نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 31 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 597 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 48 ہزار 732 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1757 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 3.60 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

مشتری ہوشیار باش!

زندہ قوموں کا امتحان تاریخی مواقع پر ہوا کرتاہے اور یہ ویسا ہی ایک موڑ ہے ۔ مشتری ہوشیار باش!
وزیر اعظم نواز شریف نے سعودی ولی عہد کی موجودگی میں اس اعلان سے قبل کس سے مشورہ کیا کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت ختم کر کے نگران اقتدار کی راہ ہموار کی جائے ؟ وزارتِ خارجہ سے؟ اپنی کابینہ سے ؟ رہی پارلیمان تو وہ پرکاہ برابر وہ اسے نہیں سمجھتے ۔ سینیٹ کا ایوان آج تک ان کی راہ دیکھ رہا ہے ۔ 
بشار الاسد چلے جائیں گے ۔ سعودی عرب ہمارا دوست، مددگار اور حلیف ہے ۔ ہماری ضرورت اب اسے آپڑی ہے ۔ اس سے کہیں زیادہ ، جتنی کہ کبھی تھی۔ اب واقعی پاکستان اس کی دوسری دفاعی لائن ہے ۔ امریکہ نے اس سے ہاتھ اٹھا لیا ہے ، جو اب تک اس کے دفاع کا ضامن تھا؛چنانچہ یورپی یونین بھی۔ امریکیوں نے فیصلہ کر لیا کہ مسلم ممالک میں شیعہ سنّی خلیج کو گہرا کیا جائے اور سنّی ممالک کی بجائے شیعہ مملکتوں پر بھروسہ کیا جائے۔ اسی زمانے میں ، جب کنڈو لیزا رائس کی تجویز پر جو بائیڈن کی رائے مسترد کر کے صدر بش کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے طے کیا کہ پاکستانی فوج کی بجائے ، پاکستانی سیاستدانوں اور پریس پر بھروسہ کیا جائے۔پاکستانی صحافت کے لیے پچاس ملین ڈالر سالانہ کی رقم مختص کی گئی ۔ بیرونِ ملک بعض پاکستانی اخبار نویسوں کی جائیدادیں معلوم ہیں ، باقیوں کا گوشوارہ دریافت کیا جا سکتاہے ۔ ایک میڈیا گروپ نے تو اپنا سارا وزن پاک فوج کے خلاف ڈال دیا ہے۔''را‘‘ اور سی آئی اے پاکستان میں بعض منصوبوں پر مل کے کام کرتی ہیں ۔
خواہ تردید کر دی جائے مگر واقعہ یہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان سے دفاعی معاہدے کا آرزومند ہے ۔سلیقہ مندی سے کام لیا جائے تو سعودی پاک دفاعی تعاون قومی مفاد میں ہے؛ تاہم دو مملکتوں کے تعاون کی بجائے ، وزیراعظم اس عمل کو ایک ذاتی نوعیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ کرسچین سائنس مانیٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے شہزادہ الولید بن طلال نے کہا ''پاکستان میں نواز شریف سعودی عرب کے آدمی ہیں‘‘ "Very much Saudi Arabia's man"۔ 
عالمِ اسلام میں سعودی عرب کا کردار سکڑ رہا ہے ۔ ترکی نے اس کی جگہ لی ہے ۔ دلچسپ یہ ہے کہ ترک موقف سعودی عرب کے قریب ہے مگر طیب اردوان بہت مختلف ہیں ۔ اپنی قوم کے سامنے جواب دہ ۔ نواز شریف کے برعکس ، جنہوں نے ریاض کی مدد کا وعدہ کرتے ہوئے عراق، بحرین ا ور ایران کی شیعہ اکثریت کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لیا۔ ایرانی محافظوں کے مبیّنہ اغوا پر ایرانی حکومت کا تند و تیز ردّعمل اسی کا نتیجہ ہے ۔ امریکیوں نے شناخت کر لیا ہے کہ پاکستان اور سعودی معاشروں میں جہاد کا تصور ان کے لیے ایک خطرہ ہے ۔ ایران اب ایک متبادل کے طور پر زیرِ غور ہے ۔
وہ ایران ، جوہمارا ہمسایہ ہے ۔ ہماری آبادی کا ایک طبقہ اس کی طرف دیکھتا ہے اور وہ ظلم کا شکار بھی ہے ۔ کیا ایک سنہری موقع ضائع کر کے ، ہم ایک اور دلدل تخلیق کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک اور سنہری موقع؟ فوجی حکمرانوں کی وراثت ہم بھگت رہے ہیں ۔ کیا ایسی ہی ایک اور وراثت؟
نواز شریف اوّل اوّل سعودی عرب سے کتراتے رہے ۔ ارشاد محمود کے بقول : مشرف کی ممکنہ سفارش سے بدمزہ ۔ روسی دھمکی اور القاعدہ کے مضبوط ہونے کے بعد، جس نے امریکہ کو شام میں پسپائی پہ مجبور کر دیا ، نئی فضا میں بھی وزیراعظم نواز شریف کی ترجیحات ذاتی ہیں ۔ کن لوگوں سے وہ مشورہ کرتے ہیں ؟ شہباز شریف ، اسحٰق ڈار، مریم نواز اور خواجہ آصف۔ آدمی غور کرے تو دنگ رہ جاتاہے ۔ 
سعودی عرب کو اندرونی خطرہ بھی لاحق ہے ۔اس صورتِ حال کو ملکی مفاد میں برتا جا سکتاہے ۔ سعودیوں کی خلوصِ دل سے امداد مگر ایران کو برہم کیے بغیر۔ ریاض اور تہران کے درمیان مراسم بہتر بنانے اور غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش بھی ، جس کی اوّل الذکر نے خواہش بھی کی تھی ۔
سعودیوں کو یقین ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام سے مستقلاً دستبردار نہیں ہوگا۔یہی وہ پسِ منظر ہے ، جس میں ریاض کے لیے پاکستان کے ایٹمی تعاون کا شوشہ چھوڑا گیا۔ اب سعودی جس چیز کے آرزومند ہیں ، وہ پاکستان کے فوجی دستے اور دفاعی منصوبہ بندی ہے ۔ وہ کچھ اسلحہ خریدنے کے آرزومند بھی ہیں ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے جے ایف تھنڈر 17طیارے سعودی پائلٹوں کی تربیت کے لیے بہترین ہیں ۔ کیا امریکہ یہ طیارے خریدنے کی اجازت دے گا؟ ایک کمزور عرب مملکت اور مالی امداد کا محتاج پاکستان ۔ جلد ہی پاکستان سے کچھ دفاعی مشیر سعودی عرب پہنچیں گے ۔ کمزور سعودی فوج کو بہتر بنانے کا عمل شروع ہو چکا، جس کا بڑا حصہ وزارتِ داخلہ کے تحت ہے ۔ سعودی انٹیلی جنس چیف کی برطرفی تشکیلِ نو کے عمل کا حصہ ہے ۔ نوازشریف اگر دانا اور دور اندیش ہوتے تو شام کے باب میں کوئی اعلان کرنے سے قبل تہران جاتے ۔ کیا اب وہ زحمت کریں گے ؟ 
پاکستانی محنت کش سعودی عرب سے چار ارب ڈالر سالانہ بھیجتے ہیں ۔ پاکستانی ہنر مندوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتاہے ۔ بھاشا ڈیم اور بجلی کے منصوبوں میں سعودی سرمایہ کاری ایک خوش خبری ہوگی ۔ ادھار پہ تیل کی فراہمی برباد پاکستانی صنعت کا پہیہ تیزی سے حرکت میں لا سکتی ہے اور پاکستانی زراعت عربوں کے دستر خوان آباد رکھنے کی ضمانت بن سکتی ہے ۔ چینیوں سے وہ بہترہیں، جو خود ہی سرمایہ کار ، خود ہی تعمیر کنندہ اور خود ہی نگران و مشیر بننے کامطالبہ رکھتے ہیں ۔ اخراجات میں کئی گنا تک کا اضافہ۔ چین سچّا دوست ہے مگر چینی کمپنیاں تباہ کن ۔ سینڈک اور ان کے ریلوے انجن ہم بھگت چکے۔ شریف خاندان مگر اپنی ترجیحات رکھتا ہے ۔ شہباز شریف کو بیجنگ بھیجا گیا، اس سے پہلے میاں منشا اور شریف خاندان کے صاحبزادوں کو ۔ 
ایک اچھا کام سعودیوں نے کیا۔ نواز شریف کی طرف سے ایک سنجیدہ پیغام کے بعد انتہا پسند مدارس کی مالی اعانت محدود کر دی ہے ، جہاں سے افرادی قوت اور سرمایہ وزیرستان پہنچتا ہے ۔ دو ہفتے قبل شاہی اعلان جاری ہوا کہ دہشت گردوں کے مددگار سزا پائیں گے ۔ پچاس فیصد مدارس پہ عربوںکا سایہ ہے ۔ 
سعودی ولی عہد کے اعزاز میں شاندار تقریبات کا منصوبہ تھا ۔ دورے سے دو تین روز قبل کہا گیا کہ اس کی ضرورت نہیں ۔ نمائش پسند آدمی کے لیے خود کو تھامنا مشکل ہو جاتاہے ۔ مرعوبیت بھی موصوف میں بہت ہے ۔ ترکی میں حامد کرزئی ان کے ساتھ تلخی سے پیش آئے اور ان کا روّیہ معذرت خواہانہ ۔ جنرل مشرف نے وہیں ، ایسی ہی کانفرنس میں موصوف کو آڑے ہاتھوں لیا تھا ۔ کرزئی کو دو ماہ بعد چلے جانا ہے ۔ پھر اس بچگانہ روّیے کا مطلب ؟
پاکستانی تعاون کے لیے سعودی عرب پوری طرح سنجیدہ ہے ۔ عالمِ اسلام کا واحد ملک ، جو شاندار ایٹمی اور میزائل پروگرام کا حامل ہے ۔ نہ صرف اپنی افواج سے وہ ان کی مدد کر سکتاہے ، بلکہ امریکہ سعودی تعلقات کی تبدیل ہوتی نوعیت میں دفاعی منصوبہ بندی کے عمل میں بھی ۔ خاص طور پر صیہونی خطرات کے مقابل ۔ صرف پاکستان کے جانباز ہی مکّہ مکرمہ اور مدینہ منوّرہ کے گرد اپنے لہو کی ناقابلِ تسخیر دیوار کھڑی کر سکتے ہیں ۔ 
بہت ہی نازک مرحلہ اور فقط ایک لیڈر پر اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ لیڈر بھی وہ جو اپنے خاندان ، ذاتی مفادات اور پسند و ناپسند سے اوپر اٹھ کر سوچنے کا اہل ہی نہیں ۔ زندہ قوموں کا امتحان تاریخی مواقع پر ہوا کرتاہے اور یہ ویسا ہی ایک موڑ ہے ۔ مشتری ہوشیار باش!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں