نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گزشتہ 24گھنٹےمیں کوروناسے 19 اموات رپورٹ،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- کراچی:24 گھنٹےمیں مزید 630کیسزرپورٹ ہوئے،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- کوروناسےاموات کی مجموعی تعداد 7289ہوگئی،وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- آج مزید 514مریض صحتیاب ہوئےہیں،وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

کہاں راجہ بھوج‘ کہاں گنگوا تیلی

کیا محمد نواز شریف کے مداح، ان کے کارنامے بیان کرنا پسند کریں گے کہ کل اگر وہ پاک فوج کی تشکیل نو کرنا چاہیں تو قوم ان کی پشت پناہ ہو؟
پاکستانی فوج میں دو طرح کے افسر ہوتے ہیں۔ بیشتر وہ جو دیہات سے آتے ہیں۔ ان میں سے اکثر پوٹھوہار اور پشتون پٹی سے؛ اگرچہ دوسرے بھی ہیں... اور اب جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طے کردہ ترجیح کے مطابق بلوچستان کا حصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسرے نسبتاً بہت کم انگریزی سکولوں اور کالجوں کے تعلیم یافتہ، رفتہ رفتہ جن کا تناسب کم ہوا ہے کہ عسکری زندگی شدید جسمانی مشقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان جملے بازی ہوا کرتی ہے۔ ایک گنوار پن کا طعنہ دیتا ہے تو دوسرا تصنع کا۔ راولپنڈی میں مقیم ایک پشتون اور لاہور کے ایک انگریزی تعلیم یافتہ افسر میں دوستی اور رفاقت کے باوصف طنز کا یہ سلسلہ جاری رہتا۔
1965ء کے معرکے میں، بھارتی فوج یلغار کرتی ہوئی آئی۔ اس کے کمانڈر نے اعلان کیا کہ شام کو ان کے افسر لاہور کے جم خانہ میں جام لنڈھائیںگے۔ پاکستانی فوج کے دلاوروں نے اپنی خیرہ کن شجاعت سے ان کا منہ پھیر دیا۔ قوم متحد تھی اور سیسہ پلائی دیوار کی طرح ان کی پشت پر کھڑی تھی۔ تیسرے یا چوتھے دن، طوفان کسی قدر تھم چکا تھا۔ دونوں طرف کے مورچوں میں جوان اور افسر اب زیادہ منصوبہ بندی کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ دونوں افسر اس محاذ پر اکٹھے تھے۔ دن کے اجالے میں دوسری طرف سے گولہ باری کا سلسلہ شروع ہوا۔ پشتون افسر یہ اندازہ لگانے کے لیے مورچے سے نکلا کہ بھارتی توپ خانہ کس مقام سے حملہ آور ہے۔ مورچے کے کنارے، دونوں کی مڈبھیڑ ہوئی۔ طیش تو پٹھان کو ہندوئوں پر تھا مگر نکلا ''انگریز‘‘ افسر پر۔ بولا: ''ابی انگریزی لکّھو اور ان کی طرف پینکو‘‘۔
ترکی میں فوج کے ایک چھوٹے سے حصے نے طیب اردوان کے خلاف بغاوت کی کوشش کی مگر وہ بچ نکلے۔ قوم سے مزاحمت کی اپیل کرنے کے بعد وہ دارالحکومت انقرہ کی طرف روانہ ہوئے، عہد قدیم سے جو ترکوں کو عزیز چلا آتا ہے اور جس کے نواح میں عثمانی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کا تختہ الٹا تو اسیری کے چند ماہ گزارنے کے بعد وہ جدہ بھاگ نکلے۔ امریکیوں اور عربوں کے تعاون سے۔ دس سال تک سیاست سے الگ رہنے کا پیمان لکھ کر۔ معاہدہ لکھا جا چکا اور دستخط ثبت ہو گئے تو میاں صاحب کے وکیل اعجاز بٹالوی کو دکھایا گیا۔ بے بسی اور رنج کے ساتھ انہوں نے کہا:اب میں کیا کر سکتا ہوں۔ اپنے ہاتھ کاٹ کر آپ نے ان کے حوالے کر دیے۔ بعد ازاں مجید نظامی مرحوم نے میاں صاحب سے گلہ کیا تو انہوں نے جواب دیا: میں جیل نہیں کاٹ سکتا۔ 
جیل بھی کیسی؟ ابتدائی ایام کی سخت گیری کے بعد، ایک قلعے میں پرل کانٹی نینٹل کے کھانے مہیا کیے جاتے۔ میاں صاحب کو مگر بھولے بھٹکے کسی مچھر سے وحشت ہوتی اور خواب میں بچھّو نظر آتے۔ یہ وہ ملک تھا، جس میں نواب زادہ نصراللہ خان، مولانا مودودی، عبدالستار خان نیازی نے دس دس سال کی جیلیں کاٹی تھیں۔ تاخیر سے سیاست میں آنے والے اصغر خان، جنرل محمد ضیاء الحق کے عہد میں پانچ سال تک ایبٹ آباد کے گھر میں نظر بند رہے تھے۔ بھٹو عہد کی اسیری اس کے سوا تھی، جب مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد اور مولانا شاہ احمد نورانی ایک ساتھ کبھی جیلوں میں سڑ رہے ہوتے اور مذاکرات شروع ہوتے توکبھی سرکاری ریسٹ ہائوسوں میں۔ ایسے ہی ایک موقع پر اصغر خان نے یہ کہا: اسیری میں سہولتوں کی دستیابی تکلیف پہنچاتی ہے کہ آسائش کی آرزو جاگ اٹھتی ہے۔ جیل اس سے بہتر ہے کہ ذہنی تکلیف جھیلنے کے لیے ذہنی طور پر آدمی تیار ہوتا ہے۔
طاقت اصل میں ایک نفسیاتی چیز ہے اور کمزوری بھی۔ حالات کی سنگینی اور دشواری آدمی کو پسپا نہیں کرتی بلکہ خود اس کی اپنی داخلی کیفیت۔ باچا خان‘ عبدالولی خان اور اس کے قبیلے کا یہ ناچیز کبھی معترف نہیں رہا مگر زندانوں میں جتنے دن انہوں نے گزارے، صبر اور استقامت کے ساتھ۔ چوہدری ظہور الٰہی مرحوم نے بھٹو کے عہد میں کئی برس اسیری میں بتا دیے اور وہ بھی بلوچستان کے دور دراز یا کراچی میں۔کبھی انہیں روتے پیٹتے نہ دیکھا گیا۔
حنیف رامے کو لاہور قلعے کے تاریک تہہ خانے میں رکھا گیا تھا۔ رہائی کے بعد میں ان سے ملنے گیا تو صحن میں گھاس ہری اور ہوا دلجو تھی۔ ملازم سے بولے: سخت سیٹ اور پشت والی کرسی لائو۔ پھر میری طرف مڑے اور کہا: آسودگی کی اب تمنا ہی نہیں۔ اخبار نویس نے اکسانے کی کوشش کی کہ قلعے کے تاریک ایّام کی تصویر کشی کریں۔ وہ ایک فصیح آدمی تھے۔ نثر نگار، خطیب اور مصور۔ میرا خیال تھا کہ بولیں گے تو سماں باندھ دیںگے۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ تب اس کی حکمت میں سمجھ نہ سکا۔ بہت بعد میں احساس اور اندازہ ہوا کہ خود ترحّمی سے انہوں نے بچنے کی کوشش کی۔ ایک بار اس میں آدمی مبتلا ہو جائے تو ساری زندگی روتے دھوتے گزرتی ہے۔
میاں محمد نواز شریف کا مسئلہ یہی ہے۔ آرزو ان کی یہ ہے کہ قوم ان کے ساتھ لاڈلے بچے کا سا سلوک روا رکھے۔ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے، قوم خواہ برباد ہوتی رہے۔ خزانے سے موٹروے، میٹرو یا اورنج ٹرین بنائیں تو قوم ان کی احسان مند ہو، شکر گزار ہو کہ کچھ روپیہ ان پر بھی صرف کر دیا۔ ہسپتال برباد، سکول تباہ، نچلی عدالتیں ناکارہ، پٹوار خانے ذبح خانے مگر میاں صاحب کے لیے ایوانِ وزیر اعظم کے صرف ایک غسل خانے پر اڑھائی کروڑ روپے صرف ہوںگے۔ جی ہاں، اڑھائی کروڑ!
جنرل محمد ضیاء الحق کی سیاسی اور صحافتی بیوائیں پرسوں سے طیب اردوان کے ساتھ، پاکستانی وزیر اعظم کا موازنہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں... کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگوا تیلی!
طیب اردوان کے بارہ سالہ اقتدار نے ترکی کو کیا دیا؟ قومی آمدن میں 64 فیصد اضافہ۔ اردوان نے اقتدار سنبھالا تو عالمی مالیاتی فنڈ کا قرضہ 23.5 ارب ڈالر تھا۔ 2012ء میں صرف 900ملین رہ گیا۔ وہ بھی واپس کر دیا گیا اور انہوں نے اعلان کیا کہ آئی ایم ایف چاہے تو ترکی سے قرض لے سکتا ہے۔ 2002ء میں زرمبادلہ کے ذخائر 26.5 بلین ڈالر تھے۔ 2011ء میں 92 بلین ڈالر ہو چکے تھے۔ بارہ برس میں ہوائی اڈوں کی تعداد 26 سے 50 ہو گئی۔ یاد رہے کہ صرف سیاحت سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن 20 ارب ڈالر ہے۔ امسال پاکستان میں 27 بلین ڈالر کے تمام تر ٹیکس جمع ہوئے، جنہیں زاہد و متقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے31 بلین ڈالر بنا کر پیش کیا۔ 2002ء سے 2011ء کے درمیان ترکی میں 13500کلو میٹر طویل سڑکیں بنائی گئیں۔ نواز شریف نے 438 کلو میٹر طویل ایک موٹروے تعمیر کی تھی اور آج تک اس کا احسان جتلاتے ہیں، دراںحالیکہ یہ صرف 270 کلو میٹر ہونا چاہیے تھی۔ 2009ء میں ترکی میں تیز رفتار ریل گاڑیاں چلنے لگیں۔ 1076کلو میٹر لمبی نئی ریلوے لائنیں بچھائی گئیں۔ 5449 کلو میٹر کی مرمت کی گئی۔ نواز شریف کی اوّلین حکومت میں ریل کی بہت سی پٹڑیاں اکھاڑ کر بیچ دی گئیں۔ اردوان کے عہد میں تعلیمی بجٹ 7.5 ارب لیرا سے بڑھ کر 34 ارب لیرا ہو گیا، تقریباً 12ارب ڈالر۔ 2002ء میں یونیورسٹیوں کی تعداد 98 تھی جو اکتوبر 2012ء میں 186 ہو گئی۔ بیتے ہوئے چند برسوں کے دوران پاک فوج بلوچستان کو مرکزی دھارے کے اندر واپس لانے میں کامیاب رہی۔ 2009ء میں سوات میں کیا جانے والا آپریشن 3 ماہ میں مکمل کر لیا گیا، جس پر عملاً طالبان کی حکومت تھی؛ اگرچہ بظاہر متحدہ مجلس کی۔ جنرل راحیل شریف کے عہد میں وزیرستان میں دہشت گردوں کی آخری پناہ گاہیں بھی ختم کر دی گئیں۔ کراچی میں دہشت گردی میں 70 فیصد کمی آئی۔ ٹارگٹ کلنگ میں 80 فیصد،اغوا برائے تاوان میں 85فیصد۔ 
کیا محمد نواز شریف کے مداح، ان کے کارنامے بیان کرنا پسند کریں گے کہ کل اگر وہ پاک فوج کی تشکیل نو کرنا چاہیں تو قوم ان کی پشت پناہ ہو؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں