نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہوراورگردونواح میں وقفےوقفےسے بارش کاسلسلہ جاری
  • بریکنگ :- آئندہ 24گھنٹےکےدوران وقفےوقفےسےبارش کاسلسلہ جاری رہےگا،محکمہ موسمیات
Coronavirus Updates

گوتم بودھ کا اوتار

ڈاکٹر ستیہ پال آنند واشنگٹن کے علا قے کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ وہ اپنی اردو ‘ ہندی اور انگریزی تحریروں کی بدولت پاکستان ‘ بھارت اور باقی دنیا میں یکساں معتبر اور مقبول ہیں۔ مختلف زبانوں میں نظم و نثر کی چالیس کتابوں کے مصنف ہیں۔ اب ان کی سوانح عمری کراچی سے چھپ کر آئی ہے۔ وہ جنوبی پنجاب کے اس حصے میں پیدا ہوئے تھے جو بعد میں پاکستان میں شامل ہوا۔ وہ بھارت ورش تک اپنے والدین کے سفرکا ذکر کرنے سے اجتناب کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں داخل ہونے والے مہاجر اپنے خاندانوں کے افراد کے انجام کے تذکرے سے گھبراتے ہیں۔ بٹوارے کے وقت ہندوستان کی طرف ہجرت کی اور ایک شرنارتھی کی حیثیت سے لدھیانے میں کام کا آغاز کیا۔ اردو، ہندی اور انگریزی ادب کا مطالعہ کیا اور ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ گوتم بودھ کے نئے اوتار معدودے چند ان غیر مسلموں میں شامل ہیں جو مسلمانوں کے اللہ اور رسول کی غلامی پر فخر کرتے ہیں۔ طالب علموں کو پڑھانے کے لئے جدہ پہنچے تو فی البدیہہ یہ نظم لکھی کیونکہ مذہب کی بنا پر انہیں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی راہ لینے کی اجازت نہیں تھی: 
حضور اکرم !
فقیر اک پائے لنگ لے کر‘ سعادت حاضری کی خاطر
ہزاروں کو سوں سے آپ کے در پہ آ گیا ہے‘ نبی برحق !
یہ حاضری گرچہ نا مکمل ہے‘ پھر بھی اس کو قبول کیجیے‘ حضور اکرم !
یہ فقیر اتنا تو جانتا ہے کہ قبلہ دید صرف اک فاصلے سے اس کو روا ہے
اس کے نصیب میں‘ مصطفیٰ کے در کی تجلیاں دور سے لکھی ہیں !
جدید نظم کا یہ اقتباس ان کی تصنیف '' لہو بولتا ہے‘‘ سے لیا گیا جس میں اور نعتیں بھی شامل ہیں اور جس کا دیباچہ وزیر آغا مرحوم نے تحریر کیا تھا۔ 
وہ سعودی عرب کے علاوہ یورپ، کینیڈا اور امریکہ میں 
پڑھاتے رہے۔ درس و تدریس کے اس چسکے نے ریٹائرمنٹ میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ وہ ادبی محفلوں میں شاعروں کو وزن سے خارج کلام سنانے پر ٹوک دیتے ہیں۔ وہ خود نوشت سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ ادیب فاضل کے امتحان میں بیٹھنے سے پہلے''حدائق البلاغت‘‘ گھول کر پی گئے تھے۔ شعر کے وزن کی صحت کا اندازہ تو تقریباً ہر باذوق کو ہو جاتا ہے مگر شعر کی تقطیع کا فن اب بر صغیر کے چند نقادوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جن میں سے ایک ڈاکٹر آنند ہیں۔
علم عروض پر اس کتاب کا کچھ مطالعہ میں نے بھی کیا تھا مگر جب پتا چلا کہ غدر کے دوران ‘ انگریز حاکموں نے دلی میں مترجم امام بخش صہبائی کے گھر پر کولہو چلوا دیا تھا اور یوں انہیں باغیوں کا ساتھ دینے کے جرم کی سزا دی تھی تو دل کو یک گونہ سکون ہوا کیونکہ فارسی تصنیف کے اردو ترجمے کے مندرجات سے بہت کم میرے پلے پڑے تھے۔ صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں اور ہندوئوں کا یہ نادر اجتماع‘ آنند کی باتیں سننے کے لیے ہوا تھا۔
ہندو شاستروں میں انسان کی طبیعی عمر کو چار '' آشرموں ‘‘ یعنی''برہم چریہ آشرم‘‘، ''گرہست آشرم‘‘ ، '' بان پرستھ آشرم‘‘ اور ''سنیاس آشرم‘‘ میں منقسم کیا گیا ہے۔ چوتھے اور آخری آشرم میں انسان سب کچھ تیاگ کر تپسیا اور یاترا کے لیے نکل جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر آنند بھی ان چار دورانیوں میں یقین رکھتے ہیں گو وہ انہیں چار جنم کہتے ہیں اور الگ الگ ان کی کہانی کہتے ہیں۔ ساڑھے پانچ سو صفحوں کی یادداشتوں میں پہلی دو کتھائیں تو اہل پاکستان کو بہ آسانی سمجھ میں آتی ہیں کیونکہ یہ ان کے جغرافیے اور شخصیات کا احاطہ کرتی ہیں مگر باقی دو کہانیاں سمجھنے کے لیے اہل علم اور جہاں گشت ہونا لازم ہے۔ خود نوشت سوانح عمری گو نثر کی کتاب ہے مگر اس میں جگہ جگہ ڈاکٹر آنند کی نظمیں بھی ملتی ہیں جن کی تاریخی خوبی یہ ہے کہ آخر میں ان کی شان نزول بھی درج کر دی گئی ہے۔ مثلاً '' کو ٹ سارنگ کا مکان‘‘ ان کے آبائی گائوںکے بچپن کی یاد دلاتا ہے۔ 
چار جنموں کی کتھا لکھ کر ڈاکٹر آنند نے ادبی مؤرخ کا کام آسان کر دیا ہے۔ یہ ایسا خام مال ہے جو بر صغیر کی ادبی تاریخ مرتب کرنے والوں کے کام آئے گا۔ اے حمید مرحوم نے اپنی اور ساحر لدھیانوی کی لا مثال دوستی کے ذکر میں ان کی ابتدائی زندگی کے واقعات لکھے ہیں۔ ڈاکٹر آنند نے بھی ساحر سے اپنے تعلقات کے بارے میں کئی واقعات قلمبند کیے ہیں۔ ''شمع‘‘ میں چھپی ہوئی آنند کی ایک کہانی پر ساحر کو اعتراض یہ تھا کہ یہ کہانی ان کے کردار کو غلط روشنی میں پیش کرتی ہے۔ آخر کار یہ تصفیہ ہوا کہ ساحر لدھیانوی کی دوستی اور خلوص کو سامنے رکھتے ہوئے آنند اپنی یہ کہانی کسی کتاب میں شامل نہیں کریں گے۔ بمبئی میں ساحر کے گھر میں قیام کے دوران ساحر کی والدہ نے شکایت کی کہ عبدالحی (یہ ساحر کا نام تھا) ہنستا بالکل نہیں ہے تو آنند نے کہا: ''ساحر، تمہارا نام 'ساحر لدھیانوی‘ سے بدل کر' سیریس لدھیانوی‘ رکھ دیا جائے تو بہتر ہے‘‘۔ اس پر ساحر بھی قہقہہ مار کر ہنسا اور دوسرے بھی۔ سینئر ہم عصر ادبی شخصیتوں کے بارے میں ڈاکٹر آنند کی یادداشتوں کے خزانے کے موتیوں میں ہندوستان سے منشی تلوک چند ، جوش ملسیانی، فراق گورکھپوری، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، اختر الایمان، ملک راج آنند، قرۃ العین حیدر اور پاکستان سے مشفق خواجہ، شوکت صدیقی، جمیل الدین عالی مرحوم اور کئی دیگر مشاہیر قلم شامل ہیں۔ ان لوگوں سے ڈاکٹر آنند کی ملاقاتیں تاریخی اہمیت کی حامل ہیں کہ ان کے احوال ناموں میں ان کی شخصیات اور تصانیف کا 
تذکرہ ہے اور بدلتے ہوئے ادبی اور سیاسی حالات کے پس منظر میں ان کی ذاتی زندگی کا قریبی مطالعہ بھی۔ ترقی پسند تحریک اور اس کے بعد جدیدیت اور ما بعد جدیدیت کے سیلاب میں بہتے ہوئے ہمعصر اہل قلم کی تاریخ کے عینی شاہد ڈاکٹر آنند نے اس کتاب میں کچھ ایسے انکشافات کیے ہیں، جن کے پڑھنے سے بہتوں کا بھلا ہو گا۔ 
حلقہ ارباب ذوق شمالی امریکہ کا 117 واں ماہانہ اجلاس آنند کی تحریروں کے لیے وقف تھا۔ '' ستیہ پال آنند کی نظم نگاری‘‘ پر چار سو سے زیادہ صفحات کی کتاب کے ترتیب کار ڈاکٹر اے عبداللہ نے ‘جو اس پر ہجوم محفل کے ناظم تھے‘ بتایا کہ آنند کے آٹھ شعری مجموعے چھپ چکے ہیں اور چار ناول اور افسانوں کا مجموعہ اس پر مستزاد ہے۔ خود آنند صاحب نے کہا کہ نظیر اکبرآبادی کو اردو کا سب سے بڑا نظم گو کہا گیا ہے مگر انہوں نے چھ سو سے زیادہ نظمیں لکھ کر نظیر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آنند کو در اصل جدید اردو نظم کا موجد سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنی نظموں میں بحر کا تو اہتمام کرتے ہیں مگر قافیہ اور ردیف کو آمد میں رکاوٹ جان کر رد کرتے ہیں۔ انہوں نے چکوال کے ایک گاؤں میں اپنے بچپن کا احوال سنایا اور پھر ایک واقعہ جس نے بڑی عمر کے بہت سے حاضرین کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔۔۔۔''مجھے اپنا گھر دیکھنے کا شوق تھا۔ اس مرتبہ پا کستان گیا تو علی محمد فرشی اور دوسرے اہل قلم کی معیت میں اپنے گاؤں جا پہنچا۔ جس عورت کو ہمارا گھر الاٹ ہوا تھا اس نے صحن میں ایک چار پائی ڈال کر اس پر ایک کھیس بچھا رکھا تھا۔ گفتگو کے دوران کہنے لگی: صاحب جی‘ پچھلی دیوار کمزور ہے اگر آپ اس کی مرمت کرادیں تو بڑی مہربا نی ہوگی۔ وہ اب تک مجھے اس گھر کا مالک تسلیم کر رہی تھیں‘‘۔ اس قسم کا واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آ چکا ہے۔ حال ہی میں جب میں نے مشرقی پنجاب میں اپنا گاؤں دیکھا تو وہاں ہمارے گھر کا نام و نشان باقی نہیں تھا۔ مجھے اس کے محل وقوع کا اندازہ ذیلدار کی حویلی سے ہوا جو اس گھر کے پاس تھی جو ڈھے چکی تھی اور جس پر سکھ ذیلدار صاحب کے نام کی تختی بھی اس کے ملبے میں پڑی تھی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں