بجلی کا صرف ایک یونٹ بڑھنے پر غریبوں کا 6 ماہ خون چوساجاتا ہے: عابد شیر علی
201 یونٹ استعمال کرنیوالاکیسے 400 سلیب والا بل دیگا، یونٹ بڑھا کر آپ عوام پر پرچے بنا دیتے :لیگی سینیٹر 6 ماہ تک اضافی چارجز کا معاملہ ختم کررہے :وزیر توانائی،سینیٹ اجلاس میں وزرا کی عدم موجودگی ،کورم نامکمل
اسلام آباد (وقائع نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ 200 سے ایک یونٹ بڑھ جانے پر 6 ماہ تک اضافی چارجز کا معاملہ ختم کرنے پر کام کررہے ہیں۔200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دو کروڑ ہے جن میں سے زیادہ تر شمسی توانائی استعمال کرتے ہیں،بجلی صارفین کویونٹ کے بجائے غربت کی بنیاد پر ریلیف دینے پرکام جاری ہے ۔سینیٹ اجلاس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ٹیرف سے صارفین پر بوجھ سے متعلق بات کرتے ہوئے عابد شیر علی نے کہا کہ ایک اضافی یونٹ سے 200 سے 201 ہو جائے تو ٹیرف 15 سے 30 روپے یونٹ ہوجاتا ہے ، 201 یونٹ استعمال کرنے والا کیسے 400 یونٹ سلیب کا بل دے گا، یونٹ بڑھا کر آپ غریب عوام پر پرچے بنا دیتے ہیں، آپ غریب آدمی کا 6 ماہ خون چوستے ہیں۔عابد شیر علی کے توجہ دلاؤنوٹس پر اویس لغاری نے کہا کہ 200 سے ایک یونٹ بڑھ جانے پر 6 ماہ تک اضافی چارجز دینے کے معاملے کو ختم کرنے پر کام کررہے ہیں اور ہوسکتا ہے 200 یونٹس کو 250 یونٹس تک لے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ 200 سے کم یونٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 2 کروڑ تک پہنچ گئی ، 200 یونٹ سے نیچے تمام افراد کو ڈسکاؤنٹ دینا مناسب نہیں کیونکہ اس میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاس سولر ہیں اور سولر کے باعث ان کے یونٹس کم ہوتے ہیں۔اویس لغاری کا کہنا تھا کہ جو صارفین غربت کی لکیر کے نیچے ہیں انہیں ایسی ڈسکاونٹ سے مستفید کریں گے ۔ بجلی کے ٹیرف سلیب کا تعین ضروری ہے تاکہ مستقبل میں یہ مسئلہ ختم کیا جا سکے ۔ اویس لغاری نے کہا کہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کم ہو کر 1670 ارب روپے رہ گیا اور حکومت نے آئندہ چار سال میں اسے ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ اسی مدت میں گردشی قرضوں پر ڈیٹ سروس سرچارج بھی ختم کرنے کا منصوبہ ہے ۔ وزارت توانائی کو حکومت کے قیام کے وقت 1180 ارب روپے کی بجٹ سپورٹ ملتی تھی جو رواں سال کم ہو کر 700 ارب روپے رہ گئی ۔ ڈسکوز کے نقصانات میں ہر سال کمی ہوئی ہے تاہم اس کا فائدہ ابھی تک صارفین کو منتقل نہیں ہو سکا۔منگل کو پریذائیڈنگ افسر سینیٹر عبدالقادر کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا جس میں وزرا کی عدم موجودگی پر اپوزیشن ارکان نے اعتراضات اٹھائے۔
سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں تو سوالات کے جواب کون دے گا جبکہ سینیٹر ہمایوں مہمند نے اجلاس تاخیر سے شروع ہونے کے باوجود حکومتی ارکان کی عدم موجودگی پر تنقید کی۔سینیٹر جان محمد نے کورم کی نشاندہی کی جس پر گنتی کے بعد کورم نامکمل پایا گیا اور گھنٹیاں بجائی گئیں۔ اجلاس میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کیا گیا۔ وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ایوان میں صرف آٹھ ارکان موجود تھے ۔ کورم پورا کرنے کے لیے دوبارہ گھنٹیاں بجائی گئیں اور ارکان کا انتظار کیا گیا تاہم وقفے کے بعد بھی کورم مکمل نہ ہو سکا۔وقفہ سوالات کے دوران وزیر پارلیمانی امور طارق فضل نے بتایا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے تحت چھ منصوبے شروع کیے گئے تھے جو بند نہیں ہوئے اور نہ ہی انہیں بند کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے ۔ اسلام آباد میں نیلور ہائٹس کا منصوبہ تکمیل کے قریب ہے جبکہ پنجاب میں منصوبوں کی نگرانی صوبائی حکومت کر رہی ہے ۔ بعض منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور کچھ تکمیل کے مراحل میں ہیں، وفاقی دارالحکومت میں منصوبے سی ڈی اے کے زیر انتظام ہیں۔ بعدا زاں سینیٹ کا اجلاس جمعرات کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments