پی ٹی آئی احتجاج، اعتماد سے لگتا کہیں سے حوصلہ افزائی ہوئی
اڈیالہ جیل کے مکین سے پس پردہ مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع
(تجزیہ:سلمان غنی)
پی ٹی آئی ایک وقفے کے بعد پھر سے احتجاجی موڈ کی طرف لوٹ رہی ہے اور احتجاج اور لانگ مارچ کیلئے خیبر پختونخوا میں تیاریوں کا زور ہے جبکہ سیاسی محاذ پر جماعت کی قیادت 27ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کرتی دکھائی دے رہی ہے ، خصوصاً وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ جب ہم 27ستمبر کو نکلیں گے تو کوئی ہمیں روک نہیں پائے گا، کوئی ہمارے سامنے ٹھہر نہیں پائے گا ۔وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی جو احتجاج اور لانگ مارچ کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ جماعت کے اندر سے آنے والا ردعمل اور خصوصاً بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کا دورہ خیبر پختونخوا ہے جس میں وہ خود کارکنوں کو احتجاج کیلئے متحرک کرتی دکھائی دیں،یوں نہ چاہتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی کال دینا پڑی اور اب خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی اس کال کے حوالے سے سرخرو ہونے کیلئے سرگرم ہیں ، ان کی بدن بولی اور ان کے اعتماد سے لگ رہا ہے کہ انہیں کسی نہ کسی سطح پر کسی کا اعتماد ملا ہے اور حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
دوسری جانب خبریں چل رہی ہیں کہ اڈیالہ جیل کے مکین سے پس پردہ مذاکراتی عمل جاری ہے اور یہ کس حد تک کامیاب اور نتیجہ خیز ہوگا، ابھی اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔پی ٹی آئی کے احتجاجی عمل کا بڑا ویک پوائنٹ یہ ہے کہ سارے کا سارا احتجاجی عمل خیبر پختونخوا کی سطح پر ہے ، تیاریاں بھی وہیں ہو رہی ہیں جبکہ پنجاب اور سندھ کے محاذ پر عملاً خاموشی ہے ۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر سوشل میڈیا پر سرگرم نظر آ رہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پنجاب کی جس قیادت نے پنجاب کو احتجاج کیلئے متحرک بنانا اور باہر نکالنا تھا وہ خود جیل میں ہے ۔ پی ٹی آئی اور اس کی لیڈر شپ نے احتجاج اور لانگ مارچ کو صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک محدود کر دیا ہے ۔جس پر سیاسی حلقے سوال اٹھارہے ہیں کہ پی ٹی آئی کا ہدف عمران خان کی رہائی ہے یا ان تک رسائی ،جبکہ دیگر قیدیوں کیلئے ریلیف کا کوئی ذکرکیوں نہیں کیا جارہا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں کسی بڑے احتجاجی شوکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ بانی سے ملاقات خارج از امکان نہیں، لیکن یہ مشروط ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments