نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید8 ہزار 183 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 30 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 192 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 68 ہزار 624 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر1353مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 11.92 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates

دوا کے بعد دعا

فورٹ بیل وائر واشنگٹن کے علاقے کی ایک فوجی چھاؤنی ہے۔ایک بار جنرل ضیا الحق سرکاری دورے پر امریکہ آئے تو چھاؤنی کے ایک دروازے پر صدرجمی کارٹر (1977-81ء) نے اخبار نویسوں سے ان کا تعارف کرایا: ''یہ ہیں پاکستان کے صدر‘ امریکہ کے طور طریقوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ایک بار اس جگہ تربیت پا چکے ہیں‘‘۔ جنرل نے امریکی صدر کو سلیوٹ کیا اور بولے: ''ایک نہیں دو بار‘ سر‘‘۔ کارٹر بولے: ''میں اپنی غلطی کی تصحیح کرتا ہوں۔ یہ دو بار فورٹ میں رہ چکے ہیں‘‘۔ منکسر مزاج کارٹر اسی طرح اپنی غلطیوں کی تصحیح کرتے رہے۔ 20اگست کو جب انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ وہ کینسر (میلانوما)کے مریض ہیں اور یہ کہ مرض ان کے دماغ تک پھیل چکا ہے اور چند ہفتے بعد شاید وہ یہاں نہ ہوں تو اس حالت میں انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 1979ء میں اگر وہ ہیلی کاپٹروں کا ایک اور سیٹ تہران بھیج دیتے تو دوسری مدت کے لیے الیکشن میں کامیاب ہو جاتے۔ چار ماہ پہلے جب اس 91 سالہ آدمی نے جارجیا کے ایک مذہبی اجتماع میں اعلان کیا کہ اب میرا جسم سرطان سے پاک ہے تو بیشتر حاضرین نے اسے ایک معجزہ قرار دیتے ہوئے خوشیاں منائیں۔ وہ ایک نئی دوا (Pembrolizumab) کھا رہے تھے جو بقول سابق صدر، موثر ثابت ہوئی۔ یہ دوا کینسر کی نشان دہی اور اسے تباہ کرنے میں انسانی جسم کی قوت مدافعت کی امداد کرتی ہے۔ جب سے دوسری مدت کا الیکشن ہارے ہیں، وہ اپنے گاؤں کے چرچ میں ہفتہ وار لیکچر دیتے ہیں‘ جسے سننے کے لئے سارے ملک سے ان کے پرستار ایک کلاس کی شکل میں جمع ہوتے ہیں۔ اس روز یہ کلاس کوئی 300 افراد پر مشتمل تھی۔
امریکہ کے انتالیسویں صدر کارٹر کی بد قسمتی کہ وہ ایران میں شاہ کے زوال اوراسلامی انقلاب کا سال تھا اور جنرل ضیا نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختے پر لٹکایا تھا، جو کھل کر امریکہ کی مخالفت کرتے تھے۔اسی سال سوویت یونین نے افغانستان پر فوج کشی کی تھی، جس نے امریکی نگاہوں میں ہمسایہ ملک میں بر سر اقتدار فوجی افسر کی تقدیر روشن کر دی تھی۔کارٹر کی صدارت کا بیشتر حصہ خارجہ پالیسی کے انہی مسائل سے عہدہ برآ ہو تے گزرا اور دوسری مدت کا الیکشن ہونے پر وہ ہالی وڈ کی بی کلاس فلموں کے اداکار سے ہار گئے۔
کارٹر سے پہلے اور بعد میں کئی ڈیموکریٹ صدر ہوئے مگر بعد از عہدہ جو بین الاقوامی عزت و تکریم کارٹر کے حصے میں آئی کسی اور صدر کو نصیب نہیں ہوئی۔ 2002ء میں انہیں امن کے نوبیل پرائز سے نوازا گیا۔ان کی سب سے بڑی طاقت ‘ خدا پر ان کا مکمل یقین ہے جس نے انہیں انجام کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیا۔ کانگرس کی منظوری سے انہوں نے پلینز جارجیا میں ایک لائبریری بنوائی اور اٹلانٹا میں ایک کارٹر سنٹر قائم کیا جس نے دنیا میں صحت ‘ تعلیم اور مفلسی کو کم کرنے کے لیے نمایاں کام کیا۔ کارٹر جمہوریت پسند تھے، وہ خود یا اس مرکز کے لوگ ہر اس ملک میں جاتے رہے جہاں جمہوری انتخابات ہوئے ہیں۔ ان میں مصر‘ اسرائیل ‘ نیپال، گی آنا‘ تیونس اور پاکستان شامل ہیں۔ وہ سیاست کو (عوام کی) خدمت سمجھتے تھے اور ایک نیوکلیئر فزسٹ ہونے‘ بحریہ میں افسری ‘ جارجیا ایوان نمائندگان کی رکنیت ‘ ایمری یونیورسٹی میں پروفیسری اور انتیس کتابیں لکھنے کے باوجود انہوں نے ہاتھ سے کام کرنا نہیں چھوڑا۔رونلڈ ریگن سے ہار ماننے کے بعد انہوں نے For Humanity Habitatکے نام سے ایک ادارہ قائم کیا اور مکان بنا کر غریبوں کو دیتے رہے۔جب میں نے الیگزنڈریہ، ورجینیا میں رہائش اختیار کی تو ساتھ والی گلی میں خالی پلاٹ پر اس ادارے کی تختی نصب تھی اور تعمیر کا کام جاری تھا۔
جنرل ضیا الحق نے 1977ء میں مارشل لا کے نفاذ پر قوم سے وعدہ کیا تھا کہ اگلے تین ماہ میں از سر نو انتخابات ہوں گے اور اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کر دیا جائے گا۔کارٹر چار سال کی پہلی مدت مکمل کرکے اقتدار سے ہٹ گئے مگر ضیا، جو اسلام کے نام پر آبادی کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کا سبب بنے تھے اور پرلے درجے کے عہد شکن تھے، کرسی پر ڈٹے رہے۔1988ء میں یوم آزادی منانے سے تین دن بعد اگر وہ ‘ امریکی سفیر آرنلڈ رافیل‘ اپنے جانشین جنرل اختر عبدالرحمن اور دوسرے افسروں کے ساتھ ایک ہوائی حادثے میں جاں بحق نہ ہوتے تو شاید اب بھی صدر مملکت ہوتے یا اپنے فرزند اعجاز الحق کے، جو ایک اور جنرل کے ماتحت وزیر کے منصب تک پہنچے، حق میں دستبر دار ہو گئے ہوتے۔
جمی کارٹر کی سب سے بڑی کامیابی ‘ مصر اور اسرائیل میں امن معاہدے میں ان کے کردار کو سمجھا جاتا ہے، جوصدر انوارالسادات‘ وزیر اعظم یزہاک رابین کے ساتھ نوبیل پرائز میں ان کی حصے داری کی شکل میں سامنے آئی۔دو ریاستوں کا قیام اسی امن معاہدے کے بطن سے پیدا ہو ا تھا۔ گو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے زیر قیادت اسرائیل اس معاہدے سے منحرف ہو رہا ہے مگر ان کے ملک کو سعودی عرب‘ ایران اور پاکستان کے سوا دنیا میں جو اعتبار حاصل ہے، وہ اسی سمجھوتے کی بدولت ممکن ہوا۔
کارٹر کی صحت کے معاملے میں روایتی تابکاری اور نئی دوا کے امتزاج نے کام دکھایا۔Immune-Based نامی دوا نجی ریسرچ کا ثمر ہے اور اس پر ڈیڑھ لاکھ ڈالر سالانہ لاگت آتی ہے۔ اس سے پہلے ان کے جگر پر سے سرطان کے مواد کو کھرچ دیا گیا تھا تو ڈاکٹروں نے دماغ پر چار جگہوں پر کینسر دیکھا جسے اس دوا نے صاف کیا۔خوراک اورادویہ کا محکمہ(ایف ڈی اے) ‘جو ہر نئی دوا کی منظوری دیتا ہے‘ اس دوا کو پہلی دواؤں پر فوقیت دے رہا ہے۔ظاہرہے کہ یہ علاج ابھی مہنگا ہے مگر جوں جوں اس کی مانگ بڑھے گی وہ سستا ہوتا چلا جائے گا۔اسے سینے‘ مثا نے اور خون کے سرطان کے علاج معالجے میں بروئے کار لانے کی درجنوں تحقیقات جاری ہیں۔مثال کے طور پر ایف ڈی اے نے پھیپھڑے کے سرطان کے بعض مریضوں پر اس دوا کو آزمانے کی اجازت دے دی ہے۔مسٹر کارٹر اس طریقہ علاج کے علاوہ اپنی صحت یابی کو بہت سے لوگوں کی دعاؤں کا پھل قرار دیتے ہیں اور اس کے لئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے وہ بزرگ صورت طبیب یاد آتے ہیں جو اپنے مریض کو دوا دینے کے بعد اس کے حق میں دعا بھی کیا کرتے تھے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں