اللہ کے مہمانوں کو شہید کرنا ظلم عظیم : مذہبی قیادت ، حوثی حملوں کی مذمت
حرمین کی حدود میں چیونٹی مارنا بھی حرام، پاکستان سعودیہ کیساتھ کھڑ ا ،دفاع کیلئے حمایت جاری رکھے گا :سردار یوسف 22 اکتوبر کو آبپارہ میں اجتماع کا اعلان ، دونوں ممالک میں عزت و احترام کا تعلق قائم ہے :پاک سعودی یکجہتی کونسل
اسلام آباد ( اپنے رپورٹر سے )پاکستان کی بڑی مذہبی قیادت نے عمرہ زائرین پر حوثی حملوں کی شدیدمذمت کرتے ہو ئے کہا کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہے ، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے قابل مذمت ہیں، خصوصا ًعمرہ زائرین کو نشانہ بنانے کی کوشش ناقابل قبول ،سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کی میزبانی میں پاک سعودی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب میں ہونے والی پریس کانفرنس سے سرپرست پاک سعودی یکجہتی کونسل وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، سرپرست سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، مولانا عبدالغفور حیدری، شاہ اویس نورانی ، مولانا محمد احمد لدھیانوی، ڈاکٹر علی محمد ابو تراب، مولانا فضل الر حمن خلیل، پروفیسر سجاد قمر نے خطاب کیا ، سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور ان حملوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ احرام کی حالت میں اﷲ کے مہمانوں کو شہید کرنا کسی طور پر قابل قبول نہیں ،حرمین شریفین کی حدود میں جہاں چیونٹی مارنا حرام ہے وہاں ضیوف الرحمن کو شہید کرنا ظلم عظیم ،پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑ ا اس کے دفاع کے لئے اپنی حمایت جاری رکھے گی ۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سعودی عرب کے معاملے پر حکومت اور عوام کا ایک پیج پر ہونا خوش آئند ہے ،علامہ لدھیانوی نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ، اس لئے دونوں ممالک کے درمیان عزت و احترام کے تعلق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ، انہوں نے اعلان کیا کہ 22 اکتوبر کو آبپارہ میں عظیم الشان اجتماع منعقد کیا جائے گا، جس میں حوثیوں کی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments