نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سوات:کالام جالبنڑمیں ندی میں شدیدطغیانی
  • بریکنگ :- سوات:کالام رابطہ پل سیلابی پانی میں بہہ گیا
  • بریکنگ :- مینگورہ کالام شاہراہ ہرقسم کی ٹریفک کےلیےبند
  • بریکنگ :- سیاحوں سمیت مقامی افرادکومشکلات کاسامنا
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

قسم ہے زمانے کی

قسم ہے زمانے کی 
بے شک انسان خسارے میں ہے 
ان کے سوا جو ایمان لائے اور عمل اچھے کیے 
جنہوں نے حق کی نصیحت کی اور صبر کی نصیحت کی۔ 
کبھی اس میں محبت عود کر آتی ہے۔ ان مہ و سال کی یاد جو ہم نے ایک ساتھ بِتائے۔ ایک منزل کی تمنا میں۔ کپتان نے کل مجھے فون کیا‘ اور تلخ و شیریں باتیں کرتا رہا۔ کہا: دوستوں کو میں نے بتایا کہ کس طرح ایک شب ڈیڑھ سو کلومیٹر کی رفتار سے گاڑی چلائی اور ہارون کا رنگ پیلا پڑتا رہا۔ اگرچہ اس نے کچھ مبالغہ کیا مگر ہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ میانوالی میں ڈوبتی شام‘ اچانک بتایا کہ واپس اسلام آباد کی بجائے اسے تو لاہور جانا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے بندے‘ پہلے سے کہا ہوتا۔ ڈرائیور کو میں نے فون کیا کہ گاڑی لے کر کلرکہار پہنچ جائے۔ شام چھ بجے‘ وہاں سے ہم لاہور روانہ ہوں گے۔ جیسا کہ عوامی رابطے کی بے ترتیب مہم میں ہوا کرتا ہے‘ رات کے بارہ بج گئے‘ جب ہم اس پٹرول پمپ پہ پہنچے‘ جہاں وہ انتظار میں تھا۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈھیر ہونے کی کوشش کرتے ہوئے‘ اس نے کہا: آگے آ جائو منظور‘ گاڑی چلائو۔ ''منظور نہیں‘ تم گاڑی چلائو گے‘‘۔ میں نے کہا ''وہ صبح سویرے جاگتا اور شب گیارہ بجے سو جانے کا عادی ہے‘‘۔ اب اس نے سٹیرنگ سنبھالا اور ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ اول تو میں نے محسوس نہ کیا لیکن پھر پریشان ہوا کہ رفتار 160 کلومیٹر تک چلی جاتی۔ ایک آدھ بار توجہ دلانے کے بعد خاموش رہنے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں البتہ احتجاج کیا کہ راوی کا پل پار کرتے ہوئے گاڑی کے پہیے پھسل گئے تھے۔ اس کا جواب یہ تھا: پتہ نہیں‘ مجھے تو نیند آ رہی تھی۔ چار گھنٹے تک برق رفتاری کا مظاہرہ کر کے زیادہ سے زیادہ اس نے پون گھنٹہ بچایا۔ چار بجے کی بجائے‘ پونے پانچ بجے‘ اگر ہم لاہور پہنچتے؟ 
یہی اختلاف ہے۔ کبھی سرے سے بروئے کار نہ آنے اور کبھی دگنی رفتار سے مسافت طے کرنے کی کوشش۔ لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا: اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ ''جی ہاں‘‘ عرض کیا ''اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ''تمہارا مطلب یہ ہے کہ ذہن پہ سرمایہ کاری میں نے نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ''میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں‘ وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا۔ پھل‘ دہی‘ ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے؛ اگرچہ میں نے کبھی اس کی دعوت کا انتظار نہ کیا۔ بنی گالا میں‘ اس کے گھر جاتا تو باورچی سے چائے بنانے یا کبھی کھانا پکانے کو کہتا۔ 
دانا مجھے سمجھانے آتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ نرمی کا برتائو کروں۔ گاہے مشترکہ دوست بھی‘ جن کا اکرام لازم ہے۔ ہر چند ماہ بعد اسے بھی خیال آتا ہے اور ایک بحث چھڑ جاتی ہے۔ کیسی نرمی؟ اس کی ذات پر کبھی نہیں‘ اس کے فیصلوں پر میں نکتہ چینی کرتا ہوں۔ ان دنوں پر اپنے آپ سے میں ناخوش ہوں‘ جب میں نے اس کی غیر مشروط حمایت کی۔ ایسا قطعی نہ کرنا چاہیے تھا‘ خاص طور پر 30 اکتوبر 2011ء کو لاہور کے تاریخی جلسۂ عام کے بعد جب وہ اپنے پائوں پر کھڑا تھا۔ عملی سیاست ایک اخبار نویس کا میدان نہیں۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اپنے فرض کے بعض تقاضے پورے نہ کر پائے گا۔ خسارے میں رہے گا۔ 
اگرچہ تاخیر ہو گئی اور بہت تاخیر ہو گئی لیکن اب احساس یہ ہوتا ہے کہ اخبار نویس کی ذمہ داری مختلف ہے‘ عام لوگوں میں ان کے حقوق کا شعور اُجاگر کرنے کی کوشش۔ فعال طبقات اور حکمرانوں کو متوجہ کرنا اور ضرورت پڑے تو ان پر دبائو ڈالتے رہنا۔ ظاہر ہے کہ اس عمل میں خود بھی اہلِ ادراک سے سیکھتے رہنے کی لگن۔ اخبار نویس درویش نہیں ہوتا مگر وہ اپنی ذمہ داری نبھا نہیں سکتا‘ اگر طاقت کے کھیل میں شامل ہو جائے۔ اگر اپنی اہمیت اُجاگر کرنے میں لگا رہے یا اس سے فائدہ اٹھائے۔ کل شام عارف نے یہ کہا: اگر کوئی اخبار نویس منفی ہتھکنڈوں پہ اتر آئے تو برادری کو چاہیے کہ اسے اپنی صفوں سے خارج کر دے۔ 
لیڈروں کا حال بھی یہی ہے اور بعض اخبار نویسوں کا بھی۔ انسان خطا و نسیان سے بنایا گیا ہے‘ مگر ایسا بھی کیا کہ خطا ہی کو وہ طرزِ زندگی بنا لے۔ سرکارؐ کا ارشاد یہ ہے کہ دنیا کی محبت تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ اپنا تجزیہ کرنا ہوتا ہے اور یہی سب سے مشکل کام ہے۔ عالیِ مرتبتؐ ایک تعلیم فرمایا کرتے: اللّٰھم انی اعوذبک من شرور انفسنا و سیّأتِ اعمالنا۔ اے میرے مالک مجھے اپنے نفس پر برائی سے اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے محفوظ رکھنا۔ ارشاد یہ ہے: من عرف نفسہ فقد عرف ربہُ۔ جس نے خود کو پہچان لیا‘ اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ 
دوسروں کی غلطیوں اور خامیوں پر ہم بہت غور کرتے ہیں۔ مبالغے کے ساتھ پھر بیان کرتے اور تکرار کرتے چلے جاتے ہیں۔ درویش سے پوچھا کہ کیا دعا سے کردار استوار ہو سکتا ہے۔ کہا: بلکہ توجہات سے۔ اپنی خرابیوں کو سمجھ لینے اور ان پر غلبہ پانے کی جستجو۔ بہت زیادہ نہیں‘ آدمی کے بنیادی تضادات چند ایک ہی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر نمود ذات کی غیر معمولی خواہش۔ کارگہ حیات میں ہر آدمی کا ایک کردار ہے اور وہ اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کر سکتا۔ اگرچہ اس سے کم تر بھی اسے نہ رہنا چاہیے اور اس سے مختلف بھی۔ ریاست ہائے متحدہ میں مفکر مرفی کے اس قول کا ذکر بہت کیا جاتا ہے۔ "A person can grow to the level of his incompitance" (آدمی اپنی نااہلی کی حد تک ہی پرواز کر سکتا ہے)۔ اور اقبال نے یہ کہا تھا ؎ 
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی 
فقط ذوق پرواز ہے زندگی 
اولین ملاقاتوں میں ایک بار عمران خان سے میں نے پوچھا کہ اس کے اپنے خیال میں اس کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ جواب ملا: اپنی محدودات (Limitations) کا مجھے اندازہ ہے۔ افسوس کہ اب نہیں رہا اور سبب معلوم۔ 
ایسے خواب وہ دیکھ رہا ہے جو پورے نہیں ہو سکتے۔ کم از کم فوری طور پر تو ہرگز نہیں۔ میرا نہیں خیال کہ وزیر اعظم سے استعفیٰ لینے میں وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ اچانک اس نے نعرہ لگایا اور علامہ طاہرالقادری کے تعاون سے ہدف حاصل کرنے کا سپنا دیکھا۔ سبحان اللہ‘ اس علامہ کے تعاون سے۔ اپنی پارٹی کو منظم کیے بغیر‘ کافی تحرک پیدا کیے بغیر وہ اسلام آباد پہ چڑھ دوڑا۔ ہاں میں ہاں ملانے والوں کے جلو میں وہ خود فریبی کا شکار ہے۔ چند ایک کے سوا‘ کسی کی اپنی کوئی شناخت‘ کوئی صلاحیت نہیں‘ اس کے بل پر جو چودھراہٹ جمانا چاہتے ہیں۔ ''نوے دن کے اندر بیداری کی ایسی لہر پیدا ہوئی‘ عشروں میں جو نہ ہوئی تھی‘‘ حضور! آپ نے عوامی بیداری کی مہم برپا کی تھی یا وزیر اعظم کے استعفے کی؟ 
مولانا فضل الرحمن اور عاصمہ جہانگیر ایسی شخصیات کے ساتھ محاذ آرائی؟ ایک ہوش مند لیڈر اپنا وقت اور توانائی کبھی ضائع نہیں کرتا۔ اس مجادلے میں حضرت مولانا اور عاصمہ جہانگیر کی اہمیت بڑھتی اور کپتان کی گھٹتی ہے۔ برابر کے فریق وہ نظر آتے ہیں۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر پاکستان کو غیر ملکیوں کے نقطۂ نظر سے دیکھتی اور انہی کے نقطہ نظر سے بروئے کار آتی ہیں۔ ماڈل ٹائون‘ کشمیر اور واہگہ کے مرنے والوں پر اس محترم خاتون کا دل کبھی نہیں دُکھتا۔ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ 
اگرچہ وہ خود بھی پوری طرح اس پر عمل نہ کر سکے‘ سید ابوالاعلیٰ مودودی کا وہ جملہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ''اگر کوئی کانٹا تمہارے دامن سے الجھنے کی کوشش کرے تو دامن کا اتنا حصہ پھاڑ کر اس کے حوالے کر دیجیے کہ لے تو اس سے دل بہلا‘ میں آگے چلتا ہوں‘‘۔ 
قسم ہے زمانے کی 
بے شک انسان خسارے میں ہے 
ان کے سوا جو ایمان لائے اور عمل اچھے کیے 
جنہوں نے حق کی نصیحت کی اور صبر کی نصیحت کی۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں