واپڈا کا اپنی سکیورٹی فورس بنانے کا فیصلہ کنٹریکٹ پر بھرتی، پنشن نہیں ملے گی

واپڈا کا اپنی سکیورٹی فورس بنانے کا فیصلہ کنٹریکٹ پر بھرتی، پنشن نہیں ملے گی

فورس واپڈا منصوبوں پرکام کرنیوالے غیر ملکیوں کی حفاظت کی ذمہ دار، گرفتاری کا اختیار ،بعدازاں پولیس کے سپردکیاجائیگا 1.81 ارب لاگت ،گریڈ 20 کاافسر سربراہ :چیئرمین واپڈاکی بریفنگ، کمیٹی نے مشاورت کیلئے بل کی منظوری موخر کردی کراچی کوپینے کے پانی کے منصوبے کی تکمیل کیلئے مزید تین سال سے زائد کا عرصہ درکار ،کینجر جھیل سے ہی فراہمی :بریفنگ

اسلام آباد (سہیل خان،ذیشان یوسفزئی) واپڈا نے اے ایس ایف کی طرز پر اپنی سکیورٹی فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے ، جس پر 1 ارب 81 کروڑ سے زائد لاگت آئے گی، نئی فورس پاکستان میں واپڈا کے منصوبوں پرکام کرنے والے چینی شہریوں سمیت غیر ملکیوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہوگی ۔ علاوہ ازیں کمیٹی کو بتایا گیا کہ کراچی کے شہریوں کے لیے صاف پینے کے پانی کے منصوبے کی تکمیل کے لیے مزید تین سال سے زائد کا عرصہ درکار ہے ، کے فورمنصوبے کو کینجر جھیل سے ہی پانی فراہم کیا جائیگا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کااجلاس احمد عتیق انور کی زیر صدارت ہوا ، جس میں واپڈا سکیورٹی فورس بل کامعاملہ زیر بحث آیا ، کمیٹی نے بل کی منظوری موخر کرتے ہوئے مزید مشاورت کی سفارش کردی، بل پر اگلے اجلاس میں بحث ہو گی ۔

چیئرمین واپڈا جنرل (ر) سعید نے کمیٹی کوبریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف سکیورٹی گارڈز کے ذریعے واپڈا ہائوسز کی سکیورٹی نہیں ہو سکتی،ہمارے پاس پہلے صرف چوکیدار رکھنے کا اختیار تھا، لیکن موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ہمیں ایک مسلح فورس کی ضرورت ہے ۔ یہ فورس اے ایس ایف کی طرز پر ہوگی اور اس کا اختیار صرف واپڈا کے منصوبوں کی حدود تک محدود ہوگا،واپڈا ہی اس فورس کو تربیت دے گا، یہ فورس پاکستان میں موجود غیر ملکیوں کی نقل و حرکت کے دوران بھی سکیورٹی فراہم کرے گی۔ فورس کے تمام اختیارات وفاقی حکومت کے پاس ہوں گے ، جبکہ روزمرہ کے انتظامی معاملات واپڈا دیکھے گا۔

ہم جو سکیورٹی کیلئے پہلے انتظام کر رہے تھے وہ کافی مہنگا پڑتا ہے ،نئی فورس کی کوئی پنشن نہیں ہوگی ، کنٹریکٹ پر فورس رکھیں گے ،اس فورس کو واپڈا کے منصوبوں اور واپڈا ہائوسز میں گرفتاری کا اختیار ہوگا، منصوبوں کے اندر سے گرفتاری کے بعد پولیس کے حوالے کیا جائے گا، واپڈا فورس کی ٹریننگ بھی ہوگی اور ان کی یونیفارم بھی ہوگا۔دیامر بھاشا میں اس وقت 2500 لوگ سکیورٹی پر مامور ہیں، واپڈا کا چوکیدار سسٹم اب قابل عمل نہیں ، دیامر بھاشا ڈیم پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ، اس وقت ہمیں پرائیویٹ کمپنیوں سے سکیورٹی لیتے ہیں اور فی سپاہی 90 ہزار میں پڑتا ہے ۔ اگر اپنی سکیورٹی رکھی تو فی سپاہی 56ہزار میں پڑے گا ، جس طرح ایئر پورٹ سکیورٹی فورس ہے ،اسی طرح واپڈا کی بنے گی۔ فورس کے قیام پر پہلی مرتبہ 1 ارب 81 کروڑ سے زائد لاگت آئے گی۔

اس میں 87 کروڑ روپے تربیت اور بھرتیوں پر خرچ ہوں گے ، 86 کروڑ 58 لاکھ روپے اسلحہ کی خریداری پر جبکہ 8 کروڑ 12 لاکھ روپے یونیفارمز کی خریداری پر خرچ کیے جائیں گے ۔اس تمام عمل کو مکمل کرنے کے لیے واپڈا ایکٹ 1958 میں ترمیم کرنا ہوگی، جس کے لیے واپڈا نے وزارتِ قانون کے ساتھ مل کر ایک بل تیار کیا ہے ، جو جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ واپڈا حکام نے بتایا منصوبوں کو کئی انٹرنیشنل وفود وزٹ کرنے آتے ہیں جن کی سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے ، واپڈا سکیورٹی فورس کیلئے 20 گریڈ کا ریٹائرڈ افسر ہو سکتا ہے ، ڈی جی کی پوسٹ پر پولیس یا آرمی سے ریٹائرڈ افسر لگایا جائے گا۔

واپڈا فورس جسے گرفتار کرے گی اسے ڈسٹرکٹ پولیس کے حوالے کیا جائے گا، گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف کیس بھی مقامی پولیس ہی دیکھے گی،واپڈا فورس میں بھرتی ہونے والے ملازمین کہیں اور جاب نہیں کر سکتے ،واپڈا سکیورٹی فورس میں ورکر یونینز بھی نہیں بنائی جا سکیں گی، ڈی جی واپڈا فورس منصوبے کی سکیورٹی کیلئے سٹینڈنگ آرڈرز خود جاری کر سکے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کے فور کا پانی کینجر جھیل سے ہی جائے گا ، درمیان میں نہ توپانی کی چوری ہوگی نہ پائپ کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔

ارکان اسمبلی کاکہنا تھاکراچی میں ٹینکر مافیا سرگرم ہے ۔رکن اسمبلی سید وسیم حسین نے کہا کہ لوگ آٹھ آٹھ ہزار کے پانی کے ٹینکرز خریدنے پر مجبور ہیں ۔منور تالپور نے کہا کے فور منصوبے کا واٹر سورس صرف کلری جھیل ہے جو اب خشک ہوچکی ہے ، کراچی کو پانی کہاں سے دینگے ؟اتنی بڑی سرمایہ کاری کر کے منصوبہ بنا رہے ہیں ،پانی نہ ہوا تو کیا کراچی کے لوگوں کو مٹی پلائینگے ،جب تک کراچی میں ٹینکر مافیا رہے گا یہ منصوبہ کیسے مکمل ہوگا ؟امین الحق نے کہا منصوبے کا پی سی ون 2010میں بنا ، 16سال ہوچکے ،شرم کا مقام ہے جی کے فور منصوبے پر پیش رفت صفر ہے ۔

چیئرمین واپڈ نے کہا کے فور منصوبے پر فنڈز کی قلت تھی ،اب سندھ حکومت نے بھی 7ارب 70کروڑ ادا کردیے ۔ وفاقی وزیر آبی وسائل نے بتایا پانی کی تقسیم کا معاملہ صوبائی حکومت کا کام ہے ۔چیئرمین واپڈا کے مطابق اس منصوبے کا پی ایل ون رواں سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گا، جبکہ پی ایل ٹو جون 2027 تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا 69 فیصد سے زائد کام مکمل کر چکا ہے اور اب فنڈز کا کوئی مسئلہ نہیں ۔چیئرمین واپڈا کے مطابق منصوبے پر اب تک 86 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ باقی فنڈز بھی دستیاب ہیں، تاہم کے فور منصوبہ 2029 میں ہی مکمل ہوگا، کیونکہ واپڈا کا کام بڑی پائپ لائنوں اور پمپنگ سٹیشنز تک محدود ہے ، جبکہ شہر کے اندر پانی کی ترسیل صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کراچی واٹر بورڈ حکام کے مطابق اس کام کے لیے مزید وقت درکار ہے اور اس کی تکمیل 2029 تک ہوگی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...