درختوں کا قتلِ عام

گزشتہ کئی ہفتوں سے ایوانوں اور عدالتوں میں بڑے حزن و ملال کے ساتھ درختوں کے قتلِ عام کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ محض اسلام آباد میں گزشتہ چند مہینوں میں 29 ہزارسے زائد درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ انگریزی کے ایک صاحبِ احساس رائٹر نے درست ہی لکھا تھا کہ: To cut a tree is to kill a tree۔
مجھے یاد آ رہا ہے کہ غالباً دو برس قبل خاکسار نے ایک سائنسی مضمون کے حوالے سے لکھا تھا کہ درخت اور پودے نہ صرف آپس میں گفتگو کرتے ہیں بلکہ وہ کبھی کبھی انسانوں سے بھی ہمکلام ہو جاتے ہیں۔ قتلِ عام میں بچ جانے والے اسلام آباد کے درخت آپس میں ان دنوں یہی گفتگو کرتے ہوں گے کہ اس ملک کے وزیر باتدبیر کتنے دانشمند ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے ہزاروں کی تعداد میں درخت کاٹے ہیں تو اُن کی جگہ نئے بھی تو لگائے ہیں۔ انہیں کون سمجھائے کہ برسوں بلکہ دہائیوں سے پابۂ گل اور سربفلک فضاؤں میں جھومتے درختوں کو کاٹ دینے اور انکی جگہ پنیری لگا دینے میں کیا فرق ہے۔ آج سے 15برس قبل اسلام آباد میں اپنے چھ سالہ قیام کے دوران شکرپڑیاں کے پہلو سے جنگل کے بیچوں بیچ گزرتی سڑک اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور فیصل مسجد کے گردا گرد مارگلہ کی سبز پوش پہاڑیاں اور ان پر جھومتے مہکتے اشجار میری پسندیدہ جگہیں تھیں۔
درختوں کا نوحہ لکھنے سے پہلے میں نے ضروری سمجھا کہ آج کے اسلام آباد کے حوالے سے ثقہ ذرائع سے معلومات حاصل کی جائیں۔ برسوں سے اسلام آباد میں مقیم ایڈووکیٹ آصف محمود صاحب میرے عزیز دوست ہیں۔ وہ جنگلوں کے دلدادہ اور وہاں سیر و سیاحت کے شوقین ہیں۔ ان کی فراہم کردہ معلومات چشم دید ہی نہیں چشم کشا بھی ہیں۔ اسلام آباد میں تین نیشنل پارک ہیں۔ ان پارکوں یا جنگلوں میں کسی قسم کی کوئی تعمیرات قانوناً نہیں کی جا سکتیں (اگرچہ یہاں قانون موم کی ناک ہے)۔ان پارکوں کا آئیڈیا یہ تھا کہ یہاں کے پُربہار درخت‘ ان پر چہچہاتے رنگ برنگ پرندے‘ نیچے مخملیں گھاس یہاں کے باسیوں کو ایک خوش نما اور خوشگوار ماحول فراہم کریں گے جو شہریوں کی بہترین جسمانی صحت اور ذہنی سکون کا باعث ہوگا۔
ان تین نیشنل پارکوں میں سے ایک شکرپڑیاں ہے۔ کچھ مدت پہلے سپریم کورٹ نے ضرور یہ حکم دیا تھا کہ یہاں لگائے گئے غیرملکی جنگلی شہتوت کے درخت انسانوں کیلئے مضرِ صحت ہیں۔ ان سے دمہ‘ کھانسی اور کئی اقسام کی الرجی ہوتی ہے‘ اس لیے انہیں آہستہ آہستہ کاٹ دیا جائے اور ان کی جگہ انسان دوست اور ماحول دوست دیسی درخت بتدریج لگائے جائیں۔ شہری انتظامیہ کچھ عرصے سے یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھی مگر 2025ء میں درختوں کے جنگل کے بجائے شکر پڑیاں میں کنکریٹ کا جنگل آباد کرنے کا درپردہ منصوبہ بنا لیا گیا۔ اگر صرف جنگلی شہتوت کے درختوں کی کٹائی مقصود ہوتی تو ان کی نشاندہی کی جاتی‘ شہری انتظامیہ کی طرف سے صرف انہی درختوں کی کٹائی کے احکامات جاری کیے جاتے مگر مخصوص منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تیشے دے کر ٹھیکیداروں کو شکر پڑیاں کے جنگل میں بھیج دیا گیا۔ یہاں صرف شہتوت ہی نہیں بلکہ زمانوں سے موجود بڑے بڑے دیسی درختوں کے سینے بھی آروں سے چیر دیے گئے۔ ان درختوں کی جگہ قانون کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ہوٹل کھل چکے ہیں‘ ایک ہاؤسنگ کالونی بھی بن چکی ہے۔ اشرافیہ کے کلبوں کو زمین بھی الاٹ ہو چکی ہے اور یہاں جنگل کے بیچوں بیچ گزرنے والی ٹریل کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ درختوں کی اس کٹائی پر بڑی حیران کن اور اذیتناک صورتحال ہے۔ ایک طرف ماحولیات کو آسودہ اور فرحت بخش بنانے اور موسمیاتی شدت کو کم کرنے کیلئے شجرکاری کیلئے پروگرام بنائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف دھوپ کی تمازت جھیلتے اور ٹھنڈی چھاؤں چھڑکتے سر سبز و شاداب جنگلوں کو بھورے رنگ کے بنجر میدانوں میں بدلا جا رہا ہے۔
درختوں کی اس کٹائی کے خلاف انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی طرف سے حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر گزشتہ چند ماہ کے دوران اسلام آباد میں تقریباً 29 ہزار درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ صرف شکر پڑیاں میں 8700 درخت کاٹے گئے ہیں۔ اس طرح اسلام آباد کے شہریوں کو صاف اور صحتمند ہوا اور فضا سے محروم کر کے ان کے بنیادی حقوق پامال کیے گئے ہیں۔ شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت صرف جنگلی شہتوت کے درخت کاٹے گئے ہیں جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں بلکہ برسوں پرانے دیسی درخت بھی بڑی تعداد میں کاٹے گئے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف یہاں ہی نہیں بلکہ ایف نائن پارک میں بھی بہت سے درخت کاٹے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ ایچ ایٹ‘ ایچ نائن اور چک شہزاد میں بھی درختوں کے مقتل بنا دیے گئے ہیں۔ شکرپڑیاں کے علاوہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور فیصل مسجد کے گردا گرد مارگلہ کی سرسبز و شاداب پہاڑیوں اور ان پر اُگے ہوئے جنگلات کا میلوں تک پھیلا ہوا علاقہ بھی نیشنل پارک ہے۔ اسی طرح راول ڈیم کے ارد گرد بھی جنگلات کا علاقہ ہے جہاں کسی طرح کی کوئی تعمیرات نہیں کی جا سکتیں۔ اسلام آباد خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار ہوتا تھا‘ اس کے حسن اور یہاں کے پُرفضا ماحول میں درختوں کا ہی بنیادی کردار تھا۔ اگر ان اشجار کو چھوٹی چھوٹی منفعتوں کی خاطر زمیں بوس کر دیا جائے گا تو اسلام آباد کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور دھواں اڑاتی گاڑیوں کی کثرت کے بعد یہاں کا حسن ماند پڑ جائے گا۔
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے محکمہ تحفظِ اشجار کے چار افسران کے خلاف ایکشن لیا ہے کیونکہ لاہور کی خوبصورت ماحول دوست نہر کنارے کئی درخت کاٹے گئے تھے۔ اسی طرح زمانوں سے مال روڈ پر پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس اور گورنمنٹ کالج کے قرب و جوار میں واقع ناصر باغ‘ جسے پہلے گول باغ کہا جاتا تھا‘ میں دہائیوں پرانے‘ اپنی شان دکھاتے ہوئے ماحول دوست درختوں کو کاٹنا گویا شہر کو اس کے پھیپھڑوں اور تازہ آکسیجن سے محروم کرنا ہے۔ اس باغ سے نومبر 2025ء میں 123 درخت کاٹ دیے گئے ۔ لاہور ہائیکورٹ نے اس واردات کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے محکمہ تحفظ ِاشجار کو حکم دیا ہے کہ آئندہ کوئی درخت بلکہ درختوں کی شاخیں تک نہ کاٹی جائیں۔ لاہور میں کئی برس قبل کینال روڈ کی توسیع کیلئے بہت سے پرانے درخت کاٹے گئے تھے۔ لاہور ہو یا اسلام آباد جب اس طرح درخت کاٹے جاتے ہیں تو مجید امجد کی نظم ''توسیع شہر‘‘ یاد آتی ہے۔ ملاحظہ کیجئے: بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار؍ جھومتے کھیتوں کی سرحد پر بانکے پہرے دار؍ گھنے سہانے چھاؤں چھڑکتے بُور لدے چھتنار؍ بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار؍ جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم؍ قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم؍ گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار؍ کٹتے ہیکل جھڑتے پنجر چھٹتے برگ و بار؍ سہی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار؍ آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار؍ اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال؍ مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل
عربی زبان میں ایک اصطلاح ''مصلحہ عامہ‘‘ کے نام سے رائج ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی غیر مرغوب قدم بھی عوامی فائدے کیلئے اٹھانا پڑ جاتا ہے۔ بلاشبہ عامۃ الناس کے فا ئدے کیلئے توسیع شہر یا عوام کی صحت کیلئے درخت کاٹنے بھی پڑ جاتے ہیں مگر چند خواص کے فائدے کیلئے درختوں کا قتلِ عام ایک قومی جرم سے کم نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں