نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسٹیٹ بینک نےمانیٹری پالیسی کااعلان کردیا
  • بریکنگ :- کراچی:شرح سودمیں 0.25فیصداضافہ،اسٹیٹ بینک
  • بریکنگ :- کراچی:بنیادی شرح سود 7.25فیصدکردی،اسٹیٹ بینک
  • بریکنگ :- مہنگائی کےخدشات کےپیش نظرشرح سودمیں اضافہ کیاگیا،اسٹیٹ بینک
  • بریکنگ :- کراچی:نجی شعبےکےقرضوں میں 11فیصداضافہ ہوا،اسٹیٹ بینک
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

اپنا تو بن

حکمت! اللہ کے آخری رسولؐ نے ارشاد فرمایا تھا: حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ وہ حکمت کہاں ہے؟ تہذیبِ نفس کا اوّلین مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ خود اپنے باطن کو ٹٹولا جائے ؎ 
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات 
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن 
مینار پاکستان پر جماعت اسلامی کے جلسے میں شرکاء کی تعداد کیا ہو گی؟ زیادہ سے زیادہ حسنِ ظن رکھنے والے جہاندیدہ صحافی کا خیال تھا کہ 50 سے 60 ہزار۔ عرض کیا‘ دو عشرے قبل نوشہرہ میں جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں 75 ہزار افراد کے لیے کھانا پکایا جاتا۔ تیس برس بعد کیا یہ تعداد دو گنا بھی نہ ہوگی؟ 
1970ء میں جماعت اسلامی پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی حریف تھی۔ اگرچہ نتیجہ قیادت کے لیے صدمہ انگیز ثابت ہوا مگر اخبارات میں خبریں اس کی نمایاں طور پر چھپا کرتیں۔ امیدیں ہری تھیں اور سپنے دراز۔ 7 دسمبر 1970ء کی سویر‘ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کہا تھا: یہ بات کسی طرح میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جماعت اسلامی الیکشن ہار سکتی ہے۔ چند روز کے بعد رشید پارک میں سید صاحب نے اپنا تجزیہ پیش کیا۔ صحت کی خرابی کے باعث جلد ہی قیادت سے الگ ہو گئے۔ اب وہ ایک مرجھائے ہوئے آدمی تھے۔ ایک روز ارشاد کیا: کاش کہ اللہ نے مجھے کسی زندہ قوم میں پیدا کیا ہوتا۔ 
تب مرعوبیت کا عالم تھا۔ ان کی ہر بات باون تولے پائو رتی لگتی۔ یہ خیال بہت بعد میں آیا کہ محمد علی جوہرؔ‘ اقبالؔ اور قائد اعظم بھی اسی قوم میں پیدا ہوئے تھے۔ غلامی اور احساس کمتری سے انہوں نے اسے نجات بخشی اور امکانات کے نئے جہان اس پر وا کردیے۔ اگر کوئی لیڈر اور جماعت عوامی مقبولیت حاصل نہیں کر پاتی تو اس کا یہ مطلب کیسے ہوا کہ رائے عامہ نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ یہ بھی تو ممکن ہے حکمت عملی ناقص ہو یا ترجیحات کا تعین۔ 
دبی دبی سی آوازیں سنائی دیا کرتیں کہ سید صاحب پارٹی کو انتخابی سیاست کی دلدل سے نکال کر اخلاقی تربیت کے کشادہ میدان کے بارے میں سوچتے رہے۔ 
سننے میں یہ آتا رہا کہ ریزہ ریزہ ٹوٹتی ہوئی صحت کے باعث‘ انہوں نے یہ کہا: اس کام کو نہ چھیڑنا چاہیے‘ جسے میں سمیٹ نہیں سکتا۔ باقی تاریخ ہے۔ 
سید صاحب نفاست طبع کے امین تھے۔ ایک عظیم انشا پرداز۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے کہا تھا: اردو زبان کو انہوں نے شائستگی عطا کی۔ فرقہ پرست مولویوں اور بائیں بازو کے گالی بکنے والوں نے کہانیاں ان کے بارے میں بہت گھڑیں۔ وقت نے مگر گواہی دی کہ کردار کے وہ اُجلے تھے۔ ایک نہایت ہی لائق منتظم۔ اردو تو خیر گھر کی لونڈی تھی مگر عربی کے شناور بھی۔ انگریزی میں رواں۔ کثیرالمطالعہ۔ ایک منظم اور مرتب آدمی۔ سب سے بڑا وصف خیرہ کن ریاضت تھی۔ رمضان المبارک میں نماز عشاء اور سحری کے درمیان ایک پوری کتاب رقم فرما دی تھی‘ کوثر و تسنیم میں دُھلی‘ اسی زبان میں۔ عالم اسلام میں دور دور تک ان کا اکرام تھا اور ان کے علم کی دھوم۔ مفسرِ قرآن‘ مفسرِ حدیث‘ تاریخ اور ادب کے طالب علم۔ 
سوال یہ ہے کہ اگر وہ جامع الصفات جماعت اسلامی کو ایک مقبول عام جماعت نہ بنا سکے تو سراج الحق یہ کارنامہ انجام دے سکتے ہیں؟ وہ قلم نہیں‘ وہ زبان نہیں‘ وہ شخصیت نہیں۔ 
سراج الحق ایک بے ہنر آدمی نہیں۔ اسلام آباد میں شب ایک بجے تک ان سے بات ہوتی رہی۔ پھر رسان کے ساتھ وہ اٹھے اور کہا کہ نمازِ فجر سے قبل‘ مجھے لاہور پہنچنا ہے۔ سید منور حسن اور لیاقت بلوچ کی موجودگی میں امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے ان کا انتخاب‘ غالباً یہ کہتا ہے کہ وہ غیر معمولی تحّرک کے آدمی ہیں۔ ذہن رسا بھی رکھتے ہیں۔ شائستگی اور تحمل بھی۔ قیادت کی فطری صلاحیت بھی کہ قبائلی علاقے سے تعلق اور لسانی افلاس کے باوجود اسلامی جمعیت طلبہ کے امیر چنے گئے۔ اپنے پیش رو کے مقابلے میں وہ کہیں زیادہ سلیقہ مند ہیں اور یہ سلیقہ مندی حالیہ بحران میں جھلکتی رہی۔ یہ بات اگرچہ ادراک میں نہ آ سکی کہ جو جرگہ انہوں نے تشکیل دیا‘ اس میں رحمن ملک ایسے متفنی کا کیا کردار ہو سکتا تھا۔ 
دھیما پن اور ہوش مندی ان میں کارفرما ہے مگر کسی کارنامے کی امید؟ خدمتِ خلق کے میدان میں جماعت اسلامی کا کردار خوب ہے۔ سیلاب ہو یا زلزلہ‘ اس کے کارکنوں کی بے لوث ریاضت حیرت زدہ کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط زنجیر کی کڑیوں ایسی‘ اس کی شاندار اور قابلِ بھروسہ تنظیم مگر اس سے زیادہ کیا؟ برسبیل تذکرہ یہ بھی کہ مذہبی احساس سے للٰہی بغض رکھنے والوں کی طرف سے‘ جہادِ افغانستان کے ہنگام ڈالر سمیٹنے کا الزام‘ ایک یکسر بیہودہ الزام ہے۔ دوسروں کو لوگ خود پر قیاس کیا کرتے ہیں۔ اے این پی والوں کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی ہرگز کوئی ضرورت ہی نہیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے حوالے سے حال ہی میں جو بحث چھڑی‘ اس میں ایک بار پھر آشکار ہوا کہ سو طرح کے اعتراض ان پر ہو سکتے ہیں مگر ان کی حب الوطنی پر انگلی اٹھائی نہیں جا سکتی۔ معترضین کے برعکس وہ دنیا کو پاکستان کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں‘ نہ کہ پاکستان کو دنیا کے نقطۂ نظر سے۔ 
قاضی حسین احمد‘ امیر بنے تو جماعت اسلامی کے سب سے زیادہ دردمند اور سب سے زیادہ تخلیقی ذہن رکھنے والے خرم جاہ مراد نے ان سے کہا تھا‘ پارٹی کی خوبیاں اجاگر کرنے میں ہم ہمیشہ لگے رہتے ہیں‘ ناکامیوں کے اسباب کا جائزہ لینے کے لیے بھی کچھ ریاضت چاہیے۔ اس پر مکالمہ چاہیے اور کھل کر۔ میدان خطابت کے اس شہسوار کو سیکرٹری جنرل کے طور پر اس خیال سے اتفاق تھا مگر امیر جماعت کی حیثیت سے‘ وہ یہ قدم اٹھا نہ سکے حتیٰ کہ مہلت تمام ہوئی۔ سبھی کی مہلت تمام ہوتی ہے۔ وقت مقرر ہے اور ایک ساعت کا اس میں اضافہ نہیں ہوتا۔ 
چھ برس ہوتے ہیں‘ میرے مرحوم دوست فاروق گیلانی سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ کہا: نہایت تیزی سے جماعت اسلامی خاکسار تحریک بنتی جا رہی ہے۔ صبر و تحمل کے ساتھ وہ سنتے رہے مگر سنتے ہی رہے ؎ 
اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ 
دریا سے اٹھی، لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی 
جناب سراج الحق کے لیے بھی مضمون واحد ہے۔ 73 برس میں اگر کوئی درخت دس بارہ انچ ہی بڑھ سکے تو یہ گمان کیسے کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ تین سال میں وہ نواح لاہور کے اس برگد کی طرح ہو جائے گا‘ جس کے سائے میں ایک بارات سستا سکتی ہے۔ 
1954ء وہ پہلا برس تھا‘ جماعت اسلامی جب انتخابی میدان میں اتری۔ نصف صدی کی اس مسافت نے اسے کیا دیا۔ لے دے کے صرف ایک صوبے میں ایک انتخابی فتح۔ 2002ء میں افغانستان پر امریکی بمباری کے ہنگام متحدہ مجلس عمل بازی جیت گئی۔ یہ ایک لاکھ افغانوں کے لہو کا ثمر تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی حلیف بن کر‘ جس کے بعد جماعت اسلامی شریک اقتدار ہوئی۔ اس اقتدار کی یادیں تلخ ہیں؛ اگرچہ جماعت اسلامی کے وزراء پر کرپشن کا الزام نہ لگا مگر حاصل کیا؟ سراج الحق کہتے ہیں کہ 67 سال پہلے جس مقصد کے لیے یہ ملک بنا تھا‘ ایک دن کے لیے بھی وہ اس ملک میں نافذ نہ ہوا۔ کیا وہ اس نکتے پر غور فرمائیں گے کہ کیوں؟ کیا ایک بڑا سبب یہ بھی نہیں کہ ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست کا جو تصور اقبال اور قائد اعظم کے ذہن میں تھا‘ کیا دینی جماعتوں نے خلوص دل سے کبھی اسے قبول کیا؟ رہے نام نہاد بائیں بازو والے جو روسی کشتی سے اتر کر امریکی موٹر بوٹ میں سوار ہو گئے تو ان کا اندازِ فکر ہمیشہ آشکار تھا۔ 
مغرب میں نفسیات کے علم کا تمام تر زور ہمیشہ دوسروں کے تجزیے پر رہا۔ اسلام کی علمی روایت میں خود اپنی ذات کا شعور حاصل کرنے پر۔ حکمت! اللہ کے آخری رسولؐ نے ارشاد فرمایا تھا: حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ وہ حکمت کہاں ہے؟ تہذیبِ نفس کا اوّلین مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ خود اپنے باطن کو ٹٹولا جائے ؎
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات 
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں