لاہور ہائیکورٹ:ریٹائرمنٹ واپس لینے کا محکمہ جنگلات کا حکم کالعدم
ریٹائرمنٹ پر عملدرآمد سے درخواست گزار کے حق میں قانونی نتائج پیدا ہوچکے محکمہ فیصلہ واپس لے کر حاصل شدہ حقوق ختم نہیں کرسکتا،8صفحات کا تحریری فیصلہ
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ واپس لینے کا محکمہ جنگلات کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ملازم کی ریٹائرمنٹ بحال کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ حاصل شدہ قانونی حقوق بعدازاں واپس نہیں لیے جا سکتے ، جبکہ ملازم کو سنے بغیر منفی فیصلہ قدرتی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے ۔جسٹس شیریں عمران نے محمد اکرم کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار نے طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ واپس لینے کے محکمہ جنگلات کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ریٹائرمنٹ کے حکم پر عملدرآمد کے بعد درخواست گزار کے حق میں متعدد قانونی نتائج پیدا ہوچکے تھے ، اس لیے محکمہ بعد میں اپنا فیصلہ واپس لے کر حاصل شدہ حقوق ختم نہیں کرسکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد درخواست گزار کے بیٹے کی پنجاب سول سرونٹس رولز کے رول 17-A کے تحت تقرری سمیت دیگر فیصلہ کن اقدامات ہوچکے تھے ۔ ایسے حالات میں پہلے سے حاصل شدہ قانونی حقوق محض بعد کی وضاحت کی بنیاد پر ختم نہیں کیے جاسکتے ۔فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کی ریٹائرمنٹ واپس لینے سے قبل اسے نہ شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی اپنا مؤقف پیش کرنے یا وضاحت دینے کا موقع دیا گیا۔ سماعت کا موقع دینا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ منصفانہ قانونی طریقہ کار کا لازمی حصہ ہے ۔عدالت نے محمد اکرم کی درخواست منظور کرتے ہوئے محکمہ جنگلات کا متنازع حکم کالعدم قرار دے دیا اور ریٹائرمنٹ کا سابقہ حکم بحال کردیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments