آزادی کے دن ہلڑبازی،ناچ گانے بھاری پڑ سکتے :سعد رفیق

 آزادی کے دن ہلڑبازی،ناچ  گانے بھاری پڑ سکتے :سعد رفیق

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے یومِ آزادی کی تقریبات میں سڑکوں پر ہلڑبازی، بے ہنگم شور اور شہریوں کو پیش آنیوالی مشکلات پر اظہارتشویش کرتے کہا ہے کہ اگر آزادی کا دن صرف جھنڈے لہرانے، باجے بجانے، ناچ گانے، کیک کاٹنے اور ایک دوسرے کی تعریفوں تک محدود ہوجائے تو یہ طرزِعمل ملک و قوم کو بھاری پڑ سکتا ہے۔

سوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا یومِ آزادی کی شب سڑکوں پر بے ہنگم شور، ہلڑبازی اور نازیبا حرکات کا ایسا سلسلہ دیکھنے میں آیا کہ جو لوگ ضروری کام کیلئے نکلے وہ پریشان ہو کر واپس آئے ، پڑھے لکھے ، ان پڑھ، امیر ، غریب، چھوٹے بڑے کی کوئی تمیز نظر نہیں آئی۔انہوں نے اسلام آباد میں 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب پیش آنیوالی صورتحال پرکہا سرکاری تقریب کی سکیورٹی کیلئے متعدد راستے بغیر پیشگی اعلان کے اچانک بند کردئیے گئے ، ہزاروں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جسکا کسی نے نوٹس کیوں نہیں لیا۔

انکا کہنا تھا کہ یومِ آزادی پر ملک کے قیام کیلئے اپنی جانیں، عصمتیں، جائیدادیں اور گھر بار قربان کرنیوالے لوگوں کا ذکر بھی سیاسی یا سرکاری تقریبات میں نمایاں طور پر سننے کو نہیں ملا، سیاسی جماعتیں حسبِِ روایت سوئی رہیں جبکہ ’انجمن ہائے ستائشِ باہمی‘متحرک رہیں، ملک کو بدترین لاقانونیت، غربت اور دہشتگردی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے ، ایسے حالات میں یومِ آزادی کو صرف رسمی تقریبات تک محدود کرنے کی بجائے 14 اگست کو ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے عملی اقدامات، آئین کے تحفظ، عوام کی بہبود اور قومی ذمہ داریوں کی تجدیدِ عہد کا موقع بنانا چاہیے ، آزادی کا حقیقی تقاضا صرف جشن منانا نہیں بلکہ موجودہ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیکر پاکستان کو درپیش مسائل حل کیلئے عملی کردار ادا کرنا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...