نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- انہوں نے 5،5کروڑکی آفردی ہمارے ٹکٹ پرالیکشن لڑیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- مسلم لیگ(ن)اورپیپلزپارٹی کایہ آخری الیکشن ہوگا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- عمران خان جیت کردوبارہ حکومت بنائیں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی دوتہائی اکثریت سےحکومت بنائےگی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- عالمی لیڈرشپ عمران خان کودیکھ رہی ہےیہ حسدکاشکارہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- انہوں نےآئندہ 5سال بھی ایسےروتےہوئےگزارنےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- دورہ منسوخی سے متعلق حقائق سامنےلائےتوانگلینڈبورڈپردباؤبڑھا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- برطانوی وزیراعظم نےانگلش بورڈپرناراضگی کااظہارکیا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کےنوٹس کامعاملہ،کئی باراختلافات بھی ہوجاتےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کےساتھ کوئی ذاتی جھگڑانہیں ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کےساتھ معاملات بہترہوجائیں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- نئےچیئرمین نیب کی تعیناتی میں شہبازشریف سےمشاورت نہیں کریں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- وزیراعظم ہرمعاملےمیں عوام کےدل کی ترجمانی کرتےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ماضی میں کبھی کسی لیڈرنےاس طرح کشمیرکامقدمہ نہیں لڑا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ممبئی حملوں کےبعدپاکستان کیخلاف عالمی سازش شروع کی گئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان نےمودی کوللکاراجوپہلےکبھی نہیں ہوا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کلبھوشن یادیوکوگرفتارکیاتونوازشریف نےکہاتبصرہ نہیں کروں گا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- نوازشریف جیسےسیاستدانوں کواپنی ذات کےعلاوہ کچھ نظرنہیں آتا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- نوازشریف اوراشرف غنی ایک جیسی زندگی گزاررہےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- نوازشریف اوراشرف غنی پیسہ لےکربیرون ملک فرارہوئے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- جہلم:ایک دبئی اوردوسرالندن میں بیٹھاہے،وزیراطلاعات فوادچودھری
  • بریکنگ :- جہلم:ان دونوں کاعوام سےکوئی تعلق نہیں تھا،وفاقی وزیرفوادچودھری
  • بریکنگ :- ن لیگ اورپیپلزپارٹی بکھرگئی ان کےپاس ٹکٹ لینےوالےامیدوارنہیں،فوادچودھری
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

مارشل لا نہیں آئے گا!

گزارش بہرحال یہ ہے کہ وحشت کی بجائے اعتدال، تحمل اور حکمت کی ضرورت ہے۔ بار بار دہرائی گئی غلطی ایک بار پھر نہ دہرائی جائے۔
میثاقِ جمہوریت کا بنیادی مقصد کیا تھا؟ دوسروں کی طرح ناچیز نے بھی خیر مقدم کیا۔ اگلے دن متن پڑھا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ سترھویں شق یہ تھی: تمام ''تعصبات‘‘ بالائے طاق رکھ کر بھارت اور افغانستان سے بہرحال خوشگوار تعلقات قائم رکھے جائیں گے... بہرحال، اور ''تمام تعصبات بالائے طاق رکھ کے‘‘۔ کریدنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ امریکی منصوبہ ہے اور برطانوی وزارتِ خارجہ کے اہتمام سے پروان چڑھا۔ ممتاز بھارتی اخبار نویس کلدیپ نائر سے میاں صاحب نے یہ کہا کہ ہم (سیاسی عناصر ) تو بھارت سے خوشگوار ہموار تعلقات کے آرزومند ہیں، فوج رکاوٹ ہے۔ جناب رفیق ڈوگر اور پروفیسر فتح محمد ملک کے مضامین چھپے؛ حتیٰ کہ میاں نواز شریف کو وضاحتی بلکہ معذرتی بیان جاری کرنا پڑا۔ نوائے وقت کے خبر نگار سے انہوں نے کہا: (ان کے بیان کی) عبارت لکھتے ہوئے ہارون الرشید کے کالموں کو ملحوظ رکھا جائے۔
تفصیلات تلخ ہیں۔ آزاد کشمیر کی انتخابی مہم سے لے کر ایک میڈیا گروپ کے طرزِ عمل تک، کب کب کیا کچھ کہا گیا۔ مختصراً یہ کہ پاک فوج کے خلاف دونوں جماعتوں کا اتحاد قائم رہا؛ تاآنکہ نون لیگ کی قیادت نے سجدہ سہو کر لیا۔ پاکستانی فوج مغرب کا ہدف تھی۔ بے شک عسکری قیادت نے بھی امریکہ سے سمجھوتے کیے، المناک سمجھوتے۔ اس وقت جو پہلو زیرِ غور ہے، وہ یہ کہ سیاسی جماعتوں کو اس کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
فعال طبقات کے احساس میں بڑی شدّت رہی کہ فوج کو
مسندِ اقتدار پر براجمان نہ ہونا چاہیے۔ بالکل بجا، آخرکار سول ادارے ہی ملک چلاتے ہیں۔ ان کے بغیر کوئی معاشرہ معاشی، سیاسی، علمی اور اخلاقی طور پر نمو پذیر نہیں ہو سکتا۔ نکتہ یہ ہے کہ طاقتور ممالک سے سازباز کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ سیاسی جماعتوں نے خود کو طاقتور بنایا ہوتا۔ گزشتہ صدی کے آخری نصف میں ترکی سمیت ایک ایک کرکے کتنے ہی ممالک نے عسکری حکمرانی سے نجات پائی۔ ان سب میں حکمران طبقات نے عوامی امنگوں سے مطابقت پیدا کی۔ بلدیات، پولیس اور ٹیکس وصولی سمیت، سول اداروں کو موثر بنایا اور دلدل سے باہر نکل گئے۔ ترکی نے تو دنیا کی دوسری سب سے زیادہ تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشت تشکیل دی۔ صدیوں کی ملوکیت اور غلامی کی ماری ہماری اشرافیہ کا مسئلہ یہ ہے کہ جمہوریت کے نام پر وہ بادشاہت قائم کرتی ہے۔ بھٹو خاندان اور شریف خاندان نمایاں مثالیں ہیں۔ آخرکار ہر فوجی حکومت بھی استحکام پیدا کرنے میں ناکام ہوئی۔ ایسا ہر دور سول اداروں کی مزید کمزوری اور ابن الوقت سیاستدانوں کی نئی کھیپ جنم دینے کا باعث بنا۔ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ معاشی نمو اگر ممکن ہوئی تو جنرل محمد ایوب خان، جنرل محمد ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے طویل ادوار میں۔
المناک بات یہ ہے کہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما فوجی نرسریوں میں اگے اور فوجی حکمرانوں کے انداز ہی انہوں نے اپنائے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بہت بڑا تیس مار خان بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ آٹھ سال تک وہ ایوب خان کے پُرجوش وکیل رہے۔ 1970ء کا الیکشن ہوا تو اکثریتی لیڈر شیخ مجیب الرحمٰن کو اقتدار منتقل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے۔ بھٹو اگر سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں پر اکتفا کرتے تو یحییٰ خان کی مجال کیا تھی کہ اقتدار منتقل نہ کرتے۔ آنجناب کا عرصہء اقتدار پاکستانی پریس کا بدترین دور تھا۔ قریشی برادران اور محمد صلاح الدین سمیت کتنے ہی اخبار نویس جیلوں میں سڑتے رہے۔ کتنے ہی اخبار بند ہوئے۔ حنیف رامے سمیت کتنے سیاسی قیدی شاہی قلعہ کی تنگ و تاریک کوٹھڑیوں کی نذر ہوئے۔ بلوچستان پر چڑھائی کی۔ اپنے ساتھیوں کو دلائی کیمپ میں نظر بند کیا۔ عبدالولی خان اور حبیب جالب سمیت اے این پی (تب این اے پی) کے کتنے ہی لیڈروں پر غدّاری کا مقدمہ چلایا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا تو یہ سب لوگ حیدر آباد جیل میں پڑے تھے۔
