"ACH" (space) message & send to 7575

بجٹ سے قبل کی افواہیں

حالیہ منی بجٹ سے قبل جن افواہوں کا بازار گرم تھا ان میں سب سے بڑی افواہ موبائل فون کارڈ پر تیس چالیس فیصد ٹیکس کی واپسی تھی۔ یہ ٹیکس سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ختم کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس بارے زبردست منفی مہم چلاکر یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ حکومت یہ ٹیکس لگا کر دراصل عام آدمی کو براہ راست ٹارگٹ کر رہی ہے اور دوسرا پیغام یہ دیا گیا کہ موجودہ حکومت سابق چیف جسٹس اور عدلیہ کی پالیسیوں سے ناخوش تھی چنانچہ وہ چلے گئے تو ان کے جاتے ہی موبائل کارڈ ٹیکس بحال کر دیا۔ یہ پروپیگنڈہ بھی جھوٹا نکلا۔ یہ جعلی خبریں پھیلا کون رہا تھا اس کی تحقیق کی جانی چاہیے۔ ایک اطلا ع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی نے جو میڈیا سیل بحال کیا تھا‘اس طرح کی جھوٹی افواہیں ایسے مقامات سے ہی پھیلائی جا رہی ہیں اور ان کا مقصد عوام کو حکومت سے بدظن کرنا ہے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے بجٹ پیش کیا تو اس میں موبائل کارڈ پر ٹیکس لگانے کا دُور دُور تک ذکر نہ تھا جس سے مخالفین کے غبارے میں سے ہوا نکل گئی۔ حکومت چاہتی تو یہ ٹیکس لگا سکتی تھی اور اس سے معیشت کو بہر حال سپورٹ مل سکتی تھی لیکن اگر یہ ٹیکس لگایا جاتا تو حکومت پر یہ کہہ کر تنقید کی جاتی کہ دیکھو حکومت عدلیہ کے فیصلوں کو خاطر میں نہیں لاتی اور عوام دشمنی پر تُلی ہے۔اس منی بجٹ میں جتنے بھی اقدامات کئے گئے وہ چھوٹے طبقے کو مدنظر رکھ کر کئے گئے اور یہ حکومت کے ناقدین بھی کہہ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر کچھ ریٹنگ کے طلب گار تجزیہ نگاروں کو مایوسی بھی ہوئی ہو گی کیونکہ وہ جس طرح حکومت کے لئے چھریاں کانٹے تیز کر کے بیٹھے ہوئے تھے اس بجٹ نے ان کی امیدوں پر اوس پھیر دی۔ 
صاف دکھائی دیتا ہے کہ بجٹ میں فائلر کے لئے مزید آسانیاںپیدا کی گئی ہیں مثلاً یہ کہ بینکوں سے کیش ٹرانزیکشن پر اعشاریہ تین فیصد ٹیکس فائلر کے لئے ختم کر دیا گیا۔ اسی طرح نان فائلر تیرہ سو سی سی سے بڑی گاڑیاں نہیں خرید سکیں گے۔اٹھارہ سو سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھایا گیا اور بڑھایا بھی جانا چاہیے تھا کیونکہ اٹھارہ سو سی سی سے بڑی گاڑیاں متوسط یا غریب طبقے کے استعمال میں نہیں آتیں۔ ایسی کوئی گاڑی اگر پچاس سے بڑھ کر ساٹھ لاکھ کی بھی ہو جاتی ہے تو اشرافیہ طبقہ پھر بھی اسے خرید لے گا جس سے خزانے میں معقول رقم آئے گی۔دیگر لگژری اشیا پر بھی ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز دی گئی‘ جس سے پانچ چھ فیصد اشرافیہ طبقے پر بوجھ بڑھے گا جو یہ بوجھ آسانی سے اٹھا بھی سکتا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ چھوٹے شادی ہالوں پر سے ٹیکس بیس سے کم کر کے پانچ ہزار کیا گیا ہے۔ زرعی قرضوں پر ٹیکس انتالیس فیصد سے کم کر کے بیس فیصد کر دیا گیاجس سے زراعت کو فروغ حاصل ہو گا۔ طبی آلات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم ہو چکی ‘ یہ اقدام صحت کے شعبے میں بہتری لائے گا۔ ایک اور اہم قدم سستے گھروں کے لئے پانچ ارب روپے کی قرض حسنہ سکیم ہے۔ غالباً یہ اقدام ''اخوت ‘‘کے روح رواں ڈاکٹر امجد ثاقب کی تجویز پر کیا گیا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب حکومت کے لئے بہت بڑا اثاثہ ہیں۔ وہ گزشتہ سولہ سترہ برس سے دنیا کی سب سے بڑی بلا سود مائیکروفنانس سکیم ''اخوت ‘‘چلا رہے ہیں اور اب تک ہزاروں خاندانوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کر چکے ہیں ۔ ایسی ہی ایک سکیم بنگلہ دیش کے محمد یونس نے گرامین بینک کے زیر سایہ شروع کی تھی۔ اس کا فوکس بھی غریب ترین طبقہ تھا اور مقصد مالی امداد کر کے اسے روزگار کے قابل بنانا تھا لیکن ان دونوں سکیموں میں بنیادی فرق سود کا تھا کہ گرامین بینک اگر دس ہزار روپے کا قرض دیتا تھا تو وہ اس پر تین سے چار ہزار روپے سود وصول کرتا تھا جبکہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی تنظیم دس ہزار روپے کے اوپر ایک پائی بھی سود نہیں لیتی۔ مواخات مدینہ کے تصور پر قائم یہ تنظیم آج اسی وجہ سے ملک گیر سطح پر اپنے قدم جما چکی ہے۔ قرآن میں سود کو اللہ اور اس کے رسول ؐ کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے چنانچہ ڈاکٹر امجد ثاقب کا لگایا گیا یہ پودا آج اربوں روپے غریبوں میں بطور قرض دے چکا ہے اور اس قرض کی واپسی کی شرح ننانوے فیصد سے بھی زیادہ ہے ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی انہی خدمات کو دیکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے اس فلاحی نیٹ ورک سے استفادہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور غالباً نیا پاکستان ہائوسنگ فائونڈیشن کے لئے قرض دینے اور ان کی واپسی کے تمام عمل کی نگرانی ڈاکٹر امجد ثاقب کی رہنمائی میں کی جائے گی۔ اس سے پیسوں کا غبن اور قرض ڈوبنے کے خدشات بھی ختم ہو جائیں گے اور عوام سستے گھروں کے لئے چھوٹے قرض بلاسود حاصل کر سکیں گے۔منی بجٹ میں اسد عمر نے سستے گھروں کے لئے قرض حسنہ سکیم کا جو اعلان کیا ہے اس سے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر اور ان کا حصول کافی واضح دکھائی دینے لگا ہے کیونکہ اس سے قبل یہ ہی معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ غریب عوام یہ گھر کیسے خریدیں گے۔ اب یہ مسئلہ بھی حل ہو چکا۔ ایک بہترین کام بجٹ میں یہ کیا گیا ہے کہ مہنگے موبائل فونز پر زیادہ ٹیکس لگایا گیا ہے۔اس اقدام سے بھی غریبوں پر کوئی بوجھ نہیں آئے گا کیونکہ ایک لاکھ کا فون غریب نہیں لیتا۔ یہ سوا لاکھ کا ہو جائے گا تو اسے لینے والا طبقہ پھر بھی خرید لے گا۔ چھوٹے دس ہزار والے موبائل فونزپر صرف چار سو روپے ٹیکس لگایا گیا جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ ویسے موبائل فون پر جتنا زیادہ ٹیکس لگادیا جائے اتنا ہی اچھا ہے‘ کیونکہ موبائل فون کو انتہائی غیر ضروری استعمال سے بچانے کا ایک یہی طریقہ ہے۔ نوجوان نسل تو دُور کی بات اب بچے بھی موبائل فوبیا کا تیزی سے شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ چھٹی ساتویں میں ہی موبائل فون لینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور جب مارکیٹ میں دس بارہ ہزار روپے کا فون میسر ہو تو والدین بھی جھٹ سے انہیں فون دلا دیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس سے بچے کی تعلیم‘ شخصیت اور ذہنی جسمانی صحت پر اثرات کیا مرتب ہوں گے۔ بچے والدین کی لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر تیزی سے خرافات کا شکار ہو رہے ہیں۔ ٹک ٹیک ایسی ہی ایک بیماری ہے جو نوجوانوں میں تیزی سے عام ہو رہی ہے۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے اوٹ پٹانگ سی ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کر دی جاتی ہیں اور جو ویڈیو جتنی زیادہ بداخلاق ہوتی ہے وہ اتنی ہی زیادہ مستند اور مقبول سمجھتی جاتی ہے۔بچے اور نوجوان زیادہ وقت انہی فضولیات میں گزار دیتے ہیں ۔
نیوز پرنٹ سے پانچ فیصد ڈیوٹی ختم اور کھاد کی بوری دو سو روپے سستی کرنا دو ایسی خبریں تھیں‘ جن کی بہت زیادہ تحسین کی گئی۔ ایف بی آر کو غیر ملکی اثاثو ں پر ٹیکس وصولی کا جو اختیار دیا گیا ہے اس سے نا صرف بیرون ملک جائیداد رکھنے کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ وسیع پیمانے پر ٹیکس حاصل ہو گا۔ منی بجٹ میں ایسے اور بھی اہم اقدامات کئے گئے جنہوں نے اپوزیشن کی صفوں میں ماتم کا سماں پیدا کر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن نے بجٹ پڑھے بغیر ہی شور مچانا شروع کر دیا کیونکہ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ حکومت نے یہ بجٹ عوامی اور تاجر تنظیموں سے مل کر بنایا ہے اور اس میں اشرافیہ طبقے کے گرد شکنجہ سخت جبکہ غریب عوام‘ کسانوں اور چھوٹے تاجر طبقے کے لئے آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔ بہتر اپوزیشن وہ ہوتی ہے جو حکومت کے اچھے کاموں پر اس کی تعریف کرے اور غلط پر احتساب ‘ لیکن کیا کریں کہ اپوزیشن کو تو اس وقت اپنی پڑی ہے کہ ان کے لیڈر کرپشن کی جو عالم گیر داستانیں رقم کر چکے ہیں ‘ ان کا وقت ِ حساب آ چکا ہے‘ اسی لئے یہ عوام اور ملکی مفاد پر مبنی بجٹ کو بھی بغیر پڑھے رد کرنے پر مجبور ہیں۔
نیوز پرنٹ سے پانچ فیصد ڈیوٹی ختم اور کھاد کی بوری دو سو روپے سستی کرنا دو ایسی خبریں تھیں جن کی بہت زیادہ تحسین کی گئی۔ ایف بی آر کو غیر ملکی اثاثو ں پر ٹیکس وصولی کا جو اختیار دیا گیا ہے اس سے نہ صرف بیرون ملک جائیداد رکھنے کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ وسیع پیمانے پر ٹیکس حاصل ہو گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں