نشہ کرنے والا جرم پرسزاسے نہیں بچ سکتا:سپریم کورٹ
اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرنے والا شخص سنگین جرم کے ارتکاب پر قانون کے سامنے جوابدہی سے بچ نہیں سکتا کیونکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 85 کا تحفظ صرف ایسے شخص کو حاصل ہوتا ہے۔
جسے اس کی مرضی یا علم کے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔سپریم کورٹ نے کمسن بچی سے زیادتی اور بہیمانہ قتل کے مجرم سنی مسیح کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ رضاکارانہ نشہ سزا میں نرمی یا فوجداری ذمہ داری سے استثنیٰ کی بنیاد نہیں بن سکتا۔جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔فیصلے کے مطابق سنی مسیح کے خلاف 2014 میں تھانہ سٹی سبی میں پانچ سالہ اینجل کماری کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302(b)، 364-A اور 376 کے تحت سزائے موت سنائی، جسے بعد ازاں بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