آج کراچی کی صورتحال سے کیا یہ آشکار نہیں کہ سیاستدانوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔ کبھی وہ فقط من مانی کیا کرتے۔ اب اس قدر بدعنوان ہوگئے کہ خدا کی پناہ۔ کچھ نے مسلّح گروہ بنا لیے۔ علی الاعلان بعض نے قیامِ پاکستان کی مخالفت کی اور بھارت سے مراسم بڑھائے۔ چند روز قبل کراچی کے ایک ممتاز لیڈر سے رینجرز کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا: آپ کے خلاف سنگین الزامات ہیں۔ اس پر کچھ دیر وہ خاموش رہا۔ پھر یہ کہا: کیا بچ نکلنے کی کوئی صورت ہے؟ اس صوبائی وزیر نے بھی، جس کے ٹھکانے سے اربوں روپے برآمد ہوئے، کرپشن کی تردید نہیں کی۔ کمال ڈھٹائی سے یہ فرمایا: سب کا کچّا چٹھّا کھول دوں گا۔ زرداری صاحب اس لیے تلملا اٹھے کہ ان کے دو درجن سے زیادہ رفقا کے خلاف شواہد مکمل ہیں۔ دوسری پارٹی کے کئی لیڈروں کے خلاف بھی۔ سنّی تحریک کے درجن بھر جانبازگرفتار ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، اے این پی والے بھی پکڑے جائیں گے۔ کیا اسی کا نام جمہوریت ہے؟
تکنیکی سوالوں پر بحث ہے۔ سندھ میں کیا گورنر راج نافذ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ حضور! اس حکومت کے باقی رہنے کا ہرگز کوئی جواز نہیں۔ یہ وزیرِ اعظم اور دوسرے سیاستدانوں کا دردِ سر ہے کہ نجات کے لیے راہ ہموار کریں۔ زرداری صاحب کی سرپرستی میں کراچی میں امن ناممکن ہے۔ وزرائِ کرام میں اگر یہ مقابلہ برپا ہو کہ کم از کم وقت میں کون زیادہ سے زیادہ سرمایہ سمیٹ کر باہر بھجواتا ہے۔ سرکاری افسروں کا انتخاب اگر اس بنا پر کیا جائے کہ بھتہ خوری میں کون زیادہ مددگار ہو سکتا ہے‘ تو کہاں کا امن، کہاں کی حکمرانی اور کہاں کی جمہوریت!
کل اگر فوج اقتدار سنبھالے تو عوام کی عظیم اکثریت اس کا خیر مقدم کرے گی لیکن یہ ایک مہلک غلطی ہو گی۔ خدا کا شکر ہے کہ عسکری قیادت کسی قدر اب تاریخی شعور سے بہرہ ور ہے۔ وہ جانتی ہے کہ وقتی پذیرائی کے باوجود انجام خطرناک ہو گا۔ معلومات کی بنا پر عرض ہے کہ پاک فوج کا سربراہ خواہشات کے چنگل میں گرفتار نہیں۔ اس زمانے کی یادیں ابھی زندہ ہیں، جب فوجی افسر وردی پہن کر بازار نہ جا سکتے تھے۔ فوج اگر اقتدار پر قابض ہوئی تو استحکام کے چند ماہ ہی حاصل ہوں گے۔ پہاڑ ایسی توقعات پوری نہ ہو سکیں گی۔ قوم عسکری قیادت سے مایوس ہو جائے گی۔ اس تصور ہی سے خوف آتا ہے۔
سول اداروں کو مضبوط بنائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ مجبوری میں سہی، وفاقی حکومت اور فوجی لیڈرشپ میں ہم آہنگی موجود ہے۔ دونوں میں یہ احساس کارفرما ہے کہ باہمی تعاون کے بغیر دلدل کے پار نہیں اترا جا سکتا۔ ایک آدھ نہیں، بہت سے چیلنج ہیں۔ باہمی اتفاقِ رائے کے ساتھ ہی ان سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ہدف یہ ہونا چاہیے کہ آخرکار فوج اپنے کردار تک محدود ہو جائے، سب کے سب ادارے۔ ظاہر ہے کہ پارلیمان کو مضبوط بنائے بغیر اس مقصد کا حصول ممکن نہیں۔ فی الحال وہ یکسر نظر انداز ہے۔ اقتصادی راہداری ہو، بجلی کے منصوبے یا ایل این جی کی درآمد، کابینہ تک کو خبر نہیں ہوتی۔ جی نہیں، کاروبارِ حکومت اس طرح نہیں چلے گا۔ مارشل لا تو انشاء اللہ ہرگز نہ آئے گا اور ہرگز نہ آنا چاہیے۔ کچھ بنیادی فیصلے مگر ضروری ہیں۔ ان میں سے ایک سندھ میں ایک شائستہ حکومت کا قیام ہے۔
موضوع ادق ہے۔ مختصر سے کالم میں انصاف ممکن نہیں۔ گزارش بہرحال یہ ہے کہ وحشت کی نہیں، اعتدال، تحمل اور حکمت کی ضرورت ہے۔ بار بار دہرائی گئی غلطی ایک بار پھر نہ دہرائی جائے۔ مارشل لا نہیں آئے گا۔ اہلِ دانش اس جنگل میں کوئی اور قرینہ تلاش کریں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں