نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- دوحہ:سکس ریڈاسنوکرورلڈکپ،پاکستان نےفائنل کیلئےکوالیفائی کرلیا
  • بریکنگ :- سیمی فائنل،پاکستان کےبابرمسیح نےجرمن حریف رچرڈکوہرایا
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

نور کے بدلے خاک؟

نور کے بدلے میں خاک؟ ماالحیاۃ الدنیا الاّ متاع الغرور۔ دنیا کی زندگی ایک فریب کے سوا کیا ہے؟ خود فریبی کے سوا کیا؟
فرمایا: لوگ سوئے پڑے ہیں‘ موت آئی تب جاگیں گے۔
رات کے دو بجے تھے۔ چار گھنٹے جاری رہنے والی بریفنگ ابھی ابھی تمام ہوئی تھی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی شب کے دوسرے اور تیسرے پہر‘ زیادہ بیدار ہوتے ہیں۔ نوٹس لکھتے نہیں ذہن میں ترتیب دیتے ہیں۔ یادداشت ایسی کہ جزئیات تک ازبر۔ اخبار نویس زچ ہو گئے اور ان میں سے ایک نے کہا: یہ تو بہت مشکل کام ہے۔ کون یہ سب یاد رکھے گا اور کون اس طرح لکھے گا کہ اعتراض وارد نہ ہو۔
خلوت ملی تو تمہید کے بغیر جنرل سے گزارش کی: لگتا ہے کہ پروفیسر صاحب کسی بات پہ ناخوش ہیں۔ آپ کے بارے میں پوچھا تو بولے: چھوڑو یار۔ میرا نام نہ لیجئے گا۔ ناراض ہو گئے تو عمر بھر کی کمائی برباد ہو جائے گی۔ صبح انہیں فون کیجئے گا۔ سن لیں تو خوب ورنہ خرابی ہے۔ گن گن کر لفظ خرچ کرنے والے آدمی نے کہا: آپ جانتے ہیں کہ میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔ ''وہ بھی آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن کہیں کوئی گڑبڑ ہے‘‘۔ 
ولے بخیرگزشت۔ بعد میں پروفیسر صاحب نے ذکر کیا اور نہ جنرل نے۔ ان کے درمیان معمول کی ملاقاتیں جاری رہیں۔ سکھ کا سانس لیا کہ ان دونوں کی پہلی ملاقات ناچیز نے کرائی تھی۔ اس تعلق کو وہ اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔
ساڑھے گیارہ بجے پروفیسر صاحب خلوت کرتے اور بارہ بجے سو جاتے۔ صبح تین بجے اٹھنا ہوتا ہے۔ کیانی صاحب ساڑھے تین‘ پونے چار بجے سوتے ہیں اور صبح سات بجے بیدار ہوتے ہیں۔
راز بہت دن کے بعد فاش ہوا کہ جنرل صاحب آمادہ گفتگو ہوتے اور مروّت میں پروفیسر سنا کرتے۔ ''میں تھک گیا تھا‘‘ انہوں نے کہا۔ ایک دوسرے موقع پر ارشاد کیا تھا: سنجیدہ موضوعات ہوتے ہیں۔ میری مشکل یہ ہے کہ توجہ مبذول رکھنا پڑتی ہے۔ بے توجہی سے سنتا ہوں نہ روا روی میں جواب دے سکتا ہوں۔
میرے لیے یہ بہت مشکل لمحہ ہے۔ لفظ ہاتھ نہیں لگتے اور خود کو تھامنا دشوار ہو رہا ہے۔ ملاقات کی فرمائشیں حسب معمول ہیں کہ غرض مند دیوانہ ہوتا ہے۔ پروفیسر صاحب علیل ہیں؛ اگرچہ بہت زیادہ نہیں مگر نڈھال۔ سہتے اور چپ رہتے ہیں کہ عمر 77 برس ہو گئی۔ کیسے کیسے امتحان اترے مگر کبھی مضمحل نہ ہوئے۔ گھٹنے کا آپریشن ہوا تو درد ناقابل برداشت تھا۔ ذکر تک نہ کیا۔ بہت دن کے بعد مجھے بتایا ''The pain was in human‘‘ کبھی کسی کو ٹالا نہیں‘ کبھی کسی سے ناراض نہ ہوئے۔ مگر اب وہ نہیں چاہتے کہ اس حال میں بھی لوگ انہیں پریشان کریں۔ پرسوں پرلے روز مجھ سے کہا: دعا کیجئے گا۔ صحت کے باب میں یہ تو کبھی نہ کہا تھا۔ چھپانے کی کوشش کی مگر آواز میں نقاہت تھی۔
ایسے میں ان کے کچھ نوآموز شاگرد زخموں پہ نمک چھڑک رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ مہم چلا رہے ہیں کہ انہیں ملک کا صدر بنایا جائے۔ ممنون حسین بنایا جائے؟ اگر علامہ اقبال یونینسٹ پارٹی میں شامل ہو کر پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہو جاتے؟ داتا گنج بخش سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ‘ لاہور کے گورنر بنا دیئے جاتے؟ امام ابن تیمیہؒ کو رکن الدین بیبرس شام کا وائسرائے مقرر فرماتا؟ خواجہ معین الدین چشتی‘ اگر شہاب الدین غوری کے دربار سے وابستہ ہو جاتے؟ خواجہ فریدالدین شکر گنج دلّی تشریف لے جاتے اور بلبن کے شیخ الاسلام ہوا کرتے؟
اللہ کے بندو‘ ہر آدمی کا ایک کام ہوتا ہے۔ درویش کیا درباروں میں جیا کرتے ہیں۔ ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ اخبار اور جلسے کے بغیر‘ جس نے‘ دس لاکھ آدمیوں کو جنگل میں راستہ سجھا دیا‘ کیا وہ ایوانِ اقتدار میں محرّر بن کے بیٹھ رہے گا؟
تمہیں یہ سوجھی کیا ہے۔ اپنے گرامی قدر استاد کی تم توہین کے مرتکب ہو۔ ان سے پوچھ تو لیا ہوتا۔ درویش کی نرم روی اور لطف و کرم کا نتیجہ یہ تو نہ چاہیے کہ تم شوخی پہ اتر آئو۔
اقبالؔ نے کہا تھا: اس میں کوئی تعجب نہیں کہ دو بادشاہ‘ ایک سلطنت میں نہیں سماتے۔ حیرت تو اس پر ہے کہ ایک مومن دو عالم میں کیسے سما جاتا ہے۔ جس آدمی نے جنگلوں اور بیابانوں میں تمہیں راہ دکھائی‘ تم اسے ایک منشی بنا دینے کی بات کرتے ہو‘ ممنون حسین؟
ان کی مقبولیت سے ہراساں‘ رکن الدین بیبرس نے امام ابن تیمیہؒ سے پوچھا: کیا آپ اقتدار کی تمنا رکھتے ہیں۔ ایک تنکا اٹھایا اور کہا: خدا کی قسم‘ تمہاری اور تاتاریوں کی سلطنت مل کر بھی‘ اس تنکے سے کم تر ہے۔
امیرالمومنین ہارون الرشیدؒ نے امام ابو حنیفہؒ کو قاضی القضاء کے منصب کی پیشکش کی تو انہوں نے کہا: میں اس کا اہل نہیں۔ بادشاہ بولا: آپ غلط کہتے ہیں۔ فرمایا: جھوٹ بولنے والا جج کیسے ہو سکتا ہے؟ بعد ازاں کسی سے کہا: میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ سلطنت کی تعمیر کردہ مسجد کی اینٹیں گننے کی ذمہ داری قبول کروں۔ امامؒ نے زنداں میں جان دی۔
الپ ارسلان کے جانشین‘ ملک شاہ نے غزالیؒ سے مدرسہ نظامیہ کا سربراہ بننے کی درخواست کی تو ادب و احترام کے ساتھ۔ انہیں ''امام‘‘ لکھا‘ ''یگانہ عالم‘‘ اور ''انگشت نمائے جہاں‘‘ نو القاب کے ساتھ مخاطب کیا۔ پھر امرا اور جنرلوں سے تائیدی دستخط کرائے۔ اس کے باوجود امام نے انکار کر دیا اور یہ کہا: دربار میں حاضر ہونا پڑے گا اور یہ نہیں ہو سکتا۔ پھر کہا: طوس کے غریب بچوں کو کون پڑھائے گا؟ 
درویش کا کوئی دعویٰ نہیں۔ کوئی نہ پہچانے تو شاد ہوتے ہیں۔ خود کہتے ہیں‘ میں معمولی سا آدمی ہوں۔ عامیوں کی سی بسر کرتے ہیں۔ کسی نے پوچھا: آپ مومن ہیں؟ جواب دیا: مسلمان ہوں اور مومن بننے کی کوشش میں۔ داتا گنج بخشؒ‘ خواجہ معین الدینؒ‘ خواجہ فریدالدین شکر گنجؒ تو بہت دور کی بات ہے‘ بھول کر بھی کسی درویش سے اپنا وہ موازنہ کرتے نہیں۔ اس ناچیز نے ایک بار خواجہ مہر علی شاہ کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا ''Last of the great mystics‘‘ شاگردوں کو توفیق ہو تو لفظ ''Last‘‘ پہ غور کریں۔ توفیق ہو تو غور فرمائیں کہ اللہ نے جسے غنی کر دیا‘ اسے مجبور اور محتاج کیوں بنانا چاہتے ہیں۔ ایک بار مجھی نے پوچھا تھا: آپ کس طرح یاد رکھّے جانے کے آرزومند ہیں۔ کہا: ایک فقیر یعنی ایک سالک اور متلاشی۔ یہ انہی کا قول ہے کہ دعویٰ باطل ہوتا ہے۔ بارہا کہا: عقیدت اور جہالت کا آغاز ایک ساتھ ہوتا ہے۔ مقام و مرتبے اللہ جانے‘ ہم تو بس یہ جانتے ہیں کہ ہمہ وقت روشن ایک قندیل ہے۔ مسافر جس کی روشنی میں سفر کرتے ہیں۔ 
کیویں ساکوں یاد نہ راہسی اوندے گھر دا رستہ
ڈو تاں سارے جنگل آسن‘ ترے تے سارے دریا
عمر بھر جو وہ سکھاتے رہے سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خورشید رضوی نے فقیر کی فکر کو شعر کے سانچے میں ڈھال دیا ہے... اپنے باطن کے چمن زار کو رجعت کر جا/ دیکھ اب بھی روشِ دہر سے وحشت کر جا۔ اپنا چلتا ہوا بت چھوڑ زمانے کے لیے/ اور خود عرصۂ ایام سے ہجرت کر جا۔ مانتا جس کو نہ ہو دل‘ وہ عمل خود پہ گزار/ جو فسانہ ہو اسے چھو کے حقیقت کر جا۔ جاں سے آگے بھی‘ بہت روشنیاں ہیں خورشید/ اک ذرا جاں سے گزر جانے کی ہمت کر جا۔
خواجہ نظام الدین اولیاء نے کہا تھا: کتنے بادشاہ ہو گزرے ہیں‘ نام بھی کسی کو یاد نہیں‘ جنیدؒ و بایزیدؒ یوں لگتا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے۔
تم سے سیانا تو ان پڑھ اور کم کلام منظور ڈرائیور نکلا۔ ایک دن اس نے کہا تھا: کہاں لوگ بادشاہوں کو تلاش کرتے پھرتے ہیں‘ بادشاہ تو یہاں ہیں۔ 
یہ خطا کار اپنے مالک سے کہتا ہے: یا رب عارف کو جیتا رکھنا۔ تیری اس دنیا میں ورنہ کیا باقی بچے گا۔ ان کے بدلے میں اس ادنیٰ کی جان لے لے۔ اس کی جو کچھ بھی نہ کر سکا۔ جس کی کوئی متاع نہیں‘ جو صرف یہ تمنا رکھتا ہے کہ تیری رحمت اسے ڈھانپ لے۔
اللہ کے بندو‘ مٹی کے عوض کبھی کسی نے ہیرا بیچا؟ تم اس ٹھیکرے کے بدلے‘ صحبتِ سعید سے دستبرداری پر آمادہ ہو‘ جس کا نام ایوانِ صدر ہے۔
نور کے بدلے میں خاک؟ ماالحیاۃ الدنیا الاّ متاع الغرور۔ دنیا کی زندگی ایک فریب کے سوا کیا ہے؟ خود فریبی کے سوا کیا؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں