!) جب اللہ نے تم پر اونگھ طاری کر دی تاکہ تمہارے لیے تسکین کا سبب بنے اور تم پر آسمان سے بارش برسائی تاکہ اس کے ذریعے تمہیں خوب پاک کر دے اور تم سے شیطان کی ناپاکی (اور وسوسوں) کو دور کر دے تاکہ تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھ جائے اور اس کے ذریعے تمہیں ثابت قدم کر دے‘‘ (الانفال: 11)۔ ظاہری صورت یہ تھی کہ مسلمان تعداد اور مادّی اسباب کے اعتبار سے بہت کم تھے اور مشرکینِ مکہ ہر لحاظ سے بدرجہا زائد تھے۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں وسوسوں اور خدشات کا دل ودماغ میں پیدا ہونا بشری تقاضا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ازالہ اس طرح کیا کہ ان پر نیند طاری کر دی‘ انہوں نے خواب دیکھا‘ اس کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے ان کلمات میں بیان فرمایا: ''اور (یاد کیجیے!) جب اللہ نے آپ کو خواب میں کافروں کو کم تعداد میں دکھایا اور اگر اللہ آپ کو ان کی تعداد زیادہ دکھاتا تو (اے مسلمانو!) تم ضرور ہمت ہار جاتے اور آپس میں اختلاف کرتے‘ لیکن اللہ نے (تمہیں اس آزمائش سے) بچا لیا‘ بیشک وہ دلوں کے حال کو خوب جاننے والا ہے اور (یاد کرو!) جب تم ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوئے تو کفار کی تعداد تم کو کم دکھلائی اور تمہاری تعداد بھی انہیں کم دکھلائی تاکہ اللہ اس کام کو پورا کردے جو (پہلے ہی) مقدر ہو چکا تھا اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں‘‘ (الانفال: 43 تا 44)۔ (جاری)