"IKC" (space) message & send to 7575

جوابی بیانیہ نہیں‘ اصل جواب!

تقسیم ایسی گھاتک ہے کہ آدمی تفہیم کے بھی قابل نہ رہا، تفریق ایسی ہے کہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت عنقا ہوئی۔ 
سیاسی اختلاف کا سب کو حق ، مگر یہ اختلاف نہیں، بدبختی ہے کہ سچ کو سچ تسلیم نہ کیا جائے،آدمی جھوٹ کی حمایت پر کمربستہ ہوجائے۔ ایک طرف عمران خان ہیں، جنھوں نے یہ غیرذمے دارانہ موقف پیش کرنا ضروری جانا کہ اگر مراد سعید کی جگہ وہ ہوتے، تو اِس سے بھی زیادہ کر گزرتے، دوسری طرف ہے ن لیگ کی اعلیٰ قیادت، جس نے جاوید لطیف کے نازیبا بیان پر سہولت سے چپ سادھ لی۔ کیا اس طرح ہم برداشت کے کلچرل کو فروغ دیں گے؟ اپنی خواتین کو بااختیار بنانے کا کیا یہی نسخہ ہمارے پاس ہے؟ 
وہ، جسے سیاسی شعور کہتے ہیں، بیشتر سیاسی کارکن اس سے محروم۔ سبب یہ کہ ُانھوں نے اپنی فکر تج دی، اور اپنے قائدین کو اپنا قبلہ مان لیا۔ یوں عدم برداشت کی بنیاد پڑی۔ جیالوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کے بیان کی توجیہہ تلاش کر لی، ایم کیو ایم والے پاکستان مردہ باد کے نعرے کا جواز تراش لائے۔مذہبی اور لبرل جماعتوں کی تفریق نہیں،ہر جگہ ایک سا چلن ۔ سیاسی کارکن کے لیے سوچنا حرام کہ یہ کام اس کے قائدنے سنبھال رکھا ہے۔جناب منور حسن کے متنازع بیانات پر ہم جماعت کا عمومی رویہ بھی دیکھ چکے۔ سیاسی تقسیم کو عدالت کا محفوظ فیصلہ بھی بڑھاوا دیتا ہے، جو سب کے اعصاب پر سوار ہوچکا ۔معاملہ اب اندازوں، تجزیوںسے آگے بڑھ کر دعووں، بلکہ دشنام طرازی تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اضطراب، یہ ہیجان بھی تاریخ میں محفوظ ہوجائے گا۔ کل ہمارے لیے آئینہ بنے گا۔ 
اس معاشرے میں ایک تفریق سیاست نے پیدا کی ، تو دوسری نظریات نے۔ سماج پر نگاہ کیجیے، پڑھا لکھا متوسط طبقہ، جو ترقی کے عمل میں کلید،آج زور شور سے لبرل اور اسلامسٹ کی بحث میں الجھا ہے۔ اور بحث بھی کیا ہے، فقط شور ہے۔ الزامات ہیں۔ کھیل یہ سوشل میڈیا پر بھی کھیلا جارہا ہے، نیوز ویب سائٹس پر بھی۔ اور اس پوری مشق سے فقط ان صاحبان کو فائدہ ہورہا ہے، جو ان افکار کے امام بنے بیٹھے ہیں۔ بتوں کا وزن بڑھتا جاتا ہے۔ عوام بٹتے جارہے ہیں۔
گذشتہ دنوں جناب وزیر اعظم خاصے محترک نظر آئے۔ کبھی ٹھٹھہ پہنچے،کبھی گوادرمیں دکھائی دیے۔ کراچی میں بھی قیام کیا۔ کئی وعدے کیے، دعوے دہرائے۔ دعا ہے، وہ سب سچ ہوں، ان شہروں کے نصیب جاگیں۔ کراچی یوں بھی متقاضی کہ ایک وفاقی جماعت اس کی سیاست میں ظاہر ہو۔ اس کا پھیلا ئواور بگاڑ اب شہری اور صوبائی حکومتوں کے بس سے باہر ہوچکا ۔خیر، وزیر اعظم کے جس بیان نے سب کو چونکادیا ، وہ لاہور میں جامعہ نعیمیہ کے سیمینار میں سامنے آیا، جہاں وہ مذموم مقاصد کے لیے مذہب کے استعمال ، دہشت گردی کے لیے دینی جواز تراشنے کی مذمت کرتے ہوئے علما سے فتووں سے آگے نکلنے کا تقاضا کرتے نظر آئے۔ساتھ کہا؛ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جوابی بیانیہ محراب و منبر سے آئے۔ 
تقاضا تو یہ درست کہ افغان وار، اور اس سے قبل کشمیر کاز کے لیے جب ایک خاص فکر کو جنم دیا گیا، تب بھی محراب و منبر کو برتا گیاتھا، اور اب، جب کہ ایک جوابی بیانیہ درکار ہے، اُن ہی ذرائع کو برتنا ہوگا۔اچھا، پہلا مرحلہ ریاست کی آشیرباد میں طے ہوا تھا۔ اب اگر نیا بیانیہ درکار ، تب بھی ہر طرح کے تذبذب سے ماورا ہوکر، عسکریت پسندوں کی گڈ اینڈ بیڈ کی تقسیم سے ابھرتے ہوئے حتمی اور ٹھوس فیصلے کرنے ہوں گے۔ ساتھ یہ اہتمام بھی ضروری کہ ہولی کی تقریب میں شرکت کے اگلے روز حجاب کے استعمال پر اضافی نمبر جیسا غیرضروری ایشو نہ کھڑا کیا جائے۔۔۔ اورخود سے ہمہ وقت یہ سوال کرتے رہیں کہ کیا اتنا کرنا کافی ہے؟ سوالات ہی سے کرنیں پھوٹتی ہیں صاحب۔ خود سے پوچھیے، کیافوجی آپریشن، سول قیادت کے بیانات اور علما سے ساتھ دینے کا تقاضا اس آگ کو بجھادے گا، جس نے ہماری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،ہماری نسل کے خواب چھین لیے، اور ہمارے social fabric کو جھلسا دیا؟کیا یہ بہت ہے کہ ہم اقلیتوں کے تہوار میں شرکت کریں، کالم نویس جوابی بیانیہ کے حق میں مضامین لکھیں، اور ہم دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہراتے رہیں؟
سچ تو یہ ہے کہ جو انتہاپسندی ہمارے سماج میں سرایت کر گئی ہے، اُسے ختم کرنے کے لیے یہ اقدامات، گو احسن ہیں، مگر ناکافی ہیں کہ انتہاپسندی ہر گزرتے دن کے ساتھ علمی، فکری، سماجی اور اقتصادی پس ماندگی کی تاریکی میں فروغ پا رہی ہے۔ اس انتہاپسندی کی جڑیں ناخواندگی میں پیوست ہیں۔ اس کا بیج غربت کی زمین پر گرا ہے۔ اسے ناانصافی کی توانائی میسر ہے۔ عدم تحفظ کا احساس اس کے لیے پانی کا کام کرتا ہے۔ سازگار ماحول نے اِسے تن آور درخت بنا دیا۔ اور درخت کی شاخوں پر سانپوں نے بسیرا کر لیا۔ہماری عورتیں اور بچے قتل ہوئے، مزاروں کے گنبد گہنا گئے، درس گاہیں سرخ ہوئیں، اور شہروں کی فضا راکھ سے اٹ گئی۔ 
یہ کٹھن حالات متقاضی ہیں کہ نظریاتی محاذکے ساتھ علمی و اقتصادی محاذ پر بھی ایک جامع آپریشن شروع کیا جائے۔ بھوک کا جواب روٹی ہے، بے گھری کاجواب چھت۔ شیخ سعدی نے کہا تھا: علم شیطان سے جنگ میں بہترین ہتھیار ہے۔ معاشرے کو تعلیم یافتہ بنائے بغیر،یکساں مواقع کی فراہم کے بنا تبدیلی کا خواب دیکھنا ایک لاحاصل مشق ہے۔ انتہاپسندی سے نجات کی خواہش ہے، تو ناخواندگی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوگا۔ دہشت گردی سے پیچھا چھڑانا ہے، تو بے روزگار ی کا سدباب کرنا ہوگا۔ انصاف اور تحفظ کی فراہمی ممکن بنانی ہوگی۔ تفریق اور تعصب کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ 
یہ 80 کی دہائی نہیں۔عالمگیریت نے فقط دو عشروں میں دنیا کا نقشہ بدل دیا ۔ ماضی کا طریقۂ کار اب کارآمد نہیں۔ آپ ناخواندگی، غربت، ناانصافی، عدم تحفظ اور تفریق ختم کیے بغیر کوئی جوابی بیانیہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ اگراس عفریت سے نجات چاہتے ہیں، تو انصاف کے تقاضے پورے کریں، نئی نسل کو تعلیم اور روزگار دیں، تحفظ فراہم کریں، انھیں اسلامسٹ لبرل ، شیعہ سنی ، پٹھان مہاجر کی تفریق سے اوپر اٹھنے کی راہ دکھائیں۔ تربیت کریں کہ وہ اشیاء ، افراد اورواقعات کو اپنے لسانی، طبقاتی، صنفی اور مذہبی عینک سے دیکھنے کے بجائے، صحیح اور غلط کی عینک سے دیکھیں۔ یہی جوابی بیانیہ ہے، جو انتہاپسندی اور دہشت گردی کا جواب ثابت ہوگا۔
مگر اس سے قبل ہماری قیادت کو خود میں، سیاسی اختلافات سے ابھر کر، صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی جرأت پیدا کرنی ہوگی۔
معاشرے کو تعلیم یافتہ بنائے بغیر،یکساں مواقع کی فراہم کے بنا تبدیلی کا خواب دیکھنا ایک لاحاصل مشق ہے۔انتہاپسندی سے نجات کی خواہش ہے، تو ناخواندگی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوگا۔ دہشت گردی سے پیچھا چھڑانا ہے، تو بے روزگار ی کا سدباب کرنا ہوگا۔ انصاف اور تحفظ کی فراہمی ممکن بنانا ہوگی۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں