نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش
  • بریکنگ :- نمائش چورنگی،ایئرپورٹ اورفیڈرل بی ایریاکےعلاقوں میں بارش
  • بریکنگ :- کراچی:آئی آئی چندریگرروڈاورکھارادرمیں بارش
  • بریکنگ :- کراچی:سائٹ ایریا اور ایم ٹی خان روڈ پر بارش
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

فائدہ اس زیان میں کچھ ہے ؟

ماحول پہلے ہی آلودہ ہے۔ خلق آزردہ اور حکمران طبقات سے نالاں۔ اس پر یہ تیور؟ ؎
امید کا آنگن فرسودہ، وعدوں کی چھتیں کمزور بہت
اس پر ابر کے موسم میں برسی ہے گھٹا گھنگھور بہت
جاوید ہاشمی کی بعض باتیں درست ہیں۔ جس چیز کا انہیں ادراک نہ ہو سکا وہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک موزوں وقت اور موزوں انداز کا انتخاب نہ کیا۔ اخبارات میں شہ سرخیاں ضرورچھپیں ۔ مگر آزاد اخبار نویسوں نے ان کا دفاع کرنے سے انکار کر دیا ؎
دردؔ تو جو کرے ہے جی کا زیاں
فائدہ اس زیان میں کچھ ہے؟
ان کے لیے نون لیگ میدان میں نہ اتری۔ تحریک انصاف کے ''دلاوروں‘‘ نے مورچہ قائم کر لیا مگر سیاستدان وہ شخص ہوتا ہے‘ حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے‘ حکمت کے ساتھ جو اپنا مقدمہ پیش کرے۔ الٹا اگر تائید کھو دے تو اس نے کیا حاصل کیا؟
وقت سے زیادہ‘ سیاست میں کسی چیز کی اہمیت نہیں۔ اگر کوئی حالات کے تیور نہیں پہچان سکتا تو سیاست کا پہلا سبق ہی بھلا دیا۔ آدمی غلطی کرتا ہے۔ یہ اس کی فطرت اور سرشت میں ہے۔ اسے دہرانے کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ جذبات کی رو میں ہے۔ اس طرح خود کو اس نے حالات کے سپرد کر دیا ہے۔
دھرنے کی مخالفت کرنے والے وہ واحد آدمی نہ تھے۔ دوسروں نے بھی یہ جسارت کی۔ بعض نے بہت بڑھ کر اور ان سے پہلے۔ ان میں یہ ناچیز بھی شامل تھا۔ عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان کیا تو عرض کیا تھا کہ یہ اقدام ان کی سیاست کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔ درحقیقت اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ استعمال کئے تھے۔ رات گئے تک‘ جن کی گونج سنائی دیتی رہی۔
پارٹیوں سے لیڈر الگ ہو جاتے ہیں۔ اس پر مطعون کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ یہ فیصلہ مگر انہوں نے اس انداز میں کیا کہ ان کے بہترین دوست بھی ان کا دفاع کرنے پر آمادہ نہ ہو سکے۔
اس وقت بھی عرض کیا تھا کہ طے شدہ پروگرام کے مطابق علاج کرانے‘ اگر وہ چین چلے جاتے ۔ عمران خان کے نام ایک خط چھوڑ جاتے کہ ان سے وہ اتفاق نہیں کرتے۔ خاموشی اختیار کر لیتے اور ایک مناسب وقفے کے بعد سوچ سمجھ کر اظہار خیال کرتے۔ تحریک انصاف کچھ ہی کہا کرتی، غیر جانبدار لوگوں میں سے کچھ اگر ان سے اتفاق نہ بھی کرتے تو ان کا احترام ملحوظ رکھتے۔ ایسے تصادم میں جب دو فریق‘ ایک دوسرے کی تباہی کے درپے ہوں‘ اہمیت غیر جانبداروں ہی کی ہوتی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وہ یہ کہہ چکے تھے کہ نواز شریف ان کے لیڈر تھے اور ہمیشہ ان کے لیڈر رہیں گے۔ سبھی کو اس پر حیرت تھی۔ تحریک انصاف کے کارکن حالانکہ کچھ زیادہ نہ بگڑے۔ یہ سوال البتہ کیا جاتا رہا کہ جب میاں صاحب کو حتمی طور پر وہ الوداع کہہ چکے تو اس خراج تحسین کے معانی کیا ہیں؟ لیڈر تو وہ ہوتا ہے ‘ جس کی پیروی کی جائے۔ وہ تو ان کے سب سے بڑے حریف عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے۔ پھر میاں محمد نواز شریف ان کے رہنما کیونکر تھے۔ ایوان میں موجودگی کے باوجود‘ میاں صاحب نے ان کے اظہار محبت کا خیر مقدم کیا اور نہ ان کے کسی قریبی ساتھی نے۔ کیا اس سے سبق نہ سیکھنا چاہیے تھا۔
ایک بار پھر بڑی غلطی۔ جنرل طارق خان کا نام لینے کی انہیں ضرورت کیا تھی؟ جنرل معین الدین حیدر نے اسے گڑے مردے اکھاڑنے کا عمل قرار دیا۔ ایک اعتبار سے یہ پوری طرح درست تھا۔ جب کچھ خاص موضوعات نے ماحول کو گرما رکھا ہو تو قومی سیاست کو انہی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ موضوع اس وقت پاناما لیکس ہے۔ یہ کہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں۔ عدالت عظمیٰ کو اس پر فیصلہ صادر کرنا ہے۔ ملک ایک تلخ بحث میں الجھا ہے۔ الزامات اور جوابی الزامات کی یلغار کا ایک اذیت ناک سلسلہ جاری ہے۔ احتیاط کی تمام حدود بالائے طاق ہیں۔ ایسے میں جاوید صاحب کی طرف سے ادبدا کر عمران خان پر حملے سے اس کے سوا کیا تاثر پیدا ہوتا جو ہوا؟
جواب میں جاوید ہاشمی پر الزامات کی بوچھاڑ ہو گئی۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے ان کی وابستگی اور پھر جنرل محمد ضیاء الحق کی کابینہ میں اچانک اور غیر متوقع شرکت کو ناقابل معافی جرم بنا کر پیش کیا گیا۔ ایسے ذمہ دار اخبار نویسوں کی طرف سے‘ جن کی بات سنی جاتی ہے۔ سرد و گرم چشیدہ لیڈر کو اندازہ ہونا چاہیے کہ حالیہ برسوں نے ان کی کیسی تصویر اجاگر کر دی ہے۔ یار لوگ بھول ہی گئے کہ جاوید ہاشمی کابینہ کا حصہ بنے تو اسلامی جمعیت طلبہ سے الگ ہوئے ایک زمانہ گزر چکا تھا۔ عملاً طلبہ تنظیم کا حصہ وہ تھے ہی نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں اس کی طرف سے جنرل سیکرٹری اور پھر صدارت کے امیدوار تھے۔ وہ ایک اور جاوید ہاشمی تھا۔ ایک ایسا بے باک اور نڈر نوجوان‘ اس عہد میں‘ چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے‘ ایئر مارشل اصغر خان کے سوا‘ کسی سے جس کا موازنہ شاید نہ کیا جا سکتا۔ تب وہ تہوّر اور طرح داری کا ایک استعارہ تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے عہد میں اسی بانکپن کے ساتھ وہ گرفتار کیا گیا تو عرض کیا تھا کہ وہ ڈٹا رہے گا۔ ''کتنی ہی بار اس نے دیوار کو در بنا دیا ہے‘‘ یاد ہے کہ اس پر ہاشمی نے کہا تھا، جو کچھ میرے بارے میں تم نے لکھ ڈالا ہے‘ اس میں کبھی کوئی اضافہ نہ کر سکے گا۔ اب میں کیا لکھوں‘ کس طرح اپنے دوست کا مقدمہ لڑوں؟ جس عدالتی مارشل لا کی بات انہوں نے کی ہے، اس کی تو عاصمہ جہانگیر تک نے تردید کر دی۔ قصوروار کوئی اور تھا ، حضور کوئی اور!
کتنی بڑی غلطی ہے۔ تب عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے جنرل طارق خان کا نام ضرور لیا ہو گا‘ اب ہاشمی کو نہ لینا چاہیے تھا۔ تاثر یہ پیدا ہوا کہ وہ انہیں قصوروار ٹھیرا رہے ہیں۔ بھنّا کر جنرل نے انہیں جسمانی و ذہنی معذوربلکہ متروک قرار دیا۔ یہی طرزِعمل عمران خان نے اختیار کیا۔ بہت بڑا جھوٹا انہیں کہا۔ اگر جاوید ہاشمی کا طرزِعمل درست نہ تھا تو کیا ان دونوں معززین نے معقول انداز اختیار کیا؟ عمران خان نے اوّل خاموش رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ارشاد کیا کہ ہر گیند کھیلی نہیں جاتی۔ اس پر وہ قائم رہتے۔ زیادہ سے زیادہ پارٹی کے کسی لیڈر کی طرف سے وضاحتی بیان جاری کر دیا جاتا۔ وہ مگر خاموش کہاں رہتے ہیں۔ اسی طرزِعمل سے مولانا فضل الرحمن کو انہوں نے اپنے برابر کا حریف بنا لیا ہے۔ کیا وہ برابر کے حریف ہیں؟ جواب دینا جنرل کا حق تھا مگر انہوں نے سنگین الزامات لگائے۔ دکھائی دیا کہ وہ مشتعل ہیں۔ 
اختلاف کرنے والے اخبار نویسوں پر جاوید ہاشمی خوب برسے۔ اس وقت جب ناچیز کے بارے میں وہ فرما رہے تھے '' جو منہ میں آتا ہے‘ کہتے جا رہے ہیں‘‘ میں خاموش رہا؟ اور کچھ دیر سب دوسرے بھی۔ ان کی ذات پر بات ہی نہ کی تھی۔ فقط ان کے موقف سے اختلاف کی جرأت کی تھی۔ آخر کار ایک صاحب پھٹ پڑے۔
جاوید ہاشمی ، عمران خان اور جنرل صاحب نے اس سے کیا حاصل کیا؟ بس یہ کہ دامنوں پہ دھبے پڑے۔ کل اسی پہ انہیں ملال ہوگا۔ بعض نے جلتی پہ تیل چھڑکا اور جاوید ہاشمی پر ایسے الزامات عائد کیے جن کا کوئی ثبوت نہیں۔ عمران خان اور جنرل صاحب کو پھر بھی حمایت میسر آئی‘ جاوید ہاشمی کو برائے نام ہی۔ کس سے انہیں تائید کی توقع تھی؟ ؎
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
عمران خان کو کپتان اور جاوید ہاشمی کو باغی کا نام میں نے ہی دیا تھا۔کبھی کبھی اب میں سوچتا ہوں کہ کیا میں نے ٹھیک کیا؟ اگرچہ مجھ سے وہ ناخوش ہیں۔ کچھ زیادہ امید نہیں کہ میرے مشورے پر وہ غور کریں۔ استدعا ان سے یہی ہے کہ فی الحال خاموشی ہی زیبا ہے۔ حالات کے جس بھنور میں ہیں‘ صبر اور حکمت ہی کے ساتھ اس سے وہ چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ برہم‘ بیزار اور مشتعل ہو کر نہیں۔
ماحول پہلے ہی آلودہ ہے۔ خلق آزردہ اور حکمران طبقات سے نالاں۔ اس پر یہ تیور؟ ؎
امید کا آنگن فرسودہ، وعدوں کی چھتیں کمزور بہت
اس پر ابر کے موسم میں برسی ہے گھٹا گھنگھور بہت

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں