نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب سےچیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی ملاقات
  • بریکنگ :- باہمی دلچسپی کےامور،سیاسی صورتحال،بین الصوبائی ہم آہنگی کےفروغ پرگفتگو
  • بریکنگ :- صادق سنجرانی نےعثمان بزدارکےہرضلع کی یکساں ترقی کےویژن کوسراہا
  • بریکنگ :- چیئرمین سینیٹ نےبلوچستان کی ترقی کیلئےپنجاب حکومت کےتعاون پرشکریہ اداکیا
  • بریکنگ :- ہمارافرض ہےاتفاق کی قوت سےپاکستان کوآگےلےکرجائیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- بدقسمتی سےاپوزیشن نےہمیشہ افراتفری کی سیاست کی،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کاتحفظ چاہتی ہیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- یہ ترقی کےسفرکوروکنےکیلئےمنفی سیاست کررہےہیں،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت ہمیشہ بلوچستان کی مددمیں آگےرہی ہے،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- صوبوں کےدرمیان ہم آہنگی کےفروغ کیلئےاقدامات کیے،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- بلوچستان کےساتھ ہرطرح کاتعاون جاری رکھیں گے،عثمان بزدار
  • بریکنگ :- عثمان بزدارنےبین الصوبائی ہم آہنگی کیلئےٹھوس اقدامات کیے،صادق سنجرانی
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

شیخ صاحب خدا خدا کیجیے

آخری ہدف اگر اس کے سوا کچھ نہیں کہ شریف خاندان کو بحیرئہ عرب میں ڈبو دیا جائے ۔مقصد اگر ملک کی تعمیرِ نو نہیں تو قوم کیوں لڑے مرے ، کیوں قربانی دے ؟پرویز رشیدوں کی جگہ شیخ رشیدوں کو اپنی گردن پر سوار کرنے کے لیے ؟
موصوف جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں ۔ وہ شاد ہیں اور ان کے ناظرین بھی ۔ جس روز کسی اینکر کو اچھا موضوع نہیں سوجھتا یا ڈھنگ کے مہمان میسر نہیں آتے ، ڈگڈگی سمیت شیخ صاحب کو مدعو کر لیتاہے ۔ پھر اللہ دے اور بندہ لے ۔ 
اپنے حکمرانوں سے خلقِ خد اکو نفرت ہوتی ہے ۔ ان حکمرانوں سے کیوں نہ ہوگی ، جن کے مبارک عہد میں اجڑے ہوئے سکول مزید اجڑ گئے ، بگڑے ہوئے ہسپتال مزید بگڑ گئے ۔ پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور دو کروڑ سے زیادہ بچّے سکول نہیں جاتے ۔ 
شیخ صاحب کے بازاری جملوں سے دل بہل جاتا ہے ۔ حکمرانوں کی بے حسی کا اذیت پہنچانے والا کوئی تازہ واقعہ جب رونما ہو تو اور بھی ۔ کل شب آنجناب اعلان فرما رہے تھے : بس روپیہ نہیں ہے میرے پاس۔ اگر ہوتا تو سب سیاستدانوں کا کام تمام کر دیتا۔ پنجابی اصطلاح استعمال کی'' میں ان کے توے مودے کر دیتا‘‘ سمجھے آپ؟ کھانا پکانے کے توے الٹا دیتا ۔ ان کے گھروں میں گھس جاتا۔ ان کی تذلیل کرتا۔ انہیں روند ڈالتا۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ 
کیا پروگرام کا میزبان قصور وار ٹھہرایا جائے گا؟ جی نہیں ، وہی ریٹنگ کا مسئلہ مگر ایک اور بھی۔25برس سے اس شخص کو میں جانتا ہوں ۔ بھلا آدمی ہے ۔ پھر یہ کہ ہر آزاد اخبار نویس حکومت کا ناقد ہی ہوا کرتاہے ، اس کا ہم رکاب کبھی نہیں ۔راز کی بات یہ ہے کہ بہت دن سے نون لیگ کامیڈیا گروپ اس کے پیچھے پڑا ہے ۔میڈیا گروپ کی داستان بہت سنسنی خیز ہے اور بہت سے پہلو رکھتی ہے۔کہانی ایک دن پوری کی پوری بیان کر دی جائے گی۔ کتنے کروڑ ہر ماہ اس پہ صرف ہوتے اور کہاں سے آتے ہیں ۔ کون کون سے دانشور وعدہ معاف گواہ بن کر اپنے ساتھیوں کے مخبر ہو گئے ۔ کون ، کس کے ہاں کس وقت حاضری دیتاہے ۔ کون کون سے اخبار نویس ہدف ہیں ۔ کون سی توقعات پرویز رشید سے پوری نہ ہو سکیں ۔ اس کی تشکیل کے بعد کس حال سے وہ گزرے اور کس جتن سے اپنی نوکری بچائی، جب ایک دن وزیرِ اعظم ان پر برہم تھے او ربرطرفی کا فیصلہ فرما چکے تھے ۔ یہ کہانی پھر کبھی، موضوع آج دوسرا ہے ۔ 
شیخ صاحب کی بہت سی باتیں درست بھی ہوتی ہیں ۔ گھپلا یہ ہے کہ کمال چابک دستی سے خود کو حکومت کا سب سے بڑا حریف بنا کر پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کاوش بے مقصد نہیں۔ فی الحال نظر انداز کر دیجیے کہ کبھی دوسروں سے بہت بڑھ کر وہ نواز شریف کے قصیدہ خواں تھے ۔ فرمایا تھا ، جن داموں حریف انہیں خریدنا چاہتے ہیں ، اس قیمت پر تو میاں صاحب کی تصویر بیچنا بھی وہ گوارا نہ کریں ۔
نوبرس ہوتے ہیں ۔ امریکی ،برطانوی منصوبہ بندی پہ جنرل مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا اتفاقِ رائے ہوا۔ نون لیگ کو اقتدار کے کھیل سے باہر رکھا جاتا۔ قاف لیگ کی قیادت کرتے ہوئے صدر مشرف ایوانِ صدر میں براجمان رہتے اور محترمہ وزیرِ اعظم ہو جاتیں ۔ میاں صاحب جدّہ میں تھے اورعربوں کی قید میں ، جی ہاں قید میں ۔ کسی خاص کھانے کے لیے الائو سلگانے کی خاطر لکڑیاں منگوائیں تو حفاظت پر مامور عملے نے روک دیں۔ ان کی اجازت کے بغیر پاکستان پہنچے تو اغوا کر کے لے جائے گئے ۔ پاکستانی میڈیا نے واویلا کیا تو سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ پرنس مقرن نے اسلام آباد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو وہ تسلیم نہیں کرتے ۔ دس برس تک سیاست سے دور رہنے کا تحریری وعدہ ہے ۔ ایک شاہکار جملہ قبائلی معاشرے کے شہزادے نے سپریم کورٹ کی دہائی دینے والے صحافیوں سے یہ کہا تھا'' سمجھوتہ پہلے ہوا تھا یاسپریم کورٹ کافیصلہ؟‘‘ مطلب یہ کہ عدالت کوواقعہ رونما ہونے سے پہلے حکم صادر کرنا چاہیے تھا۔ 
گھمنڈ کی ماری برطانوی اور امریکی دانش جن عوامل کا اندازہ نہ کر سکی تھی ، وہ بروئے کار آئے۔ بھٹو مخالف عرب قبائلی سردار بھنا کر گھروں سے باہر نکلے او ر شاہ عبد اللہ کے دروازے پر دستک دی ۔ ادھر پاکستان میں آزاد اخبار نویسوں نے کہرام برپا کر دیا ۔ کس طرح کے یہ الیکشن ہیں کہ پیپلز پارٹی تو شریک ہوگی مگر نون لیگ نہیں ۔ میاں صاحب کے اخبار نویس ان دنوں لجاجت کی تصویر تھے ۔ ہاتھ جوڑ جوڑ کر بادشاہوں سے رحم کی التجا کرتے ۔ بے طرف اخبار نویسوں نے التجا نہیں ، احتجاج کیا۔ دبائو اس قدر بڑھا کہ گھٹنوں کے بل جھکی نون لیگ کی کمر سیدھی ہوگئی۔ سعودی سفارت خانے کی تقریب کابائیکاٹ کرنا پڑا۔ یہ فیصلہ کن موڑ تھا۔ 
سعودی سفیر نے ریاض کو لکھا : ہماری پچاس برس کی کمائی برباد ہو گئی ۔ فرض کیجیے ، آج مجھے اغوا کر لیا جائے تو ہمدردکوئی نہ ہوگا۔ جنرل حمید گل مرحوم اور بعض دوسرے خیر خواہوں کے ساتھ رازداری سے مشورہ کیا گیا ۔ بساط الٹ گئی ۔ 
شاہ عبد اللہ نے جنرل پرویز مشرف سے بات کی۔ نہ صرف میاں صاحب کو واپسی کی اجازت ملی بلکہ ماڈل ٹائون میں ٹیکس کی عدم ادائیگی پر ضبط کیے گئے عالیشان گھر بھی لوٹا دئیے گئے ۔ شاہ نے اپنا طیارہ شریف خاندان کو دیا ۔ دو عدد بلٹ پروف گاڑیاں بھی عطا کیں ۔ 
اس شان سے نواز شریف واپس آئے کہ راستے کی ہر دیوار گر چکی تھی ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اگر قتل نہ ہو جاتیں تو دنیا کی کوئی طاقت نواز شریف کو وزیرِ اعظم بننے سے روک نہ سکتی ؛بشرطیکہ بھاگ جانے والے ساتھیوں کو واپس لینے پر آمادہ ہو جاتے ۔ 
واپس آنے کے لیے یہ لوگ بے تاب تھے مگر میاں صاحب کی ہمالیہ ایسی انادیوار تھی ۔ بالآخر سبھی کو واپس لیا ۔ تب مخمصے کا شکار تھے ۔ ہر قیمت پر اقتدار ، ہر طرح سے دولت کا حصول مگر ایک ہیرو کی سی شہرت بھی ۔ آخر کار انہوں نے وہی کیا، سبھی کو جس کاندازہ تھا۔ جب اس خوف نے آلیا کہ عمران خان ان کے ''توے مودے ‘‘کر دے گا۔ 
انہی دنوں کپتان نے مجھ سے بیان کیا: شیخ صاحب نے نواز شریف کو پیغام بھیجا ہے کہ انہیں معاف کر دیا جائے ۔ پارٹی میں واپسی کے وہ آرزومند ہیں ۔ کہلا بھیجا ہے کہ ان کی درخواست اگر مسترد کر دی گئی تو ٹھیک اس وقت ،اپنے سرمیں گولی مار کر خود کشی کرلوں گا ، جب میاں صاحب طیارے سے باہر آرہے ہوں گے ۔ 
اس کہانی میں صداقت کتنی ہے ، معلوم نہیں ۔ شیخ صاحب جانتے ہیں ، عمران خان یا وہ لوگ جنہوں نے کپتان کو قائل کیاتھا۔ یہ البتہ معلوم ہے کہ کچھ دن شیخ صاحب نواز شریف کے باب میں احتیاطاً خاموش رہے ۔ ممکن ہے کوئی دوسرا سبب ہو ۔
شیخ صاحب کا اختلاف ذاتی ہے ۔ ورنہ دل و جان سے وہ نواز شریف کے شریکِ کار تھے اور اس پرویز مشرف کے بھی ،جو نواز شریف کو اپنا سب سے بڑا دشمن کہا کرتا۔ اس وقت بھی ، جب لال مسجد پہ وہ آگ برسا رہا تھا ۔ 
واضح ہے اور بالکل واضح ہے ،جس انداز کے احتجاج پر شیخ صاحب مصر ہیں ، اس کا انجام 2014ء سے مختلف نہ ہوگا ۔ لشکر وہی ، حالات وہی ، الزامات وہی ، عوام وہی ، نتیجہ مختلف کیسے ہوگا؟آئن سٹائن نے کہا تھا: پاگل پن یہ ہے کہ ایک تجربہ بار باردہراتے ہوئے مختلف نتائج کی امید رکھی جائے ۔ جذبۂ انتقام سے مغلوب شیخ صاحب کو یاد ہی نہیں کہ سرے محل کا مالک مے فئیر کے مکین سے صرف دکھاوے کی جنگ لڑ سکتاہے ۔سڑکوں پر پیپلز پارٹی کے لوگ نہیں آئیں گے ۔آئے تو معدودے چند، انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہونے کے لیے ۔
آخری ہدف اگر اس کے سوا کچھ نہیں کہ شریف خاندان کو بحیرئہ عرب میں ڈبو دیا جائے ۔مقصد اگر ملک کی تعمیرِ نو نہیں تو قوم کیوں لڑے مرے ، کیوں قربانی دے ؟پرویز رشیدوں کی جگہ شیخ رشیدوں کو اپنی گردن پر سوار کرنے کے لیے ؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں