پاکستان کا ایس سی او میں فعال کردار نئی دہلی کیلئے چیلنج

پاکستان کا ایس سی او میں فعال کردار نئی دہلی کیلئے چیلنج

بھارت مخالف بیانیہ کی بجائے اقتصادی تعاون کا مقدمہ پیش کرنا ہوگا

(تجزیہ:سلمان غنی)

موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال ،امریکا ایران تناؤ ،امن و استحکام کو درپیش چیلنجز اور خصوصاً بھارت کیساتھ پاکستانی تنازعات بارے وزیراعظم شہباز شریف کے شنگھائی کانفرنس سے خطاب کو جرات مندانہ اور حقیقت پسندانہ قرار دیا جا سکتا ہے جو پاکستان کے سفارتی موقف کا عکاس ہے ۔ انہوں نے تمام کلیدی معاملات پر دو ٹوک موقف کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ پاکستان علاقائی و عالمی ایشوز اور امن و استحکام کے حوالے سے یکسو اور سنجیدہ ہے اور وہ انکے حل میں اپنا بڑا کردار ادا کرنے پر تیار ہے ۔انہوں نے بھارت کا نام لئے بغیر پانی کے مسئلہ کو اجاگر کرتے ہوئے پانی کو ہتھیار بنانے کی مخالفت کی اور  سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر پرزور تنقید کرتے ہوئے ذمہ داران کو اس بڑے فورم پر ایکسپوز کیا اور خصوصاً ریاستی دہشتگردی کے رحجانات کو ایکسپوز کرتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی اور خصوصاً افغان سرزمین سے دہشتگردی کیلئے استعمال کو ہدف تنقید بنایا اور بتایا کہ یہ رحجان علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرناک ہے ۔ وزیراعظم نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا امن و استحکام بارے کردار اجاگر کیا۔

یہی وجہ ہے کہ انکے اس خطاب کو ماہرین پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے علاقائی امن اور ترقی بارے اہم قرار دیتے نظر آ رہے ہیں۔اس سے پاکستان کی سفارتی حیثیت میں اضافہ ہوگا اور خصوصاً شنگھائی کانفرنس کی آئندہ صدارت کیلئے پاکستان کے نکتہ نظر سے رکن ممالک کو آگاہی ملی ہوگی۔ وزیراعظم نے ترقی و خوشحالی بارے سی پیک منصوبوں کی اہمیت کو پاکستان کی اقتصادی ترقی کے حوالے سے اہم قرار دیتے واضح کیا کہ ہمیں پاکستان کو معاشی حوالے سے مضبوط بنانا اور آگے لیکر جانا ہے جس کیلئے ہمارے پاس حکمت عملی بھی ہے اور دوست ممالک کی تائید و حمایت بھی اور ہم اپنی اس طاقت کو بروئے کار لا کر پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرینگے اور خطہ میں معاشی و سیاسی استحکام کو یقینی بنائینگے ۔ وزیراعظم کا ایس سی او کو سلامتی تجارت توانائی اور علاقائی رابطوں کیلئے بروئے کار لانے پر زور کو اس پلیٹ فارم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا عمل قرار دیا جا سکتا ہے ۔ یہ کہنا جراتمندانہ پہلو دراصل پاکستان یہ پیغام دے رہا ہے کہ عالمی سیاست میں اب واشنگٹن ہی مرکز نہیں بلکہ ایشیائی ممالک اپنے مسائل کے حل میں خود مختار کردار چاہتے ہیں اور علاقائی مسائل کا حل علاقائی سطح پر مل جل کر نکالا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے چین کا کردار اہم ہے چین کے ساتھ پاکستان کی سٹرٹیجک قربت مزید تقویت حاصل کر سکتی ہے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت اور رابطہ کاری کیلئے پاکستان کی اہمیت بڑھ سکتی ہے ایران کے حوالے سے پاکستان کیلئے سفارتی گنجائش کے روشن امکانات ہیں بلاشبہ اس تقریر سے علاقائی سیاست تو تبدیل نہیں ہوگی اصل امتحان یہ ہے کہ پاکستانی تجارت ،سی پیک ،گوادر اور خصوصاً افغانستان ایران اور وسطی ایشیا بارے عملی اقدامات کیسے انجام دئیے جاسکتے ہیں۔پاکستان اگر وسط ایشیا تک اپنی جغرافیائی رسائی کو عملی تجارتی راستوں میں تبدیل کرتا ہے تو اسکے دیرپا اثرات ہو سکتے ہیں پاکستان کا ایس سی او میں فعال کردار نئی دہلی کیلئے سفارتی طور پر چیلنج ہے لیکن پاکستان کو بھارت مخالف بیانیہ کی بجائے اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطے کا مقدمہ اور زیادہ مضبوطی سے پیش کرنا ہے اور اصل سوال یہ ہوگا کہ بڑی طاقتوں کی کشیدگی میں پاکستان اپنا توازن کس حد تک برقرار رکھ پاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...