نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ہفتہ کوبارودی سرنگ دھماکوں میں طالبان کی 3گاڑیوں کونشانہ بنایاگیاتھا ،خبرایجنسی
  • بریکنگ :- جلال آبادمیں گزشتہ روزبھی بم حملےمیں طالبان کی گاڑی کونقصان پہنچاتھا ،خبرایجنسی
  • بریکنگ :- آئی ای ڈی حملوں میں3افرادہلاک،متعددزخمی ہوگئےتھے،خبرایجنسی
  • بریکنگ :- داعش نےافغان شہرجلال آبادمیں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی،خبرایجنسی
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

کانِ نمک

المیہ فقط یہ نہیں کہ سیاسی لیڈر غلط فیصلے کر رہے ہیں۔ فقط یہ نہیں کہ عوامی جذبات کا سستا کھیل،کھیل رہے ہیں۔ صدمہ یہ ہے کہ ملک کی رتی برابر پروا نہیں۔ حکمران پارٹی اور نہ اپوزیشن کو ؎
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
پی آئی اے کی نجکاری کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ تیس ارب روپے سالانہ خسارہ ہے۔ یہ خسارہ پاکستانی عوام کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف، اپوزیشن لیڈر، آصف علی زرداری، وزیر خزانہ اسحق ڈار اور میاں منشا نہیں بلکہ عام آدمی کی جیب سے۔ وہ مزدور چکاتا ہے، پلاسٹک کی چپل پہنے، بوسیدہ چادر اوڑھے جو صبح سویرے مزدوری کی تلاش میں نکلتا ہے۔ جسے معلوم نہیں ہوتا کہ آج کے دن پچاس روپے کلو بکنے والا آٹا وہ خرید پائے گا یا نہیں۔ کسی بھی ادارے کے مستقبل کا فیصلہ کارکن نہیں بلکہ اس کے مالک کیا کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں 90 فیصد کاروبار کامیاب مگر سرکاری ادارے اکثر ناکام رہتے ہیں۔ سوشلزم کا ستر سالہ تجربہ ہمارے سامنے ہے، جسے لپیٹ دینا پڑا۔ سرکاری افسر اپنے کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتے تو کاروباری ادارے کیا خاک چلائیں گے۔ تجربہ نہیں ہوتا، وہ اہلیت نہیں رکھتے اور وہ ان کے ساتھ وفا نہیں کرتے۔ کیوں کریں؟ اپنی تنخواہوں اور مراعات کی انہیں فکر ہوتی ہے۔ سرکاری اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز وزیر اعظم مقرر کرتے ہیں، ہم سب جانتے ہیں کہ لیاقت سے زیادہ ان کا تقرر ذاتی خوشنودی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ سٹیٹ بینک، نیشنل بینک اور پی آئی اے جیسے ادارے ان کے پسندیدہ ہیں۔ مراعات بہت اور تنخواہیں شاندار۔ سال بھر میں تین چار اجلاس بھی ہو جائیں تو بائیسویں گریڈ کے ایک افسر سے زیادہ یافت ہو جاتی ہے۔ پی آئی اے کے مالک پاکستانی عوام ہیں۔ سٹیل ملز، پی آئی اے،ریلوے، واپڈا اور دوسرے سرکاری اداروں میں کم از کم پانچ سو ارب روپے سالانہ کا خسارہ ہے۔ یہ خسارہ ہم اپنے خون پسینے کی کمائی سے پورا کرتے ہیں۔
حکومتی فیصلہ اگر منظور نہیں تو عوام سے پوچھا جائے۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات میں دو ہفتے کا ایک مناظرہ کرنے کے بعد ریفرنڈم کرا لیا جائے۔ چند ہزار ملازمین پر اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ دنیا بھر میں نجکاری کی مزاحمت کی جاتی ہے۔ جدید تاریخ کا تمام تجربہ یہ ہے کہ قومی معیشت کے لیے اکثر یہ ثمر خیز ہوتی ہے۔ ملازمین کا البتہ خیال رکھنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ ملازمتیں بچا لینی چاہئیں‘ اس لیے کہ بے روزگاری عام ہے۔ عام آدمی کی ہر ممکن مدد کی جانے چاہیے۔ سنہری سودا (گولڈن شیک ہینڈ) پہلا مرحلہ ہونا چاہیے۔ اعداد و شمار مہیا نہیں، خیال یہ ہے کہ دس لاکھ سے ایک کروڑ تک ایک ملازم کو ملیں گے۔ وہ اس سے کاروبار کر سکتا ہے یا سرمایہ کاری۔ پڑھے لکھے لوگ ہیں‘ بہت سوں کو متبادل ملازمتیں بھی مل جائیں گی۔
پی آئی اے کی تباہی کے اسباب معلوم ہیں۔ اول ذوالفقار علی بھٹونے کچھ ملازمتیں دیں، پھر محترمہ بے نظیر بھٹو اور آخر میں جناب آصف علی زرداری نے تو تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا۔ نون لیگ نے بھی اپنے لوگوں پر عنایات کیں مگر کم کم۔ مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ مشاہد اللہ خان کے دونوں بھائیوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ قائم علی شاہ کی ایک صاحبزادی کو جو نواز شریف کے دور میں برطرف کی گئی تھیں، پیپلزپارٹی کی حکومت بحال ہونے پر کروڑوں روپے ادا کیے گئے۔ اگر یہ بات درست ہے تو سمجھ میں آتا ہے کہ موصوف احتجاجی ملازمین کو اکسا کیوں رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کو انہوں نے فون کیا ہے۔ خواجہ صاحب کیا کریں گے۔ انہیں چاہیے کہ زرداری صاحب سے رابطہ کریں اور وہ وزیر اعظم سے۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پی آئی اے، سندھ یا پختونخوا حکومت کے حوالے کر دی جائے۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کو بہت غم لگا ہے۔ انہیں موقع دینا چاہیے، اس ادارے کو چلانے کا۔
2007ء میں سٹیل مل کی نجکاری کا فیصلہ ہوا تھا۔ جسٹس افتخار چوہدری نے اس پر عمل درآمد روک دیا۔ حکومت کو اپیل کرنا چاہیے تھی مگر اس نے چیف جسٹس کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ لگ بھگ 200 ارب روپے مزید ضائع کئے جا چکے۔ کب تک یہ تماشا رہے گا۔ کب تک پاکستانی عوام کا خون پیا جاتا رہے گا۔ 
جہاں تک منگل کے واقعہ کا تعلق ہے، جس میں دو ملازمین جان ہار گئے اور نجکاری کو مشکل تر بنا دیا‘ کوئی بھی درد مند اس پر دکھی ہو گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کے مظاہروں کو روکنا رینجرز کا کام نہیں۔ لگ بھگ 95 فیصد ہنگاموں کا تعلق پولیس سے ہوتا ہے، 4 فیصد میں پیراملٹری فورسز کی ضرورت پڑتی ہے، تقریباً ایک فیصد میں فوج کی جو چند گھنٹوں کے لیے آتی ہے۔ پاکستان ہی نہیں‘ ساری دنیا میں تناسب یہی ہے۔ رینجرز یا فوج کی ضرورت تب پڑتی ہے، جب مظاہرین آگ لگانے یا توڑ پھوڑ کرنے پر اتر آئیں۔ ایسی کوئی چیز کراچی کے ہوائی اڈے پر نہیں دیکھی گئی۔ اخبار نویسوں نے تحقیق سے گریز کیا اور سیاپا کرنے پر تلے رہے۔ پی آئی اے کے بعض ملازمین نے دعویٰ کیا کہ رینجرز کو انہوں نے گولی چلاتے دیکھا۔ تحقیقات جب تک نہ ہو، اس دعوے کو مسترد کیا جا سکتا ہے اور نہ قبول۔ وہ ایک فریق ہیں۔ دوسرے امکانات کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ اوپر سے احکامات جاری نہ ہوئے ہوں اور کسی ایک یا ایک سے زیادہ گِھر جانے والوں نے ہیجان اور خوف میں مبتلا ہو کر آگ برسا دی ہو۔ کراچی شہر میں بھارتی ٹائوٹ دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ اندیشہ بھی ہے کہ کسی نے فساد پھیلانے کا ارادہ کیا ہو۔ کچھ بھی ہو، عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے اور قابل اعتبار تحقیقات۔ کسی ایسے جج کے ذریعے، جس پر سبھی کو اعتماد ہو۔ مظاہرین سے نمٹنا ایک سائنس ہے، اول لاٹھی چارج، پھر ربڑ کی گولی، ضروری ہو تو رنگین پانی کا دبائو تاکہ مظاہرین پیچھے ہٹیں اور پہچانے جائیں۔ ایک خاص قسم کی بندوق ایک امریکی کمپنی نے ایجاد کی ہے، جس سے مظاہرین وقتی طور پر بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں موجود ہے مگر تربیت بھی تو ہو۔ نوبت گولی تک کیسے پہنچی؟ اس لیے کہ پولیس کو سکھایا نہیں جاتا اور رینجرز کا یہ کام ہی نہیں؛ اگرچہ اس وقت پورے یقین سے انہیں ذمہ دار ٹھہرانا عمران خان اور پیپلز پارٹی ہی کو زیبا ہے۔ ثبوت کوئی نہیں۔ رہا پرویز رشید، مشاہد اللہ اور شجاعت عظیم کے خلاف مقدمے کا اندراج تو رینجرز کو کیا انہوں نے حکم دیا تھا؟ پرویز رشید اور مشاہد اللہ کو میں جانتا ہوں، تھوڑا سا شجاعت عظیم کو بھی۔ وہ تو ایک چڑیا بھی نہیں مار سکتے، چہ جائیکہ گولی چلانے کا حکم دیں اور حکم وہ دے بھی کیسے سکتے ہیں؟
پیپلز پارٹی اگر احتجاجیوں کے ساتھ ہے تو یہ قابل فہم ہے۔ وہ اس کے ووٹر ہیں مگر عمران خان؟ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ۔ جناب سراج الحق؟ چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی۔ انہی کا کیا ذکر‘ اخبار نویسوں میں ایسے ہیں، جانتے بوجھتے جو نجکاری کی مخالفت کر رہے ہیں کہ نون لیگ اور نواز شریف کو اس سے تکلیف پہنچے گی۔ 
میاں محمد نواز شریف کا عزم کمزور ہے۔ نجکاری تو خیر بہت بڑی بات ہے، یقین سے کہا نہیں جا سکتا کہ وہ کاروباری شراکت تک بھی ادارے کو لے جا سکیں گے یا نہیں۔ 1980ء کے عشرے میں مارگریک تھیچر نے کوئلے کی کانوں سے برطانوی حکومت کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا تو طاقتور مزدور انجمنوں نے طوفان اٹھا دیاتھا۔ انہوں نے مگر رتی برابر پروا نہ کی۔ اسی لیے انہیں خاتون آہن کہا گیا۔ لیڈر وہ ہے جو ملک کا دیرپا مفاد دیکھے، حالات کے سامنے جھک نہ جائے۔ عمران خان کبھی اس پر بہت زور دیا کرتے تھے مگر اب وہ بھی نمک کی کان میں نمک ہو گئے۔
المیہ فقط یہ نہیں کہ سیاسی لیڈر غلط فیصلے کر رہے ہیں۔ فقط یہ نہیں کہ عوامی جذبات کا سستا کھیل،کھیل رہے ہیں۔ صدمہ یہ ہے کہ رتی برابر پروا نہیں۔ حکمران پارٹی اور نہ اپوزیشن کو ؎
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں