نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:قومی ٹی 20کپ میں 6 ٹیمیں حصہ لیں گی
  • بریکنگ :- بلوچستان،سینٹرل پنجاب،خیبرپختونخواکی ٹیمیں شامل
  • بریکنگ :- ناردرن پنجاب،سدرن پنجاب اورسندھ کی ٹیمیں شامل
  • بریکنگ :- قومی ٹی 20 کپ سےورلڈکپ کی تیاری میں مددملےگی،چیئرمین پی سی بی
  • بریکنگ :- ملک کےتمام اسٹارکھلاڑیوں کی شرکت سےفائدہ ہوگا،رمیزراجہ
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

حکمران شاعری نہیں کیا کرتے

حکمران شاعری نہیں کیا کرتے۔ ذہنی فرار کے وہ متحمل نہیں ہوتے۔ دلوں میں امید اُگا کر وہ قوم کو متحرک کرتے ہیں۔ ہمہ وقت اپنی ذمہ داریوں پر سوچتے اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ سارباں حدی خوانی کر سکتا ہے لیکن بھنور کی کشتی کا ملاح نہیں۔ حکمرانوں سے حسنِ بیاں کی نہیں‘ حسنِ عمل کی امید کی جاتی ہے۔ کہنے کو اسد اللہ خاں غالبؔ کہتے رہے کہ بہادر شاہ ظفر کے استاد ابراہیم ذوقؔ سے انہیں کوئی پرخاش نہیں۔ واقعہ مگر یہ نہ تھا۔ انہی کا شعر ہے اور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا: بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے واضح طور پر یہ ذوقؔ کے بارے میں تھا؛ اگرچہ بعد میں انہوں نے ایسی توجیہ پیش کی کہ قبول کر لی گئی۔ غالبؔ سب سے بڑے شاعر تھے۔ اردو زبان کو اپنی سادہ اور برجستہ نثر سے بھی انہی نے ثروت مند کیا۔ اقبالؔ ایک استثنیٰ ہیں۔ دنیا کی کسی بھی زبان کے کسی بھی شاعر سے ان کا موازنہ موزوں نہ ہوگا‘ حتیٰ کہ مولانا روم سے بھی نہیں۔ ان موضوعات پر انہوں نے شاعری کی‘ جنہیں چھونے کی جرأت بھی کوئی نہ کر سکتا۔ زمین سے نہیں‘ وہ زندگی کو آسمان سے دیکھتے اور پوری انسانی تاریخ کے تناظر میں بات کرتے تھے: من اے میر امم داد از تو خواہم مرا یاراں غزل خوانے شمردند (اے اُمتوں کے سردارؐ، میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں کہ یاروں نے مجھے غزل خوانوں میں شامل کر دیا)۔ غالبؔ سمیت کسی بھی نغمہ گر کے برعکس اقبالؔ کا خواب شاعرانہ عظمت کا حصول تھا ہی نہیں؛ چنانچہ ایک مرحلے پر اپنے استاد آرنلڈ سے انہوں نے کہا تھا کہ وہ شاعری ترک کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا جواب قوم کی بیداری تھا اور یہ مقصد وہ حاصل کر کے رہے۔ جس دنیا میں وہ پیدا ہوئے‘ اس سے رخصت ہوئے تو وہ اسے بدل چکے تھے۔ ان کی آخری برسوں کی گفتگوئوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ دین کی بجائے سیاست کو ترجیحِ اوّل بنا لینے اور کانگرس سے مرعوبیت پر دیوبندی مکتبِ فکر کے جیّد اساتذہ کے فکر و عمل کا تجزیہ۔ بدعات و رسوم کے فروغ پر ردّعمل میں پھوٹنے والی محمد بن عبدالوہاب کی تحریک کے ارتقا۔ اصلاحی جذبے کی فراوانی کے بعد‘ ایک فرقے میں ڈھلتی ہوئی جمعیت۔ برصغیر کی پیچیدہ سیاست‘ علمی زوال اور صنعتی انقلاب کے بعد عصرِ رواں کے تقاضوں سے بے خبری کے نتائج۔ ہر موضوع پر وہ اس قدر واضح ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ وہ چراغ جلاتے اور جلاتے ہی چلے گئے‘ حتیٰ کہ انہیں چراغاں کا یقین ہو گیا۔ وہ جانتے تھے کہ مسلمانوں کا نیا وطن وجود میں آ کر رہے گا‘ حالانکہ جب وہ رخصت ہوئے تو قرارداد پاکستان بھی منظور ہونے میں ابھی دو برس باقی تھے: کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد اپنے چھوٹے سے گھر کی چھوٹی سی بالکنی میں چارپائی ڈالے ابراہیم ذوقؔ سارا دن بہادر شاہ ظفرؔ کے کلام کی چولیں بٹھایا کرتے۔ اصلاح ہی نہیں اضافہ بھی کرتے۔ گمان یہ ہے کہ بادشاہ کے کلام کا دو تہائی حصہ انہی کے زورِ بیاں کا نتیجہ ہے۔ اول تو فرصت ہی کہاں تھی۔ معرکے کی غزل ہو جاتی تو چھپا رکھتے کہ بادشاہ کی سماعت کو ناگوار ہوگی یا مربی کی نذر کر دیتے۔ ذوقؔ نے خود کو برباد کیا اور جہاں پناہ کی بربادی میں حصہ ڈالا۔ کار سلطانی میں تو کھوٹے اور بے بس تھے۔ شعر کی داد پانے کا چسکا لگ گیا اور اسی کے ہو رہے۔ ذوقؔ یوں برباد ہوئے کہ اپنی بجائے بادشاہ کے دماغ سے سوچا کرتے۔ خود سے بے وفائی کی ایسی سزا پائی کہ رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک دن رازداری کے ساتھ اپنے شاگرد‘ نادر روزگار نثر نگار محمد حسین آزاد کو بتایا: بادشاہ نے آج مجھ سے کہا: اس خیال سے قلق ہوا کہ میرے بعد تم دوسروں کی مدح کیا کرو گے۔ جواب تو انہوں نے ایسا دیا کہ بوڑھا حکمران گنگ ہو گیا مگر چوٹ عمر بھر صدا دیتی رہی۔ کہا: حضور! خیمے سے پہلے ستون اور طنابیں گر جایا کرتی ہیں۔ بعدازاں شاعر نے جواں سال محمد حسین آزاد سے سرگوشی کی: دن رات میں اللہ کی بارگاہ میں جہاں پناہ کے لیے دعائیں مانگا کرتا ہوں اور وہاں یہ عالم ہے… بادشاہ کسی کے نہیں ہوتے۔ مجبوری یہ تھی کہ خانہ زاد تھے‘ گریز کا حوصلہ نہ تھا وگرنہ لوحِ زماں پہ ان کا نقش کہیں گہرا ہوتا۔ جو اقتدار کو سجدہ کرے اللہ اسے رہائی کبھی عطا نہیں کرتا۔ غالب بھی مبتلا ہونے کے آرزو مند تھے۔ ایک کے بعد دوسرا قصیدہ لکھا۔ ان کی شخصیت میں مگر غلامی اس طرح نہ رچی تھی۔ خمیر میں رندی اور آزادی تھی۔ اردو زبان اور خود ان پر اللہ کو رحم کرنا تھا‘ اس لیے آرزو کے باوجود بچ نکلے‘ وگرنہ زیادہ نہیں تو کچھ نہ کچھ برباد ہوتے۔ اردو ادب اتنا ثمرمند بہرحال نہ ہوتا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کو شاعروں اور قصیدہ نگاروں کی ضرورت نہیں‘ صاحبانِ عمل کی ہے‘ جو خیر خواہی کے ساتھ سچا مشورہ دیں۔ حسرت موہانی تو انہیں میسر نہیں لیکن سرتاج عزیز ہی۔ ممنون حسین کی بجائے انہیں صدر بناتے۔ ہنری کسنجر نہ سہی طارق فاطمی تو ہیں جو بڑی تصویر دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نون لیگ کو اخبار نویس خریدنے کی فکر لاحق ہے یا ڈرانے کی۔ آخری تجزیے میں میڈیا کسی کا کچھ بگاڑ سکتا ہے نہ بنا سکتا ہے۔ قائداعظم کو کیا نقصان پہنچا سکا۔ بھٹو کی کیا مدد کر سکا؟ خوشامدیوں کے ذریعے اپنی مدح سرائی یا کپتان کی کردار کشی سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ یوں بھی عمران خان اپنی تباہی کا سامان خود کر چکا۔ جو آدمی شاہ محمود اور علیم خان پہ بھروسہ کرتا ہو‘ اسے غنیم کی کیا ضرورت۔ جو مولانا فضل الرحمن کو اپنا حریف سمجھتا ہو اور ان کے عیوب بیان کرنے پر اتنا وقت اور توانائی برباد کرے‘ دشمن کو اس کے خلاف منصوبہ بندی کی حاجت کیا۔ اللہ کی شان شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کا معمار‘ دریوزہ گروں کے خلاف صف آرا ہے۔ بار بار مجھے اس کا وہ جملہ یاد آتا ہے: ہارون الرشید! اپنی انا کی قربانی دیے بغیر خدمت کا معرکہ انجام نہیں دیا جا سکتا۔ کوئی کسی کو برباد نہیں کرتا مگر آدمی خود اپنے آپ ہی کو۔ قائداعظم کو مولانا مظہر علی اظہر نے کافرِ اعظم کہا تو نظر اٹھا کر بھی انہوں نے دیکھا نہ تھا۔ ان کا مدّاح سپریم کورٹ کے دروازے پر جا کھڑا ہوا۔ عزت کیا عدالتوں سے ملا کرتی ہے؟ سات برس ہوتے ہیں‘ تحریک انصاف پر پرزے نکالنے لگی تھی۔ لاہور کے ایک سیمینار میں ایک کے بعد دوسرے شاعر نے عمران خان کا قصیدہ پڑھا تو میں نے عرض کیا: میرا خیال تھا کہ پارٹی بالغ ہو گئی ہے‘ وہ تو ابھی تک باپ کی گود میں بیٹھی ہے۔ کوئی پروگرام‘ کوئی منشور‘ کوئی منصوبہ؟ یہ مدح سرائی کیا۔ اس پر جناب مجیب الرحمن شامی نے مجھے ٹوکا اور سختی سے ٹوکا۔ اب وہ کیا ارشاد کرتے ہیں؟ بادشاہوں کو مصاحب برباد کیا کرتے ہیں اور ان کا تذبذب۔ کنواہ کی جنگ سے پہلے ظہیر الدین بابر نے ترک سرداروں سے کہا تھا: تمہاری میں بہت سن چکا‘ اب تم میری سنو اور حکم بجا لائو۔ آج اگر لڑنے سے گریز کیا تو کابل تک کتوں کی طرح بھاگتے اور کتوں کی طرح مرتے رہو گے۔ محمود غزنوی کی فتوحات اور سلطنت اتنی بڑی تھی کہ تاریخ آج تک حیرت سے دیکھتی ہے مگر اس کے بعد مسعود نے خود کو تباہ کر لیا۔ بادہ نوشی‘ برے مصاحب‘ موسیقی‘ شاعری اور قصیدہ گوئی؛ چنانچہ فرار اور راہِ فرار‘ حتیٰ کہ سلجوق نے سرزمینوں کو روند ڈالا‘ حتیٰ کہ الپ ارسلان کی تلوار طلوع ہوئی۔ صاف اور صریح الفاظ میں عرض ہے کہ اپنے موجودہ اندازِ فکر کے ساتھ وزیراعظم کا مستقبل خطرے میں ہے۔ حبس ہو تو آندھی آ کر رہتی ہے۔ اقتدار کی دنیا میں خلا بہت دن باقی نہیں رہتا۔ صدر زرداری کا متبادل نوازشریف تھے۔ ان کا کوئی نہیں؛ لہٰذا طوفان کا خطرہ ہے۔ صرف ایک راستہ باقی ہے کہ وہ واقعی کچھ کر دکھائیں۔ ہمت باندھ لی تو مخالف تک ان کی مدد کریں گے کہ ملک خطرے میں ہے۔ حکمران شاعری نہیں کیا کرتے۔ ذہنی فرار کے وہ متحمل نہیں ہوتے۔ دلوں میں امید اُگا کر وہ قوم کو متحرک کرتے ہیں۔ سوچتے اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ سارباں حدی خوانی کر سکتا ہے مگر بھنور کی کشتی کا ملاح نہیں۔ حکمرانوں سے حسنِ بیاں کی نہیں‘ حسنِ عمل کی امید کی جاتی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں