بہت سی خبروں میں دنیا اُس خبر کی تلاش میں ہے جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ اور بہت بڑے بحران سے نکال دے۔ سب پریشان ہیں لیکن خبر رساں ایجنسیوں‘ نیوز وی لاگرز وغیرہ کی بن آئی ہے۔ سب نظریں اُدھر مرکوز ہیں اور سب کان وہیں لگے ہوئے ہیں۔ ہر ملک کو اپنی اپنی پڑی ہے اور پاکستان بھی بجا طور پر یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مسئلہ سب سے بڑا ہے۔ جب اپنی سرحدوں پر دھماکے ہو رہے ہوں اور خون کسی وقت بھی سرحد کی لکیر پار کر سکتا ہو تو سب سے بڑی فکر تو پاکستان کو ہو گی اور ہونی بھی چاہیے۔ دو سرحدیں گرم ہونے کے بعد تیسری سرحد پر کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔ ایسے بحران میں تو عارضی جنگ بندی کی خبر بھی خیر کی خبر لگتی ہے۔ اگرچہ اسرائیل اور ایران دونوں ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں لیکن بظاہر امریکہ نے ہاتھ روک لیا ہے اور اب مذاکرات اور کسی تصفیے تک پہنچنے کی زیادہ خواہش امریکہ کی ہے۔ ابتدا میں یہ خبریں آئیں کہ پاکستان‘ ترکیہ اور مصر مل کر بات چیت کا بندوبست کر رہے ہیں‘ بعد میں صرف پاکستان کا نام سامنے آنے لگا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ باقی دو ممالک بھی شریک ہیں لیکن پاکستان سربراہی کردار نبھا رہا ہے۔ سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا لیکن امریکی وفد کی مذاکرات کیلئے اسلام آباد پہنچنے کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں۔ دو باتیں الگ الگ ہیں۔ ایک یہ کہ مذاکرات ہو رہے ہیں یا نہیں‘ دوسری یہ کہ کس حد تک یہ کامیاب ہو سکیں گے۔ پہلی بات تو یقینی ہے۔ ایران اور پاکستان کی قیادتوں کا مسلسل ایک دوسرے سے رابطہ‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ٹرمپ کو براہِ راست کال‘ وزیراعظم شہباز شریف کا ٹویٹ‘ صدر ٹرمپ کا اسے ری ٹویٹ کرکے اس کی تائید‘ دفتر خارجہ کے ترجمان کا بیان کہ پاکستان کسی سمجھوتے تک پہنچنے کیلئے میزبانی اور ثالثی کرنے کیلئے تیار ہے‘ سب کڑیاں مل کر بتاتی ہیں کہ ایک میز پر بیٹھنے کیلئے بہت سی پیشرفت ہو چکی ہے۔ البتہ ایران کی طرف سے متضاد اطلاعات ہیں۔ ایران ایک طرف یہ کہہ رہا ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے‘ دوسری طرف یہ ناممکن ہے کہ ایران کی رضا مندی کے بغیر پاکستان نے اگلا قدم اٹھایا ہو۔ اس لیے بظاہر ایران بھی ساتھ بیٹھنے پر تیار ہے اور ممکن ہے جلد اس کا سرکاری اعلان بھی ہو جائے۔ تاہم ایران میں اختلافِ رائے موجود ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی قیادت مذاکرات کے حق میں نہیں جبکہ سیاسی قیادت چاہتی ہے کہ مذاکرات کا راستہ بند نہ کیا جائے۔
ذرا دیکھتے ہیں کہ اس جنگ میں الجھے ہوئے سب ممالک کی خواہش اور کوشش کیا ہو گی۔ ٹرمپ کو بظاہر اندازہ ہو گیا ہے کہ اس نے نیتن یاہو کے کہنے پر جس جنگ میں شرکت کی تھی وہ گلے پڑ گئی ہے۔ امریکہ نے ایران پر جتنے بھی حملے کیے ہیں اور ٹرمپ نے جو بھی بیانات دیے ہیں‘ اس نے سپر پاور کا بھرم کھول کر رکھ دیا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز ہے۔ دنیا کا 20 فیصد تیل رکنے سے جو توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے وہ 1973ء اور 1979ء سے بھی بڑا ہے۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی بحریہ تباہ کردی گئی ہے اور ایران اب بحری راستے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن آبنائے ہرمز پر بدستور ایرانی کنٹرول ہے اور اس کی مرضی کے بغیر کوئی جہاز نہیں گزر سکتا۔ یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا کہ امریکی بحری جہازوں کی نگرانی میں آبنائے ہرمز بآسانی پار کرا دی جائے گی۔ امریکی انشورنس کی طرف بھی کسی نے دھیان نہیں دیا۔ دوسرا بحری راستہ باب المندب ہے جو یمن کے قریب سے گزرتا ہے اور بحیرۂ احمر کے ذریعے تیل دنیا بھر تک پہنچتا ہے۔ یمن کے حوثیوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ یہ راستہ بھی بند کردیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو سعودی عرب کا تیل جو ہرمز کے بجائے متبادل راستے سے بحیرۂ احمر کے راستے پہنچ رہا ہے‘ وہ بھی بند ہو جائے گا۔ اس کا اثر صرف دنیا بھر پر ہی نہیں خود امریکہ پر بھی پڑے گا۔ امریکہ میں بھی فوری طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سیاسی طور پر ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت بہت زیادہ گر چکی ہے اور وہ وسط مدتی انتخاب جیتتے نظر نہیں آتے۔ وہ امریکی اندازہ یکسر غلط نکلا کہ ایرانی قیادت ختم ہو جانے کے بعد ایران بکھر جائے گا۔ ایرانی میزائلوں کے حملے جاری ہیں۔ یہ جنگ امریکہ کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے‘ سو یہ سارے عوامل ٹرمپ کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے اور وہاں کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
خلیجی ممالک کیلئے یہ جنگ بہت زیادہ پریشانی لے کر آئی ہے۔ امریکی فوجی اڈے نہ صرف ان کا بچاؤ نہیں کر سکے بلکہ وہ سبب بن گئے جن کے باعث ہر ملک مسلسل ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کا ہدف ہے۔ ایرانی دھمکی انہیں لرزاتی ہے کہ وہ ان کے توانائی کے مراکز‘ ریفائنریز اور پینے کے پانی کے پلانٹ تباہ کردے گا۔ دریاؤں سے محروم یہ خلیجی ممالک اگر پینے کے پانی سے محروم ہو گئے اور تیل اور گیس‘ جس پر ان کا تمام تر دار و مدار ہے‘ اس طرح تباہ کر دیے گئے کہ دس بارہ سال تک کام کرنے کے قابل نہ ہوئے تو ان سب ممالک کیلئے یہ بھیانک خواب سے کم نہیں۔ عرب ممالک چاہتے ہیں کہ اس جنگ سے ایران فتح یاب ہوکر نہ نکلے کیونکہ یہ تلوار مستقبل میں ہمیشہ لٹکتی رہے گی‘ لیکن وہ بے بس ہیں۔ ان کے پاس موجود امریکی اور یورپی ہتھیار اسی طرح بیکار ثابت ہوئے ہیں جیسے امریکی فوجی اڈے۔ جن ممالک کا دارو مدار کاروبار اور سیاحت پر تھا جیسے متحدہ عرب امارات‘ وہ ابھی سے مہلک اثرات کی لپیٹ میں ہیں۔ اس لیے خلیجی ممالک کی پوری کوشش ہو گی کہ یہ جنگ کسی بھی طرح ختم ہو جائے۔ اور یقینا پاکستان کی کوششوں میں ان کی تائید شامل ہے۔
اسرائیل میں میڈیا اور خبروں پر مکمل پابندی ہے۔ اس لیے نقصانات کا درست تخمینہ لگانا مشکل ہے تاہم جس تعداد میں ایرانی میزائل اسرائیل میں گرے ہیں‘ بظاہر اس کا بھی سخت نقصان ہوا ہے۔ اسرائیل میں رائے عامہ کو دو حصوں میں تقسیم سمجھنا چاہیے۔ ایک عام شہری اور معتدل مزاج اسرائیلی جو جنگ سے دور رہنا چاہتے ہیں اور تباہی سے خوفزدہ ہیں۔ دوسرا وہ صہیونی مزاج جو گریٹر اسرائیل کے خواب دیکھتا آیا ہے اور جس کا نمائندہ نیتن یاہو ہے۔ یہ لوگ چاہیں گے کہ ایران کو پوری طرح تباہ کر دیا جائے‘ امریکہ کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے اور عرب ممالک کو ایران سے لڑا دیا جائے۔ اس کیلئے وہ مسلسل کوشش کر رہا ہے لیکن ایران کو سخت نقصان پہنچانے کے باوجود بہت سے معاملات میں کامیاب نہیں ہوا۔ عرب ابھی تک اس طرح ایران کے خلاف عملی طور پر صف آرا نہیں ہوئے۔ اگر پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ صہیونی مقاصد کی شکست ہو گی۔ اس لیے وہ ہر قیمت پر یہ مذاکرات سبو تاژ کرنے کی کوشش کریں گے۔ رہا ایران تو میرے خیال میں اس کے سیاسی‘ معاشی اور عسکری ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ اس کی یقینا کوشش ہو گی کہ وہ اس جنگ سے فتحیاب ہو کر نکلتا دکھائی دے لیکن وہ کتنی دیر مزید جنگ لڑ سکے گا‘ اور اگر دنیا تنگ آکر اس حد پر پہنچ گئی کہ متحد ہو کر آبنائے ہرمز کھولنے کی کوشش کرے تو پھر کیا ہو گا؟ میرے خیال میں ایران کو مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے اور اس صورتحال میں جب وہ کافی باتیں منوانے کی پوزیشن میں ہے‘ اپنا مستقبل محفوظ کرنا چاہیے۔ لیکن آج تو یہ دو بڑے سوال موجود ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا یہ مذاکرات ہو سکیں گے؟ اور دوسرا یہ کہ کیا فریقین کے سخت اور بے لچک مؤقف کے ساتھ یہ کامیاب ہوں گے؟ آرزوئیں بہت ہیں لیکن ہم سب کو معلوم ہے کہ
وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں