نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:مختلف علاقوں میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری
  • بریکنگ :- ملیرسٹی رفیع گارڈن میں بجلی بندش کادورانیہ 7 سے 9 گھنٹےہوگیا
  • بریکنگ :- کےالیکٹرک کی جانب سےعلاقےمیں 3 گھنٹےلوڈشیڈنگ شیڈول ہے
  • بریکنگ :- کراچی:ہزارہ کالونی،کالاپل،کورنگی ڈھائی نمبرسمیت دیگرعلاقےبھی متاثر
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

خانہ بدوش…5

جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے ڈاکٹر نجیب کو کی جانے والی پیشکش کی کچھ اور تفصیل درکار ہے۔ درحقیقت ایک تصحیح۔ وہ بھی اس تاریخی واقعے کے ایک کردار کی زبانی۔ ابھی ابھی میجر عامر نے جن کی یادداشت غیرمعمولی ہے‘ طالب علم کو بتایا۔ پہلا پیغام افغانستان پر روس کی طرف سے مسلط کیے گئے حاکم نہیں بلکہ جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ جب انہوں نے فوج واپس بلانے کا فیصلہ کیا ۔ جنرل کو یقین تھا کہ افغانستان میں اگر دیرپا امن قائم کرنا ہے تو افغانستان میں وسیع تر بنیاد کی حکومت تشکیل دینی چاہیے۔ کمیونسٹ ہار چکے تھے۔ اگر سوویت فوج کی موجودگی میں وہ ظفر مند نہ ہو سکے تو اب ان کا تحلیل ہونا یقینی تھا۔ جنرل نے نجیب کو کہلوا بھیجا کہ آئندہ جو حکومت تشکیل پائے گی‘ انہیں اس میں شریک کیا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے ساتھیوں کو بھی۔
پیغام نادر خان زخا خیل کے توسط سے بھیجا گیا‘ عبدالوکیل نامی ایک شخص کے ذریعے‘ جو اس قبائلی سردار کا دوست تھا۔ نادر خان زخا خیل برسوں افغانستان میں رہے تھے اور وکیل نامی شخص کے دوست تھے۔ وکیل نجیب کے بہنوئی تھے۔ بدلتی ہوئی صورت حال میں نادر خان پاکستان کے قبائلی علاقے میں لوٹ آئے تھے، پھر سے مشرف بہ پاکستان ہو چکے تھے۔ سخت گیر سودے باز اور خوش فہم نجیب نے کہلوا بھیجا کہ ضیاء الحق خود تو اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں‘ وہ اسے کیونکر دستبردار کرنے پر تلے ہیں۔ نادر خان زخا خیل سے یہ رابطہ میجر عامر کے توسط سے ہوا تھا‘ بعض مواقع پر جنہوں نے افغانستان کے باب میں بنیادی کردار ادا کیا۔ سندیسے کا جواب لے کر میجر صاحب اپنے افسر جنرل حمید گل کے پاس پہنچے۔ جنرل محمد ضیاء الحق سے انہوں نے ملاقات کی درخواست کی اور بتایا کہ ڈاکٹر نجیب کچھ ایسے سنجیدہ نہیں۔
ضیاء الحق سنجیدہ ہوگئے اور اس قدر کہ جنرل حمید گل حیران ہوئے۔ انہوں نے کہا: بجا ارشاد‘ ایک ساتھ ہم دونوں مستعفی ہوتے ہیں۔ یہ 14اگست 1988ء کا ذکر ہے۔ تین دن بعد ان کا طیارہ فضا میں تباہ کردیا گیا۔ ایٹم بم بنانے اور بھارت کی چالوں کو خود اس پر الٹا دینے کے بعد ضیاء الحق تاریخی مواقع نمودار ہوتے دیکھ رہے تھے۔ سیاستدانوں کے برعکس جو ایک یا دوسرے فریق کی حمایت کرتے اور ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے‘ جنرل کے پاس ایک واضح منصوبہ تھا۔ اس کے باوجود کہ دنیا کی 122‘ تقریباً دو تہائی اقوام نے ان کی افغان پالیسی کی تائید کی تھی۔ اس کے باوجود کہ پاکستان میں افغان جہاد کی حمایت کبھی 66 فیصد سے کم نہ ہوئی‘ مشکل یہ تھی کہ وہ فعال طبقات اور سیاسی پارٹیوں کو حامی نہ بنا سکے۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا خود اپنے وزیراعظم محمد خان جونیجو کو بھی‘ مستقل طور پر جو اس کمپلیکس کا شکار تھے کہ انہیں ایک آزاد لیڈر سمجھا جائے۔ جنرل کی اس کمزوری سے انہوں نے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا کہ وہ آسانی سے انہیں ہٹا نہیں سکتے۔ محمد خان جونیجو نے ایوان وزیراعظم میں کل جماعتی کانفرنس طلب کی۔ دوسروں کے علاوہ بینظیر بھٹو بھی اس میں مدعو تھیں۔ باپ کے برعکس وہ امریکہ سے سمجھوتہ کر چکی تھیں۔ سیاستدانوں کے اس گٹھ جوڑ نے جنیوا معاہدے کو ممکن بنا دیا‘ جو امریکہ کے مفاد میں تھا اور روس کو گوارا تھا۔ مگر افغانستان کو اس نے مستقل طور پر خانہ جنگی میں مبتلا کردیا۔ ایک مضبوط حکومت کی تشکیل کو یکسرنظرانداز کر دیا گیا‘ جس کے بغیر قیام امن کا سوال ہی نہ تھا۔
طویل جنگ نے احمد شاہ ابدالی کے دور سے چلے آتے عمرانی معاہدے کو تحلیل کر دیا تھا۔ آبادی اور علاقوں کے درمیان ایک نیا سمجھوتہ‘ ایک اور بندوبست درکار تھا۔ روسیوں کو اس کی کیا پروا تھی کہ انہیں تو اپنے آپ کو بچانے کا چیلنج درپیش تھا۔ امریکیوں کو کیا ضرورت کہ خلفشار سے فائدہ اٹھا کر چین‘ ایران‘ پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان‘ وہ اپنا ایک اڈا قائم کرنے کے آرزومند تھے۔ جونیجو کا خیال تھا کہ آئندہ الیکشن میں اپنے طور پر وہ فاتح بن کر ابھر سکتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے اعتبار سے ان کا دور بہترین ادوار میں سے ایک تھا۔ کرپشن اگرچہ کارفرما تھی لیکن خود وزیراعظم کا تاثر بہت اچھا تھا۔ ایک آدھ نہیں بدعنوانی پر تین وزراء کو انہوں نے سبکدوش کردیا تھا۔ رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی مقبولیت پیپلزپارٹی سے زیادہ تھی۔ ان کے وزیرخارجہ زین نورانی جنیوا پہنچے اور معاہدے پر انہوں نے دستخط کر دیے۔ وہ آدمی جو کبھی آئی
ایس آئی کے لیے پانچ سو ماہوار پر مخبری کیا کرتا۔
مقبول ترین پشتون لیڈر گلبدین حکمت یار کی قیادت میں وسیع البنیاد افغان حکومت کا راستہ روک دیا گیا۔ بہت دن سے امریکہ اور اس کے حلیف اس منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کابل میں اگر ایسی حکومت بن گئی تو پاکستان ایک طاقت بن کے ابھرے گا۔ کیونکر وہ یہ گوارا کرتے۔ وہ ہمیشہ سے اس ملک کو محتاج اور اپنے آپ پر منحصر رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ حکمت یار سے وہ اس قدر نفرت کرتے تھے کہ طالبان کے ابھر آنے کے بعد بھی وہ اسے ملاعمر سے زیادہ خطرناک قرار دیتے رہے؛ چنانچہ نائن الیون کے فوراً بعد ایران سے انہوں نے برملا احتجاج کیا کہ اسے پناہ کیوں دے رکھی ہے۔ طالبان کی نمود کے بعد وہ تہران میں تھے، جہاں ایرانیوں سے ان کاکامل سمجھوتہ کبھی نہ ہو سکا۔ وہ ایک آزاد منش آدمی ہیں۔
1983ء میں صدر ریگن کے ساتھ ملاقات سے انکار کے بعد حکمت یارکو اپنی زندگی خطرے میں نظر آئی تو براہ راست پاکستان کارخ کرنے کی بجائے، سوچ بچار اور منصوبہ بندی کے لیے انہوں نے وقت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ برسوںسے مغربی جرمنی میں مقیم ترک انہیں پیغام بھیج رہے تھے کہ وہ ان کی مدد کے آرزو مند ہیں۔ روز ویلٹ ہوٹل سے وہ نیویارک کے ہوائی اڈے پر پہنچے اورجرمن ایئر لائن لفتھانسا کے کائونٹر کا رخ کیا۔ لگ بھگ دودرجن آدمی ان کے ہمراہ تھے، غالباً حفاظتی نقطہ نظر سے۔ کھڑکی میں مسافر وںکا انتظارکرتی خاتون نے اس مجمع کو دیکھا تو وہ پریشان سی رہ گئی۔ ہاتھ کی دو انگلیاں اٹھا کر اس نے اشارہ کیا کہ برلن جانے والے جہاز میں صرف دوسیٹیں خالی ہیں۔ اپنے اور نواب سلیم کے لیے حکمت یار نے دو ٹکٹوں کی ادائیگی کی اور برلن روانہ ہوگئے۔
بعد کے برسوں میں یہ سفر ان کے لیے ایک بڑا اثاثہ بنا۔ نجم الدین اربکان کے حامیوں اور دوسرے ترکوں نے ان کا والہانہ خیر مقدم کیا ۔ شہر کے ایک بڑے ہال میں یہ ان کی بہترین تقاریر میں سے ایک تھی۔ دکھا ہوا دل اور اظہار خیال کی بے تاب تمنا۔ وہ ایک اچھا مقرر ہے مگر اس روز تو افغان لیڈر نے ایسی فصاحت اور ایسے ولولے کا مظاہرہ کیا کہ باید وشاید۔ ترکوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں حزب اسلامی افغانستان کا ممبر بنایا جائے۔ اسے کیا اعتراض ہوتا اور جرمن حکومت کوکیا۔ دنیا بھر کی غیر اشتراکی اقوام حتیٰ کہ عوامی جمہوریہ چین بھی افغان عوام کی جدوجہد آزادی کے حامی تھے۔ سوویت یونین کی طرف سے اپناآدھا حصہ ہڑپ کر نے والے جرمن تو اور بھی زیادہ۔ وفاکیش اور منظم ترکوں نے آئندہ ایک عشرے تک حکمت یار کی مالی امداد کا سلسلہ جاری رکھا‘تاآنکہ حالات بدل گئے۔ پھر وہ وقت آیا جب نائن الیون کا المناک واقعہ رونما ہوا اور دنیا یکسر تبدیل ہو گئی۔ افغان لیڈراب دہشت گرد قرار پائے، کبھی جن کے بارے میں صدرریگن نے کہا تھا۔''Moral equals of our forefathers‘‘ آزاد امریکہ کی بنیاد رکھنے والے ہمارے اجداد کے اخلاقی ہمسر۔ زمانے کی رو بدلتی ہے تو اشراف ادنیٰ اور ادنیٰ اشراف ہو جاتے ہیں۔
امریکیوں نے جنرل محمد ضیاء الحق کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو اسرائیل سے مدد مانگی گئی۔ پاکستانی فوج کے ایک سابق پائلٹ کو انہوں نے ہموار کیا، اسے وہ تل ابیب لے گئے۔ ایف15طیارے پر اسے تربیت دی گئی۔ جنرل محمد ضیاء الحق سے صیہونیوں کی ناراضی کے اسباب الگ تھے۔ 1983ء میں ان کے ہاتھوں ایٹمی پروگرام کی تکمیل۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس پروگرام کی بنیاد ضرور رکھی مگر اس کے معمار جنرل ضیاء الحق اور غلام اسحاق خاں تھے۔ دو بار بھارتیوں کی مدد سے انہوں نے کہوٹہ پر حملے کا منصوبہ بنایا۔ دونوں بار آئی ایس آئی نے سراغ لگا لیا۔ دونوں بار امریکی سفارت خانے میں ہمیشہ موجود رہنے والے ایک اسرائیلی نمائندے کے توسط سے تل ابیب کو پیغام پہنچا دیا گیا۔ حملے کا جواب دیا جائے گا اور نتائج کا ذمہ دار اسرائیل ہوگا۔
اسرائیلی جاسوس کو زہریلی گیس کی ایک ڈبیا دی گئی‘ جو اسے جنرل ضیاء الحق کی گاڑی میں نصب کرنا تھی۔ ایسا وہ فنکار تھا کہ اس نے فوج کے کچھ افسروں سے روابط قائم کئے اور آئی ایس آئی کے صدر دفتر میں آتا جاتا رہا۔ شبہ گزرا تو میجر عامر نے اس کا پیچھا کیا۔ ایک علیحدگی پسند پختون کا بہروپ بھر کر۔ جاسوس گرفتار ہوا‘ مقدمہ چلا اور وہ اڈیالہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ ایسا پراعتماد اور ایسا ہنرمند کہ جیل سے آنجناب نے اس اخبار نویس کو خط لکھا‘ جب اسے اندازہ ہوا کہ میجر سے میرے مراسم ہیں۔ معاملے کے اور چھورسے آگاہ نہ ہوتا توکیا بعید کہ اسے ملنے جاتا۔ پھر کون جانتا ہے کہ کیا ہوتا۔
جنرل محمد ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کو ہٹا دینے کے بعد‘ غلام اسحاق خاں اور جنرل حمید گل امریکیوں کا ہدف تھے۔ باقی تاریخ ہے۔ 
گلبدین حکمت یار کی روداد حیات پر غور کرنے کے بعد کبھی کبھی میں حیران ہوتا ہوں کہ وہ زندہ کیسے رہا۔ ایک آدھ نہیں کتنی ہی طاقتیں اس کے درپے تھیں۔ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکّھے۔
ہر آدمی کا ایک کردار ہے اور وہ پہلے سے لکھ دیا گیا ہے۔ گلبدین حکمت یار کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی حیران کن ہیں۔ وہ ضدی اور شکی واقع ہوا ہے مگر اپنے مقاصد پر سمجھوتہ نہ کرنے والا ایک سحر انگیز آدمی۔ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہوتی کہ دایاں ہاتھ کیا کرتا ہے۔ تنظیم سازی کی غیر معمولی صلاحیت اور قائل کرنے کی بے پناہ استعداد۔ سخت جان ایسا کہ ضرورت پڑے تو ایک دن میں پندرہ پندرہ میل پیدل چلا کرتا۔ پشتو اس کی زبان ہے‘ فارسیِ پر دسترس‘ اُردو اور عربی روانی سے بول سکتا ہے۔ ازبکوں کی زبان بھی۔ بدترین حالات میں اس نے قرآن حفظ کیا۔ طالبان کے مقابلے میں وہ ایک جدید آدمی ہے اور انگریزی زبان کے خم و پیچ سے واقف ۔ ایسے سخت جان ایسے فطین آدمی کو اللہ نے کیا اس لیے پیدا کیا کہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جائے؟ دل نہیں مانتا۔ (ختم شد)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں