موجودہ حکومت کے کیس کھلے ہوئے ،متعلقہ ارکان اسمبلی باخبر ، میڈیا پر ابھی تشہیر نہیں ہو رہی :چیئرمین نیب

موجودہ حکومت کے کیس کھلے ہوئے ،متعلقہ ارکان اسمبلی باخبر ، میڈیا پر ابھی تشہیر نہیں ہو رہی :چیئرمین نیب

اتنا ملک کا بجٹ نہیں جتنی ہم ریکوری کر کے دے رہے ،پگڑی اچھالے بغیر کسی سے پوچھیں تو فوری لوٹی رقم واپس کر دیتا ہے :لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد رواں سال اب تک 146کھرب کے سرکاری اثاثے واگزارکرائے ،عالمی ہم منصب اداروں کیساتھ تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشتیں زیرِ غورہیں:جاری رپو ر ٹ

اسلام آباد (نیوزایجنسیاں )چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے کہا ہے کہ نیب کی ریکوری ملکی بجٹ سے زیادہ ہے ،موجودہ حکومت کے کیسز بھی کھلے ہوئے ہیں، متعلقہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو پتہ ہے کس کس کا کیس کھلا ہے ، صرف میڈیا پر ابھی تشہیر نہیں ہو رہی۔میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوچھا جاتا ہے موجودہ حکومت کے کیس کب کھولیں گے ؟ کس نے کہا کیس نہیں کھلے ، موجودہ حکومت کے کیس کھلے ہوئے ہیں، میرا یہ نظریہ نہیں کہ سسٹم بیٹھ چکا ہے ، صرف چیلنجز ہیں۔ جمہوریت پسند ممالک جو ہمیں لیکچر دیتے ہیں ان کا اپنا کردار مشکوک ہے ، منی لانڈرنگ مقدمات پر وہ ممالک ہمیں جواب ہی نہیں دیتے ، ان ممالک کے قول و فعل میں زمین آسمان کا تضاد ہے ، خود ان ممالک نے لوگوں کو مزید منی لانڈرنگ کی گنجائش دے رکھی ہے ۔ خلیجی جنگ کی وجہ سے پیسہ باہر جانا رک گیا ہے ، اب واپس آئے گا، لوگ باہر بچے پڑھا رہے ہیں اور یہاں ٹیکس نہیں دے رہے ، باہر کے ممالک سے ہمیں جواب تک نہیں ملتا، میں یہاں آپ کے سامنے بے بسی کا اظہار کر رہا ہوں۔ پگڑی اچھالے بغیر کسی سے پوچھیں تو فوری لوٹی رقم واپس کر دیتا ہے ، اتنا پاکستان کا بجٹ نہیں جتنی ہم ریکوری کر کے دے رہے ہیں، میری ریکوریوں میں مصالحہ شامل نہیں ہے ۔

آپ کو کیا کسی کا کٹا سر چاہیے یا پگڑیاں چاہئیں؟ میں کسی کا نام اس لیے نہیں دیتا کہ ممکن ہے وہ کل بری ہو جائے ۔ادھر نیب کی جاری رپو ر ٹ کے مطابق 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران 9 اعشاریہ 18 ٹریلین (92 کھرب) روپے مالیت کے سرکاری اثاثے واگزار کرائے گئے ہیں جس کے بعد رواں سال اب تک بازیاب کرائے گئے اثاثوں کی مجموعی مالیت 14 اعشاریہ 6 ٹریلین(146کھرب) روپے ہو گئی ہے ۔نیب کی جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلویز کی 235,622 کنال قیمتی اراضی واگزار کرائی گئی جس کی مالیت 6 اعشاریہ 78 ٹریلین روپے ہے جبکہ مختلف صوبائی محکموں کی 866,299 ایکڑ اراضی بھی واگزار کرائی گئی جس کی مالیت 2 اعشاریہ 4 ٹریلین روپے ہے ۔نیب کے مطابق تیسری سہ ماہی میں سرکاری اثاثوں کی واگزاری پہلی دو سہ ماہیوں کے دوران بازیاب ہونے والے 5اعشاریہ 41 ٹریلین روپے مالیت کے اثاثوں کے مقابلے میں تقریبا 70ً فیصد زیادہ رہی۔ نیب سکھر نے پاکستان ریلویز کی 179,072 کنال اراضی واگزار کرائی جس کی مالیت5 اعشاریہ 1 ٹریلین روپے ہے جبکہ صوبائی محکمہ مال کی 51 اعشاریہ 41 ایکڑ اراضی بھی واگزار کی گئی جس کی مالیت 1 اعشاریہ 14 ارب روپے ہے ۔ نیب بلوچستان نے محکمہ جنگلات کی 811,967 ایکڑ اراضی واگزار کرائی جس کی مالیت 1 اعشاریہ 71 ٹریلین روپے بتائی گئی ہے ۔

نیب ملتان نے صوبائی محکموں کی 43,028 ایکڑ اراضی، مالیت 102 اعشاریہ 97 ارب روپے ، پاکستان ریلویز کی 49,426 کنال اراضی، مالیت 1 اعشاریہ 56 ٹریلین روپے واگزار کرائی۔اسی طرح نیب لاہور نے صوبائی حکومت کی 4,380 ایکڑ اراضی، مالیت 563 ارب روپے اور پاکستان ریلویز کی 7,124 کنال اراضی، مالیت 156 ارب روپے واگزار کرائی۔ نیب خیبر پختونخوا نے محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کی 6,872 ایکڑ اراضی واگزار کی جس کی مالیت 16.16 ارب روپے ہے ۔نیب اسلام آباد/راولپنڈی اور نیب خیبر پختونخوا نے کوہستان سکینڈل سے متعلق مقدمات میں پلی بارگین کے ذریعے 2 اعشاریہ 22 ارب روپے بھی بازیاب کئے ۔ متاثرین کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے لئے تیسری سہ ماہی کے دوران 4,280 افراد کے بینک اکائونٹس میں 908 اعشاریہ 42 ملین روپے منتقل کئے گئے ۔ نیب نے انسدادِ بدعنوانی کے نظام کو موثر بنانے اور ادارہ جاتی استعدادِ کار بڑھانے کے لئے دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کئے جبکہ بین الاقوامی ہم منصب اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے مزید مفاہمتی یادداشتیں زیرِ غور ہیں۔ مارچ 2023 سے ستمبر 2026 تک نیب نے مجموعی طور پر 26 اعشاریہ 1 ٹریلین روپے مالیت کے اثاثے واگزار کئے ہیں۔ ادارے کے مطابق اس کی حکمتِ عملی میں بدعنوانی کے خلاف قانونی کارروائی، انسدادی اقدامات، ناجائز طور پر حاصل کئے گئے سرکاری اثاثوں کی بازیابی، عوامی وسائل کے تحفظ اور عوامی آگاہی میں اضافہ شامل ہے ۔نیب نے سرکاری اثاثوں کے تحفظ، احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے ، شفافیت کے فروغ اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...