سوشل میڈیا پردولت کا دکھا وا کرنیوالے نا ن فائلرز کی لسٹیں تیار،یکم اکتوبر سے کارروائی

سوشل  میڈیا  پردولت  کا  دکھا وا  کرنیوالے  نا ن  فائلرز  کی   لسٹیں  تیار،یکم  اکتوبر  سے  کارروائی

نان فائلرز کی نشاندہی کیلئے نادرا سے مکمل معاونت لی گئی ، اخراجات، کریڈٹ کارڈ اور بیرون ملک سفر کا ڈیٹا حاصل مہنگی گاڑیاں، بنگلے ، جیولری اور تقریبات میں نوٹ نچھاور کرنے والوں سمیت تمام نان فائلرز کے خلاف سخت ایکشن ہوگا بجٹ میں روزمرہ استعمال کی 20 کیٹیگریز کی آئٹمز شیڈول 3 میں شامل ہونیکا امکان، 60 ارب کا سیلز ٹیکس حاصل ہو گا

اسلام آباد (مدثر علی) سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کے پاس گوشوارہ جمع کرانے کی آخری مہلت 30 ستمبر مقرر کر دی گئی۔ آئندہ مالی سال یکم اکتوبر سے سوشل میڈیا پر دکھاوا کرنے والے نان فائلرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی ہوگی۔ آئندہ بجٹ میں روزمرہ استعمال کی 20 کیٹیگریز کی آئٹمز سیلز ٹیکس کے شیڈول 3 میں شامل کیے جانے کا امکان ہے ۔ 20کیٹیگریز کی آئٹمز سیلز ٹیکس کےشیڈول 3 میں شامل ہونے سے 60 ارب روپے کا سیلز ٹیکس حاصل ہوسکتا ہے ۔ایف بی آر تمام سوشل میڈیا لائف سٹائل کی مانیٹرنگ کرے گا۔ سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے لیکن گوشوارہ جمع نہ کرانے والوں کی فہرستیں تیار کی جائیں گی۔ سوشل میڈیا پر اپنی دولت دکھانے والے مگر گوشوارہ جمع نہ کرانے والوں کو ٹیکس حکام نوٹس بھجوائیں گے ۔ سوشل میڈیا پر مہنگی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، کشتیوں، بنگلوں، فلیٹس، فارم ہاؤسز، مہنگے کپڑوں، جیولری اور گھڑیوں کی نمائش کرنے والے نان فائلرز کے خلاف کارروائی ہوگی۔ شادی، قوالی، موسیقی اور رقص کی تقریبات میں نوٹ نچھاور کرنے والے نان فائلرز بھی ایکشن کی زد میں آئیں گے ۔ایف بی آر نے رواں مالی سال سوشل میڈیا پر دکھاوا کرنے والے امرا کا مکمل ڈیٹا حاصل کر لیا ہے جبکہ شناخت کے لیے نادرا نے بھرپور معاونت کی ہے ۔

سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کے اخراجات، کریڈٹ و اے ٹی ایم کارڈز اور بیرون ملک سفر کی تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے لیکن گوشوارہ جمع نہ کرانے والوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز یکم اکتوبر سے ہوگا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ روزمرہ استعمال کی 20 کیٹیگریز کی آئٹمز سیلز ٹیکس کے شیڈول 3 میں شامل کیے جانے کا امکان ہے ۔ 20 کیٹیگریز کی آئٹمز پر اس وقت سیلز ٹیکس کا سٹینڈرڈ ریٹ لاگو ہوتا ہے جو تھرڈ شیڈول میں آنے سے 18 فیصد ہوجائے گا۔ روزمرہ استعمال کی 20 کیٹیگریز کی آئٹمز سیلز ٹیکس کے شیڈول 3 میں آنے سے اس پر قیمت اور سیلز ٹیکس لکھنا لازمی ہوگا۔ 20 کیٹیگریز کی آئٹمز میں 3000 سے زائد اشیا شامل ہوں گی جن پر قیمت اور سیلز ٹیکس درج کرنا لازمی ہوگا۔ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے ڈبے میں بند دودھ، دہی، پنیر، ملک کریم، ٹی کریم، ملک پاؤڈر اور فیٹ ملک پر قیمت اور سیلز ٹیکس شائع کرنا ہوگا۔ بچوں کے دودھ، نرم غذاؤں، دلیہ جات، فوڈ سپلیمنٹس، فروزن پراٹھوں، فروزن کباب، فروزن نگٹس اور دیگر فروزن اشیا کی پیکنگ پر بھی قیمت اور سیلز ٹیکس درج کرنا ہوگا۔ ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، شیونگ کریم، شیونگ فوم، شیونگ برش، مایونیز، بار بی کیو اور پیزا ساسز کی پیکنگ پر بھی قیمت اور سیلز ٹیکس شائع کرنا لازمی ہوگا۔ذرائع کے مطابق پالتو جانوروں کی خوراک کی پیکنگ پر بھی قیمت اور سیلز ٹیکس کی رقم شائع کرنا ہوگی۔ تمام الیکٹرانکس آئٹمز بھی سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل ہوسکتی ہیں۔ ایل ای ڈی، فریج، واشنگ مشین، جوسر، بلینڈرز، ایئر کنڈیشنرز، روم کولرز، پنکھے ، چولہے ، گیزر، کوکنگ رینج اور تمام گیس اپلائنسز کو بھی سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں