"ACH" (space) message & send to 7575

نئی تحریک‘ پرانے مسائل

جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے مہنگائی زیادہ اور آمدنیاں کم پڑتی جا رہی ہیں۔ گزشتہ حکومتوں کے لئے گئے قرضے اتارنے کے لئے موجودہ حکومت کو بھی آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا ہے۔ موجودہ بجٹ میں ہر دوسری حکومت سے زیادہ ٹیکسوں میں اضافے اور پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کی قوت خرید کم ہوئی ہے۔ عوام کی آواز ایوانوں تک پہنچانے اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے جماعت اسلامی ایک مرتبہ پھر میدان میں نکل آئی ہے۔ گزشتہ دنوں صحافیوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ایک تحریک کی ابتدا کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد مہنگائی میں ہوشربا اضافے‘ کرپشن اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ اس ضمن میں سولہ جون کو جماعت اسلامی نے مال روڈ پر جلسے اور عوامی مارچ سے تحریک کا آغاز کیا جس میں امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق نے قوم کو مہنگائی‘ بیروزگاری اور آئی ایم ایف سے نجات دلانے کا اعلان کیا۔
جماعت اسلامی اس سے قبل بھی کئی احتجاجی تحریکیں چلا چکی ہے اور اس کے ملک گیر احتجاج کامیاب اور پُر اثر شمار کیے جاتے رہے ہیں۔ موجودہ تحریک ایک ایسے وقت میں شروع کی جا رہی ہے جب موجودہ حکومت اپنا پہلا بجٹ پیش کر چکی ہے اور جسے اپوزیشن نے رد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی پارلیمان میں تو موجود نہیں ہے‘ لیکن وہ سمجھتی ہے کہ عوام کی آواز کو وہ مناسب انداز میں بلند کر سکتی ہے‘ خاص طور پر ایک ایسے طبقے کی آواز جو ہر دور میں مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل سے بری طرح پس رہا ہے۔ یہ خاموش دیہاڑی دار طبقہ احتجاج کرنے کی بھی سکت نہیں رکھتا کیونکہ ایک دن کام سے دوری کا مطلب گھر میں چولہے کا بجھنا اور بچوں کا بھوکے پیٹ سونا ہے۔ یہ طبقہ کئی عشروں سے خوابوں کے سہارے جیتا چلا آیا ہے اور اب تو شاید اس نے خواب بھی دیکھنا چھوڑ دئیے ہیں۔ ملک کا آج جو حال ہو چکا ہے وہ ماضی کی کسی ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ستر برس کی وہ کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے ملک کا ہر ادارہ اور ہر شخص نڈھال ہے۔ جماعت اسلامی اگرچہ سیاسی میدان میں وہ کامیابی نہیں دکھا سکی جتنی اس سے توقع تھی اور جتنا اس کا ملک گیر نیٹ ورک موجود ہے؛ تاہم تاریخ اٹھا کر دیکھی تو ہر نازک موقع پر جماعت نے جو بھی سٹینڈ لیا‘ وہ ملک کے اوّلین مفاد میں ہی لیا گیا ہے؛ تاہم اسے ہر مرتبہ تنقید کا نشانہ ہی بنایا جاتا رہا۔ کبھی جماعت پر یہ الزام آتا کہ یہ سولو فلائٹ کر رہی ہے تو یہ دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر لیتی‘ جس پر یہ کہا جاتا کہ اس نے کرپٹ جماعتوں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔ اگر یہ علیحدہ ہو جاتی تو یہ کہا جانے لگتا کہ عوام کے ایشوز سانجھے ہیں اور دیگر جماعتیں بھی انہی ایشوز کو لے کر چل رہی ہیں‘ اور عوام کی نمائندگی کر رہی ہیں تو پھر الگ سے ڈیڑھ انچ کی مسجد بنانے کا کیا فائدہ؛ تاہم اس ساری تنقید کے باوجود جماعت کا حلقۂ اثر کم نہیں ہوا بلکہ پہلے سے بڑھا ہے۔ ووٹ حاصل کرنا اور سیاست کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ موجودہ حکمران جماعت ماضی کے پانچ الیکشنوں میں کہاں کھڑی تھی لیکن جب اس کا وقت آیا تو اسے اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکا۔ یہاں البتہ کچھ چیزیں جماعت کو سوچنا ہوں گی مثلاً یہ کہ 'کرپشن کیخلاف تحریک‘ کا نعرہ تو موجودہ حکمران جماعت کا بھی نعرہ ہے تو پھر جماعت کس طرح سے اپنا الگ نقطہ نظر پیش کرے گی اور وہ کون سے خدوخال ہوں گے جس پر یہ تحریک چلائی جائے گی۔ اس بارے میں آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ جماعت کو اپنے اہداف شیشے کی طرح واضح کرنا ہوں گے کیونکہ سوشل میڈیا آنے کے بعد عوام بہت زیادہ سمجھدار ہو گئے ہیں۔ پہلے عوام کی آواز میڈیا میں پوری طرح نہیں پہنچ پاتی تھی کیونکہ چند درجن اخبارات اور ٹی وی چینلز بائیس کروڑ لوگوں کی آرا کو کیسے کور کر سکتے ہیں؛ تاہم سوشل میڈیا میں ہر ذی شعور اور موبائل فون کا حامل شخص اور ووٹر اپنے جذبات اور احساسات کی بھرپور ترجمانی کر رہا ہے۔ ان جذبات اور احساسات کو مدنظر رکھ کر ہی تحریک کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ تقریب میں ایک سینئر صحافی نے امیرالعظیم صاحب سے کہا کہ آپ کی جماعت کو تمام شعبوں کے لئے دل کھلا رکھنا چاہیے‘ وگرنہ آپ صرف مخصوص طبقے کی جماعت بن کر رہ جائیں گے۔ اس پر امیرالعظیم نے مدلل انداز میں بتایا کہ وہ شدت پسندی پر مبنی اسلام کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کے دوروں کے دوران ان کی اور دیگر اصحاب کی بہت سی غلط فہمیاں ختم ہوئیں‘ اور اسلام کو ایک جدید شکل میں دیکھ کر بہت سے ابہام دور ہوئے۔ جماعت کو اس حوالے سے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کا نوجوان اسلا م کی کیا تشریح کر رہا ہے وہ عقائد‘ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں کس قدر سنجیدہ اور آگاہ ہے اس بارے میں ایک الگ فکر انگیز تحریک کی ضرورت ہے‘ جو نوجوانوں کو اقبال کی شاعری کی تشریح کرکے بتائے کہ دراصل مذہب اور دنیا کا آپس میں کیا تعلق ہے اور ایک نوجوان کس طرح سے اپنے جنون اور جوانی کو دنیا کی بہتری کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ جماعت کا ملک گیر وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ اگر وہ نوجوانوں کی درست راہ پر رہنمائی کر سکیں گے تو یہ مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف احتجاج سے بڑی کامیابی ہو گی۔ موجودہ حکمران جماعت نے بھی موجودہ الیکشن نوجوانوں کے بل پر جیتا۔ ان کے مسائل اجاگر کئے اور انہیں ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی دلائی۔ یہ تو اگلے دو تین برسوں میں مزید کھل کر واضح ہو جائے گا کہ ان نوجوانوں کو جو خواب دکھائے گئے وہ پورے ہوئے یا نہیں۔ آج ایم کیو ایم کتنے دھڑوں میں بٹ چکی‘ مسلم لیگ کے ساتھ لاحقے لگا لگا کر اس کا کیا حشر کر دیا گیا‘ کئی سیاسی جماعتیں اور علاقائی تنظیمیں وقت کی گرد میں گم ہو گئیں‘ لیکن جماعت اسلامی آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود اور متحرک ہے۔ اس کی رفتار آہستہ یا تیز تو ہو سکتی ہے لیکن اس کی سمت درست ہے۔ اس میں جو خامیاں اور کمزوریاں ہیں اور یہ کن لوگوں اور جماعتوں کے باعث مسائل سے دوچار رہی‘ ان کا تفصیل سے ذکر امیرالعظیم نے بریفنگ میں کر دیا۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جماعت کی بریفنگز میں شریک ہو چکا ہوں لیکن اس مرتبہ صورتحال مختلف محسوس ہوئی۔ جماعت اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے پوری طرح آگاہ ہو چکی ہے ۔ اسے دوستوں اور دشمنوں کی پہچان ہو چکی ہے۔ یہ اپنے اور پرائے کا فرق جان چکی ہے۔ اسے علم ہو چکا ہے کہ کون اس کے کاندھے کے سہارے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا اور کون اس کے ساتھ مخلص رہا۔ یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ ہے جس سے کوئی بھی جماعت‘ تنظیم اور تحریک کامیابی کے راستے پر چلنا شروع ہو جاتی ہے کیونکہ جب کوئی جماعت یا تحریک اپنا احتساب ہی کرنے کو تیار نہ ہو‘ وہ خود کو عقل کُل سمجھتی ہو اور ٹھوس لائحہ عمل طے کئے بغیر ہی میدان میں نکل آئے تو اس کی کامیابی کا امکان ختم ہو جاتا ہے؛ تاہم جو راستہ جماعت نے چنا ہے وہ اتنا آسان نہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف تحریک شروع کرنا آسان لیکن اقتدار میں آ کر ان مسائل سے نمٹنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ جماعت ایسی تحریکیں ضرور چلائے لیکن ساتھ ہی ایک ایسی ٹیم بھی تیار کرے جو آئی ایم ایف‘ مہنگائی‘ کرپشن اور بیروزگاری جیسے عفریتوں سے نجات کا ٹھوس متبادل حل بھی پیش کرنا جانتی ہو اور اگر جماعت کے پاس بھی متبادل حل نہیں ہے تو پھر ان تحریکوں کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں